ماورائے عدالت ہلاکتوں کو انصاف قرار دینے پر حنا پرویز بٹ تنقید کی زد میں آگئیں

لاہور (نمائندہ خصوصی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکنِ پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ کو دو الگ واقعات میں پولیس کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے ملزمان کی موت کو انصاف قرار دینے پر صحافیوں، وکلا اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ انسانی حقوق کے حلقوں نے بھی ان واقعات میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

حنا پرویز بٹ نے ملتان میں 15 سالہ وسیم عباس کو گاڑی تلے کچل کر ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار توقیر نذیر کی موت سے متعلق خبر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شیئر کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق توقیر نذیر بہاولپور کے قریب پولیس مقابلے میں ہلاک ہوا۔

پولیس کا دعویٰ تھا کہ توقیر نذیر حراست سے فرار ہوگیا تھا اور اسے دوبارہ گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران اس کے مبینہ ساتھیوں نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ تاہم، واقعے کی تفصیلات اور پولیس کے مؤقف کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

حنا پرویز بٹ نے بعد ازاں حذف کی جانے والی اپنی پوسٹ میں پنجاب حکومت کی تعریف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ مریم نواز کی حکومت ہے، جہاں فوری انصاف فراہم کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب حنا پرویز بٹ نے اس سے قبل طالبہ لائبہ اعجاز کے معاملے میں بھی ایک خبر شیئر کی تھی، جس میں محمد نعمان کی ہلاکت کا ذکر تھا۔ محمد نعمان پر یونیورسٹی کی طالبہ کے ساتھ دھوکا دہی کا الزام تھا اور اطلاعات کے مطابق وہ اسلام آباد میں پولیس ٹیم پر حملے کے دوران ہلاک ہوا۔

اس واقعے پر حنا پرویز بٹ نے لکھا تھا: ’’الحمدللہ، لائبہ کو انصاف مل گیا۔‘‘ ان کے اس بیان پر بھی سوالات اٹھائے گئے کہ کسی ملزم کی موت کو عدالتی کارروائی اور فیصلے کے بغیر انصاف کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے توقیر نذیر کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ کمیشن نے زور دیا کہ ایسے واقعات میں قانونی تقاضوں، منصفانہ کارروائی اور جواب دہی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

یہ معاملہ ایک بار پھر اس سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ سنگین جرائم کے الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی میں قانون اور عدالتی عمل کی پابندی کیسے یقینی بنائی جائے۔ کسی شخص کے خلاف الزام اور اس کا عدالت سے جرم ثابت ہونا دو الگ معاملات ہیں، جبکہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے حالات کا تعین شفاف تحقیقات کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔