رضا علی عابدی ہماری صحافت کا اہم حوالہ ہیں۔ وہ بی بی سی اردو سروس کی آواز ہی نہیں پہچان بھی رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب لوگ رات8سے9بجے تک صرف بی بی سی کی خبریں اور خاص طور پر سیربین کا انتظار کرتے اور یہ آواز’یہ بی بی سی اردو سروس ہے‘ کسی اور کی نہیں زیادہ تر رضا علی عابدی یا وقار احمد کی ہوتی تھی۔ سیربین ہمارے آج کے ٹاک شوز کی مانندنہیں بلکہ معلوماتی ہوتا تھا۔ حال ہی میں عالمی شہرت یافتہ شاعر،صحافی،مدیر فیض احمد فیض کی یاد میں لندن میں فیض فیسٹیول میں شرکت کا موقع ملا تو عابدی صاحب جواب ماشااللہ91برس کے ہوگئے ہیں ،سے ملاقات کیلئے دوست یوسف ابراہیم کے ساتھ گیا تو انکی آواز سن کر70اور80کی دہائی یاد آگئی۔ ارادہ تو یاور بھائی( یاور عباس) اور ماہ پارہ صفدر سے ملاقات کا بھی تھا مگر وہ ہونہ سکی جس میں قصور میرا ہی ہے۔
عابدی صاحب سے بھی لندن میں بس آخری دن ملاقات ہوئی وہ بھی شاید رہ جاتی کیونکہ یوسف اچانک ان کا گھر بھول گئے اور ہم چکر ہی لگاتے رہے۔پھر اچانک یوں ہوا جیسے انکی ’یادداشت‘ واپس آگئی اور گلی مل گئی۔ دوپہر کا وقت تھا کچھ گرمی بھی تھی جو شاید اب لندن کا حصہ بننے جارہی ہے اور اطلاع یہ بھی ہے کہ اس بار سردی بھی غضب کی پڑے گی۔ لڑکے نے دروازہ کھولا تو پہلا سوال یہی تھا،’ سوتو نہیں رہے‘ جواب سے اطمینان ہوا۔ کمرے میں داخل ہوئے تو آرام فرما رہے تھے ہمیں دیکھ کرجو ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی وہ مدتوں یاد رہے گی۔ اسی لڑکے نے انکو سامنےصوفہ پر بٹھا دیا، ہم کرسی قریب کرکے بیٹھ گئے۔ باتوں سے اندازہ ہوا کہ یوسف ان کے پاس نہ صرف آتے رہتے ہیں بلکہ ’گاجر‘ کا حلوہ بھی لاتے ہیں جو وہ اس بار بھول گئے، گھنٹے سے زیادہ کی اس ملاقات میں انہوں نے نہ صرف پاکستان کے حالات کے بارے میں بلکہ اپنے پرانے دوستوں خاص طور پر غازی صلاح الدین کے بارے میں پوچھا۔ وسعت اللہ کا بھی ذکر آیا اور جب انہوں نے بتایا کہ وہ پچھلے سال عالمی اردو کانفرنس میں آنا چاہتے تھے مگر صحت نے اجازت نہ دی تو میں نے آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ سے ان کی بات کروادی۔ اس عمر اور بیماری میں بھی جب انہوں نے اپنی انگلیوں کی جنبش سے ٹائپ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو یقین جانیں آنکھیں نم ہوگئیں میری ۔پھر یہ اطلاع بھی دےڈالی کہ برابر والے کمرے میں اسٹوڈیو تیار ہے یعنی تیاری مکمل ہے۔ بہرحال یادگار ملاقات رہی۔
لندن میں تقریباً 20دن قیام رہا جس میں میرا کم اور یونیورسٹی کے دوست اکرم قائم خانی اور انکی اہلیہ نجمہ کا زیادہ عمل دخل ہے۔ اکرم کئی سال سے فیض فیسٹیول کروارہا ہے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ جس میں پرانے این ایس ایف کے دوست بھی شامل ہیں۔ اسی بہانے لندن، برمنگھم اور کچھ دیگر شہروں کے دوست پروگرام کروالیتے ہیں جس میں ایک مشترکہ موضوع ’حالت حاضرہ‘ ہوتا ہے، فیسٹیول میں فیض صاحب کی صاحبزادی منیزہ ہاشمی کی موجودگی اہم تھی۔
خواہش توتھی پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان آخری ٹیسٹ میچ دیکھنے کی مگر نہ اب ایسی ٹیم رہی نہ ایسے کھلاڑی، پتا چلا میرے پہنچنے سے کچھ دن پہلے ہی ایشین بریڈ مین ظہیر عباس کی کتاب کی تقریب ہوئی تھی۔ ظہیر بھائی کیساتھ گزشتہ سال میں نے لندن میں ہی پروگرام کیا تھا۔ بس اس بار قمراحمد کی کمی محسوس ہوئی ہمارا ساتھ ہی آنے کا پروگرام تھا۔ پچھلے سال اکرم کے گھر پر ملنے آئے تھے۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا لارڈز دکھانے کا مگر اس وقت گراؤنڈ کی حالت ٹھیک نہیں تھی۔اسی فیسٹیول کے دوران ایک یادگار ملاقات ملالہ یوسف زئی کے والدین سے ہوئی انکے والد ضیاء الدین کی گفتگو تو میں پہلے بھی سن چکا ہوں مگر جس انداز اور اعتماد سے والدہ نے گفتگو کی وہ واقعی چونکا دینے والی تھا۔ انہوں نے انگریزی یا اردو میں نہیں بلکہ اپنی مادری زبان پشتو میں کھل کر باتیں کیں جس کاترجمہ اسٹیج پر بیٹھے ہی ایک مہمان نے کیا۔ اس گفتگو میں ایک درد تھا کہ ہمارےمعاشرےمیں خاص طور پر قبائلی علاقوں میں عورت تعلیم حاصل نہیں کرسکتی۔’’ ہمارے گھر میں جب پہلی بار ٹی وی آیا تو صرف مردوں کو دیکھنے کی اجازت تھی۔ ایک بار میں نے پردے کے پیچھے سے دیکھا تو کوئی خاتون بول رہی تھی جسے دیکھ کر خواہش ہوئی کہ میں کیونکر ایسی نہیں ہوسکتی‘‘۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ملالہ بچیوں کی تعلیم کیلئے کام کررہی ہے باقی تنازع آج کا موضوع نہیں۔
لندن سے برمنگھم گئے تو وہاں کی سٹی کونسل کے لارڈ مئیر ذاکر چوہدری صاحب، جو چند ماہ پہلے ہی نامزد اور منتخب ہوئے ہیں، سے ملاقات ہوئی اور کونسل کا بجٹ ساڑھے چار ارب پونڈ سن کر اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ بلدیاتی نظام کتنا مضبوط ہے۔ لال بسیں تو ہم بھی لے آئے ہیں پر ویسی سڑکیں کہاں سے لائیں۔ راستے میںPeterborough میں رات قیام کیا تو کئی پاکستانی صحافی دوستوں سے ملاقات رہی۔ کشمیر کے حوالے سے پریشانی واضح تھی جسکی ایک بڑی وجہ ان میں سے کچھ کا کشمیری ہونا بھی تھا، برطانیہ میں کشمیریوں کی خاصی تعداد ہے اتنی کہ کئی تو پارلیمنٹ اور کونسلوں میں منتخب ہوکر آتے ہیں۔ دوسرا اہم موضوع نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بھی رہا جس پر رائے منقسم نظر آئی۔ فیض فیسٹیول میں بھی ایک سیشن یہی تھا۔
جامی چانڈیو، نصیر میمن، خالد کھوکھر کیساتھ دلچسپ مکالمہ ہوا۔ مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام پرسب ہی متفق ہیں۔مگر برطانیہ کیا دنیا کے کئی ممالک میں’ریاست‘جو کردار ادا کرتی ہے وہ واقعی کسی ماں کے کردار سے کم نہیں اور اگرہمارے یہاں صرف ریاست ماں کا کردار ادا کرلے تو نہ صوبوں کی تقسیم کی ضرورت ہو نہ ہی انتظامی یونٹس کی۔ کئی دوست جو دہائیوں سے لندن یا دیگر شہروں میں رہ رہے ہیں سب کی اپنی کہانیاں ہیں البتہ ایک قدر مشترک ہے کہ انہیں اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر نہیں وہ ریاست کی ذمہ داری ہے اور وہ احسن طریقہ سے ادا کررہی ہے چاہے تعلیم ہو یا صحت ، کچھ دوست پاکستان میں صحافت کرتے تھے اب وہاں رہتے ہیں نوکری یا کاروبار کوئی بڑا نہیں مگر اطمینان یہ ہے کہ ریاست ان کے بچوں کا خیال رکھتی ہے۔ اب تو بچوں کوناشتہ بھی حکومت کی طرف سے اسکولوں میں ملتا ہے۔ جوریاست تعلیم، صحت،روزگار یہاں تک کے سروں پر چھت کی ذمہ داری بھی لیتی ہے اس کو وہاں کے عوام ٹیکس بھی دیتے ہیں۔محض برطانیہ کی طرح لال بسیں اور ڈبل ڈیکر سڑکوں پرلانے سے نظام بہتر نہیں ہوتا ریاست کو ذمہ داری لینی ہوتی ہے اپنے شہریوں کی ۔ہماری اشرافیہ نہ صرف وہاں اکثر اوقات جاتی ہے بلکہ کئی کی شہریت بھی ہے کاش جن قوانین پر وہ وہاں عمل کے پابند ہیں وہ اپنے ملک میں بھی نافذ کردیں بس اتناہی فرق ہے وہاں اور یہاں میں۔ وہاں قانون کی حکمرانی ہے اور یہاں حکمرانوں کا قانون۔

