قطرے کی زندگی کیا!

موضوعات کی کمی نہیں، لیکن اکثر یہ ہوتا ہے کہ سوچیں کچھ اور لکھنا کچھ پڑتا ہے۔ ایسا ہی آج بھی ہوا کہ صبح صبح اپنے چھوٹے بھائی طیب جاوید کے نوجوان صاحبزادے کی نماز جنازہ کے لئے حاضری دی تو موسم بہتر ہو گیا تھا،بادل آئے اور ہوا بھی چل رہی تھی، ایسا ہوا کہ جونہی جنازہ اٹھا، بارش شروع ہوگئی اور تھوڑی ہی دیر میں جل تھل ایک ہو گیا۔ نیو مسلم ٹاؤن مارکیٹ کی جامع مسجد تک جاتے جاتے شرکاء شرابور ہو چکے تھے، مسجد بھی بھر گئی اور آنے والے بھیگتے ہوئے آتے رہے۔ نوبجے کا وقت تھا اس میں کچھ تاخیر کی گئی کہ بارش رک جائے تاہم بارش ہلکی ہونے پر نماز جنازہ کا فرض کفایہ بھی ادا کر دیا گیا اور نوجوان اپنے پیچھے جوان اہلیہ اور والدین کو سوگوار چھوڑ کر اپنی آخری منزل پہنچ گیا۔ معذرت خواہ ہوں کہ حالات کے جبر کا ذکر کرنا پڑا۔ ادھریہ صورت حال ہے تو دوسری طرف طیب جاوید کے بہنوئی میاں جمیل بولٹن (برطانیہ) میں صاحب فراش ہیں، ان کی طبیعت زیادہ خراب ہونے پرہسپتال داخل کر انا پڑا، میاں جمیل کے اپنے تینوں صاحبزادوں کا تعلق بھی طب سے ہے اور تینوں ہی ڈاکٹر ہیں اور اپنے اپنے شعبہ کے ماہر بھی، بڑا صاحبزادہ وقاص جمیل تو ماشاء اللہ سینئر ہے یہ اطلاع ملی تو صبح سے دل چاہ رہا ہے کہ خود اپنی صاحبزادی سے بھی بات کر لوں جو برمنگھم کی کاؤنٹی کے ہسپتال میں زیر علاج ہے اور گزشتہ روز اس کے اپنڈکس کا آپریشن ہوا جو خود اسی ہسپتال والوں کے مکمل تشخیص نہ کر سکنے کے باعث تاخیر کا باعث بنا اور مروجہ جراحی سے زیادہ وقت لگا، اب یہ تحریر مکمل کرنے کے بعد ہی بات کر سکوں گا، بہرحال میرے داماد عظمت نے گزشتہ روز بتا دیا تھاکہ ڈاکٹروں کے مطابق آپریشن ٹھیک ہوگیا تاہم معمول سے بڑا ہونے کی وجہ سے احتیاط لازم ہوگی اور صحت یابی کا وقت بڑھ بھی سکتا ہے۔یہ تمام حالات ہیں جن کے باعث ذہن منتشر اور لکھنے پر مائل نہیں ہو رہا، تاہم یہ بھی فریضہ نبھانا تو ہے اس لئے سوچا ہوا موضوع چھوڑ کر گزشتہ روز کے کالم ہی کو آگے بڑھانا ہوگا کہ ایران۔ امریکہ تنازعہ کے حوالے سے ملنے والی خبروں نے میری اس بات کو تقویت دی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جان بوجھ کر اپنے حلیفوں اور حریفوں کا مزہ لے رہے ہیں اور ہر مثبت بات کو منفی بنا دیتے ہیں، اچھی بھلی خبریں مثبت تھیں اور خود ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید توقعات بھی بڑھا دیں کہ آبناء ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر دی اور جنگی جہازوں کو اجازت دے دی کہ وہ واپسی کا سفر اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس کے ساتھ مزید امید افزاء گفتگو بھی کی لیکن ساتھ ہی رنگ میں بھنگ ڈال دیا کہ طے شدہ معاملات کی منظوری نہ دی اور میمورنڈم آف انڈر سٹینڈنگ مکمل طور پر منظور نہ ہو پایا، اطلاعات کے مطابق پورا طریق کار طے ہو چکا اور اعلان باقی ہے اسی باعث پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں کمی ہوگئی اور اطلاعات ہیں کہ مزید کمی ہوگی اور اگر معاہدہ ہو گیا اور یادداشت پر دستخط ہو گئے تو ان کے جلد معمول پر آنے کا یقین ہے جس سے عالمی منظر نامے میں سہولت کا دخل بھی ہو جائے گا۔

ابھی تو پاکستان میں اتنا ہی اثر ہواکہ 22 روپے فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل کے نرخ کم کر دیئے۔ عوام زیادہ توقع لگا بیٹھے تھے لیکن ان کو شاید علم نہیں کہ بجٹ بھی تو آ رہاہے جس کا خسارہ پورا کرنے کے لئے عوامی سرہی منڈھے جائیں گے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ ٹرمپ اپنی عادت اور مزاج کے خلاف مشترکہ یادداشت پر دستخط کر ہی دیتے اور جنگ ختم ہو جاتی۔ میں کسی کی ترجمان کا تو کوئی حق نہیں رکھتا، لیکن یہ عرض کر سکتا ہوں کہ عوام کی خوشی اور بھلائی اسی میں ہے کہ جنگ ہی نہیں، خلفشار بھی ختم ہو اور سکھ کا سانس آسکے، ورنہ یہاں تو یہ حال ہے کہ دو روز قبل لیموں کی ضرورت پڑی۔ اپنے محلے کے سبزی فروش سے لئے تو اس نے بارہ سو روپے فی کلو کے حساب سے دیئے۔ یہی لیموں گزشتہ روز اقبال ٹاؤن کی سبزی منڈی تک جا کر لئے کہ دکاندار عیدالاضحی کی وجہ سے پیاز، لہسن، ٹماٹر وغیرہ فروخت کرنے کے لئے بیٹھ گئے تھے ان سے بہتر لیموں چھ سو روپے فی کلو ملے یوں اندازہ لگالیں کہ حالات نے قوم کو کس درجہ تک پہنچا دیا ہے۔

فالتو ذکر تو آپ بیتی اور جگ بیتی کے حوالے سے ہو گیا کہ اگر مشرق وسطیٰ کے تنازعہ کے باعث اثرات ہیں تو ہم کس مرض کا علاج کر رہے ہیں کہ جس کو موقع ملتا ہے وہ گوشت نوچ لیتا ہے،بہرحال گزشتہ روز ذکر کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ”ابراہم اکارڈ“ پر دستخط کرنے کے لئے تحکمانہ لہجہ اختیار کیا اور مسلم ممالک نے ردعمل نہیں دیا۔ شکر ہے کہ ہمارے وزیرخارجہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے امریکی وزیرخارجہ سے ملاقات کے بعد سفارتخانہ پاکستان میں ایک پریس کانفرنس کی اور اس میں ریاست کے سابقہ موقف کو دہرایا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پاکستان اپنے موقف پر قائم ہے کہ پہلے مسئلہ فلسطین حل ہو، میرے خیال میں معترضین کو اب توقف کرنا چاہیے اور نیا اعتراض بے جا ہے کہ ڈار صاحب نے تجویز مسترد کیوں نہیں کی۔ جب وہ سابقہ موقف کی بات کرتے ہیں تو معنی یہی ہیں کہ پاکستان اسرائیل کو فلسطینی ریاست کے قائم ہونے تک تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، یہ بھی غنیمت ہے۔

زیادہ طویل بات کرنے کی نسبت بہتر ہے کہ حالات کا جائزہ پھر لیا جائے ایران۔ امریکہ جنگ ختم ہونے کے باعث پاکستان کو بھی فوائد ملیں گے جس کا ذکر ماہر معیشت کررہے ہیں تاہم میرے نزدیک اس جنگ کی برکت یہ بھی ہے کہ گرم جنگ کے دوران ایران کی طرف سے بعض ہمسایہ ممالک میں امریکی اڈوں کے حوالے سے جو جنگی کارروائیاں کی گئیں ان کی وجہ سے خود اسلامی ممالک کے درمیان جھڑپوں کا اندیشہ تھا لیکن ہمسایہ ممالک اور خود ایران کی طرف سے بیانات اور رابطوں کے ذریعے اس تاثر کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی کہ برادر اسلامی ملک کا لحاظ نہیں رکھا گیا اس میں بھی پاکستان کا کردار ہے، یہ خوش آئند ہے کہ ردعمل میں یہ ریاستیں یا ملک الجھے نہیں ورنہ یہ خدشہ موجود تھا کہ خود مسلمان آپس میں الجھتے اور اسرائیل موج کرتا،جو اب بھی ان حالات سے مستفید ہو رہا ہے اور تسلسل سے غزہ اور لبنان کے خلاف جارحیت کرتا چلا جا رہا ہے۔ اسرائیل کے اس ظالمانہ اقدامات کے خلاف تو اب اس قدر آوازیں بھی بلند نہیں ہوتیں، جیسا کہ پہلے ہوتی تھیں، عرض یہی ہے کہ اب بھی وقت ہے مسلمان ممالک عقل کریں اور اپنے اختلافات ختم کرکے ایک پلیٹ فارم پر متحدہوجائیں، اسی طرح مخالف جارحیت کا مقابلہ ممکن ہو سکے گا۔