کراچی(خبر ایجنسیاں) نوجوان تاجر میر رضا علی کے والد میر حسین علی نے کہا ہے کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا، وہ خودکشی نہیں کرسکتا تھا، اور جس دن سے لاش ملی ہے وہ مسلسل یہی مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے میر حسین علی نے کہا کہ ان کا بیٹا تعلیم یافتہ تھا اور خودکشی جیسا قدم نہیں اٹھا سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ نرسری کے ایک ملازم نے انہیں بتایا کہ 28 جولائی کو وہاں ان کے بیٹے کی لاش موجود نہیں تھی، جبکہ اس نے لاش 29 جولائی کو دیکھی۔
میر حسین علی کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے پر تشدد کیا گیا تھا اور اہل خانہ نے اس کی شناخت کپڑوں سے کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیٹے کے ہاتھ جلے ہوئے تھے اور اسے بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان کا خاندان انصاف کا مطالبہ کرتا ہے۔ اگر دوبارہ پوسٹ مارٹم کی ضرورت پیش آئی تو وہ اس بارے میں اپنی اہلیہ اور بیٹی سے مشاورت کریں گے۔
میر رضا علی کے والد نے کہا کہ اگر ان کے بیٹے نے خودکشی ہی کرنی ہوتی تو وہ دکان، گاڑی یا گھر میں بھی ایسا کرسکتا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ان کا بیٹا محض تین یا ساڑھے تین کروڑ روپے کے لیے خود کو گولی مار سکتا تھا، ان کے بقول ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا بیٹا پہلے کبھی دکان سے پستول گھر نہیں لایا تھا۔ ان کے مطابق اگر رضا نے واقعی اپنی تمام چیزیں حذف کر دی تھیں تو پھر وہ اپنا موبائل فون ساتھ لے کر کیوں گیا، اسے گھر پر بھی چھوڑ سکتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا رات گئے دکان سے واپس آتا تھا اور گھڑی سمیت دیگر قیمتی اشیا گھر میں رکھ کر باہر جاتا تھا۔
میر حسین علی نے بتایا کہ بیٹے کی تلاش کے دوران وہ اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ علاقے میں واقع ایک گیسٹ ہاؤس بھی گئے، جہاں باہر موجود ایک شخص نے رضا کی تصویر دیکھتے ہی وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی، جبکہ گیسٹ ہاؤس سے نکلنے والے دو دیگر افراد نے بھی تصویر دیکھنے کے بعد وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

