مصنوعی ذہانت اور کرپٹو کا دور

انسانی تاریخ دراصل ارتقاء کی داستان ہے،سوچ ، نظام اور سہولت کے ارتقاء کی کہانی ،موجودہ جدید دور میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں یہ ارتقاء اگرچہ کچھ تاخیر سے آیا ، مگر جب آیا، اس نے معاشرے اور نظام کو گہرائی سے متاثر کیا، آج جب ہم مصنوعی ذہانت ،کرپٹو گرافی اور کرپٹو کرنسی کی بات کرتے ہیں تو اکثر پاکستانی اس سے واقف نہیں اور اگر اس بارے کچھ جانتے ہیں تو انہیںاس کی اہمیت کا اندازہ نہیں،یہ محض جدید اصطلاحات نہیں بلکہ ایک طویل تجربے اور ریسرچ کے سفر کا منطقی انجام ہیں،ایک ایسا سفر جو کمپیوٹر کے ابتدائی دور سے شروع ہو کر آج مصنوعی ذہانت اور کرپٹو معیشت تک پہنچ چکا ہے۔

زیادہ دور کی بات نہیں پاکستان میں کمپیوٹر کا آغاز ایک”عجیب و غریب مشین”کے طور پر ہوا، ابتدا میں اسے صرف بڑے اداروں، بینکوں اور سرکاری دفاتر تک محدود رکھا گیا1980 اور 1990 کی دہائی میں جب کمپیوٹر آہستہ آہستہ دفاتر میں داخل ہوا تو بہت سے لوگوں نے اسے محض ایک ٹائپ رائٹر کا جدید ورژن سمجھا مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ بڑی تھی،کمپیوٹر نے دفتری نظام میں وہ تبدیلی پیدا کی جو صدیوں میں بھی ممکن نہ تھی، جہاں پہلے ایک فائل کو مکمل ہونے میں ہفتے لگتے تھے وہی کام اب چند گھنٹوں میں ممکن ہونے لگا، ریکارڈ کی حفاظت بہتر ہوئی، حساب کتاب میں غلطیوں میں کمی آئی اور سب سے بڑھ کر “رفتار”پیدا ہوئی،یہ وہ دور تھا جب ٹائپ رائٹر آہستہ آہستہ ختم ہونے لگا کاغذی فائلوں کے ساتھ ساتھ “ڈیجیٹل فائلیں”بننے لگیں اور دفتری کلچر میں ایک نئی سوچ داخل ہوئی، ابتدا میں مزاحمت بھی ہوئی، کچھ لوگوں نے کہا”یہ مشینیں انسانوں کی جگہ لے لیں گی”مگر وقت نے ثابت کیا کہ کمپیوٹر نے انسان کو بے کار نہیں بلکہ زیادہ مؤثر بنا دیا،کمپیوٹر کے آنے سے پاکستان کے دفتری نظام میں ایک واضح تبدیلی آئی، جہاں پہلے ہر چیز کاغذ پر منحصر تھی وہاں اب ڈیٹا بیس بننے لگے۔

بینکنگ سسٹم کمپیوٹرائز ہواسرکاری ریکارڈ ڈیجیٹل ہونے لگا تعلیمی اداروں میں آن لائن رجسٹریشن کا آغاز ہوا یہ تبدیلی صرف سہولت تک محدود نہیں تھی بلکہ اس نے شفافیت کو بھی بڑھایا، اب ریکارڈ کو چھپانا یا تبدیل کرنا پہلے کی نسبت مشکل ہو گیا، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کمپیوٹر نے بیوروکریسی کو ایک نئی “رفتار” دی اگرچہ کبھی کبھی وہی پرانی”فائل والی رفتار”بھی ساتھ چلتی رہی،مگر انٹرنیٹ کا دور تو کمال ہو گیا ، دنیا ایک سکرین پر کمپیوٹر کے بعد سب سے بڑا انقلاب انٹرنیٹ تھا،اگر کمپیوٹر نے دفاتر کو بدلا تو انٹرنیٹ نے دنیا کو جوڑ دیا۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کے پھیلاؤ نےمعلومات تک رسائی آسان کر دی کاروبار کے نئے مواقع پیدا کیےاور نوجوان نسل کو عالمی دنیا سے جوڑ دیا اب ایک طالب علم گاؤں میں بیٹھ کر بھی عالمی سطح کی معلومات حاصل کر سکتا تھاایک فری لانسر گھر بیٹھے ڈالر کما سکتا تھا،یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان”لوکل”سے “گلوبل”سسٹم کی طرف بڑھا۔

پھر کمپیوٹر سے آگے کا مرحلہ آیا ، کمپیوٹر نے کام کو تیز کیا تو مصنوعی ذہانت نے اسے “سمجھدار” بنا دیا، یہ دراصل کمپیوٹر کا اگلا مرحلہ ہے جہاں مشین صرف ہدایات پر عمل نہیں کرتی بلکہ ڈیٹا سے سیکھتی بھی ہے، پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا استعمال اب مختلف شعبوں میں نظر آ رہا ہے،پولیس جرائم کی پیش گوئی کیلئے ڈیٹا استعمال کر رہی ہےصحت کے شعبے میں بیماریوں کی تشخیص بہتر ہو رہی ہے،تعلیم میں طلباء کی کارکردگی کا تجزیہ کیا جا رہا ہے ،یہ وہ مقام ہے جہاں کمپیوٹر محض ایک “ٹول” نہیں بلکہ ایک”ساتھی” بن گیا ہے۔

گویا پہلے افسر فیصلہ کرتا تھا اور کمپیوٹر مدد دیتا تھا،اب کمپیوٹر مشورہ دیتا ہے اور افسر فیصلہ کرتا ہے،یہ سونے پہ سہاگہ تھا ،مصنوعی ذہانت اور انسانی نظام کا ملاپ اگر کمپیوٹر انقلاب تھااور رفتار دیتا ہےتو اے آئی ذہانت دیتی ہےجب دونوں مل جاتے ہیں تو نظام نہ صرف تیز بلکہ مؤثر بھی ہو جاتا ہے،ملک میں یہ ہو رہا ہے ڈیجیٹل سسٹمز کے ساتھ مصنوعی ذہانت کا امتزاج ایک نئے طرزِ حکمرانی کو جنم دے رہا ہے جسے ہم “سمارٹ گورننس” کہہ سکتے ہیں۔

اب جائزہ لیتے ہیں کرنسی کے نظام کا ،یہ بارٹر سسٹم سے شروع ہو کر بینکنگ ، ڈیجیٹل اور اب کرپٹو کرنسی تک جا پہنچا ہے، اگر ہم معیشت کی طرف آئیں تو یہاں بھی ایک طویل سفر نظر آتا ہے،ابتدا میں انسان نے بارٹر سسٹم استعمال کیا یعنی چیز کے بدلے چیز،مثلاً گندم کے بدلے کپڑا، یا دودھ کے بدلے اناج،مگر اس نظام میں مسائل تھے، ہر چیز کا تبادلہ ممکن نہیں تھا قیمت کا تعین مشکل تھااور لین دین پیچیدہ تھااسی لیے کرنسی وجود میں آئی ،سکے ، نوٹ، بینکنگ سسٹم پھر ڈیجیٹل فنانس اور اب کرپٹو، بینکنگ نے معیشت کو استحکام دیا،لوگوں نے بنکوں کو پیسے کا محافظ سمجھ لیا ،بنک سے قرضے ملنے لگے، اور کاروبار پھیلنے لگا،پھر ڈیجیٹل بینکنگ کا دور آیا ،آن لائن ٹرانسفر ،موبائل بینکنگ ، ای کامرس اب پیسہ ہاتھ میں نہیں بلکہ اکاؤنٹ میں ہوتا ہے اور بنک آپ کے سمارٹ فون میں آ گیا ہے۔

اب ہم ایک اور بڑے انقلاب کے دہانے پر کھڑے ہیں وہ ہے کرپٹو کرنسی اور کرپٹو گرافی، یہ وہ مرحلہ ہے جہاں پیسہ مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جاتا ہے بلاک چین ٹیکنالوجی شفافیت فراہم کرتی ہے ، لین دین تیز اور سستا ہو جاتا ہے، انٹرنیشنل ٹریڈ اس میں ہو رہی ہے ،پاکستان میں اگرچہ یہ نظام ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر اس میں دلچسپی تیزی سے بڑھ رہی ہے، رئیل اسٹیٹ کی بجائے اب نوجوان نسل خاص طور پر کرپٹو میں انوسٹمنٹ کی طرف مائل ہو رہی ہے، کیونکہ یہ عالمی مارکیٹ سے جڑی ہے اس میں مواقع زیادہ ہیں اور روایتی نظام سے ہٹ کر ہے مگر ہر دور کی آزمائش بھی ہوتی ہے ، ہر انقلاب اپنے ساتھ چیلنجز بھی لاتا ہے،کمپیوٹر کے دور میں تربیت کا مسئلہ تھا ،انٹرنیٹ کے دور میں معلومات کی زیادتی کا ،اور اب کرپٹو کرنسی میں سیکیورٹی اور ریگولیشن کا تھوڑا سا مسئلہ ہے اور پاکستان کو بھی انہی چیلنجز کا سامنا ہے۔

سائبر کرائم،ڈیجیٹل فراڈاور پالیسی سازی کی کمی ، مگر ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کا مستقبل اس سے جڑا ہے ،ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں کرپٹو یا روایتی انوسٹمنٹ ؟ پاکستانیوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس تبدیلی کو کس حد تک اپناتے ہیں ،اگر ہم تعلیم کو جدید بنائیں،ٹیکنالوجی کو فروغ دیں اور پالیسی سازی کو بہتر کریں،تو ہم نہ صرف اس انقلاب کا حصہ بن سکتے ہیں بلکہ اس میں آگے بھی نکل سکتے ہیں۔حرف آخر یہ کہ زندگی اور نظام ایک مسلسل سفر ہے ، کمپیوٹر سے مصنوعی ذہانت تک، بارٹر سے ڈیجیٹل اور اب کرپٹو کرنسی،کرپٹو گرافی تک ، یہ سفر دراصل انسان کی سہولت، رفتار اور بہتری کی تلاش کی کہانی ہے، یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا جاری ہے، کل کلاں کو شاید مصنوعی ذہانت خود ہی معیشت چلا رہی ہو اور کرپٹو کرنسی ہی واحد کرنسی ہو،مگر ایک بات طے ہے،جو قومیں اس تبدیلی کو سمجھ لیں گی وہ آگے بڑھیں گی،اور جو اسے نظر انداز کریں گی وہ پیچھے رہ جائیں گی۔