ناصر انجم ونڈسر کینیڈا میں پاکستانیوں کی پہچان ھے

کینیڈا میں گذشتہ پچیس سالوں میں ایک محتاط اندازے کیمطابق اڑھائی سے تین لاکھ بیس ہزار کے قریب پاکستا نی شہریوں نے ہجرت کی ھے ان میں مختلف ہنر مند افراد سمیت الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے درجنوں صحافی بھی شامل ہیں پاکستان میں پرنٹ صحافت محدود بلکہ ختم ہو کر رہ گئی ھے جبکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں چار پانچ بڑے میڈیا ہاوسز چھوڑ کر باقی تمام اداروں میں کارکن صحافیوں کی چھانٹی کی گئی ھے جس سے ہزاروں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی بیروزگار ہوگئے ہیں اور ان کے لئے زندگی گزارنا اور بقا کا مسلہ پیدا ہوگیا ھے ضرورت اس امر کی ھے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس صورتحال کا بروقت نوٹس لیں اور ایسے اقدامات اٹھائیں کہ پرنٹ میڈیا دوبارہ بحال ہو اور اسکی افادیت کو اجاگر کیا جاسکے۔

اس سنگین صورتحال کے باوجود کچھ چھوٹے صحافتی ادارے ایسے بھی ہیں جن میں اگرچہ عامل صحافیوں کی تنخواہ کم از کم ماہانہ اجرت سے کم تو ھے مگر یہ کم تنخواہ ہر ماہ وقت پہ ادا کر دی جاتی ھے ایسے دو اداروں میں ایک روزنامہ ابتک لاہور ہے جس کے چیف ایڈیٹر جناب سید سجاد بخاری اور ایڈیٹر خواجہ منورالحسن ہیں جبکہ دوسرا روزنامہ جرات روزنامہ تجارت لاہور اور گوجرانوالہ اور انگریزی اخبار دی بزنس لاہور اور فیصل آباد ھے یہ تمام اخبارات ایک ہی چھت تلے نکالے جاتے ہیں جنکی بنیاد نامور لیجنڈ صحافی جناب جمیل اطہر صاحب نے رکھی۔ وہ صحافت میں نامساعد حالات کے باوجود ان اخبارات کو چلا کر صحافتی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں اور انھیں اپنی بساط بھر قائم رکھے ہوئے ہیں اسی طرح جناب سید سجاد بخاری بھی روزنامہ ابتک لاہور اپنی صحافتی ٹیم کیساتھ کامیابی سے چلا رہے ہیں .

کینیڈا اور امریکہ ہجرت کر جانیوالے صحافیوں میں درجنوں صحافی شامل ہیں لاہور سے سرمد بشیر(روزنامہ دی نیشن) اویس سلیم اور سلطان جمیل قریشی (روزامہ دی نیوز انٹرنیشنل لاہور) میں کام کرتے کرتے وقت کی نبض کو بھانپتے ہوئے امریکہ میں مستقل مقیم ہو گئے ہیں سرمد بشیر لاہور پریس کلب کے صدر رہ چکے ہیں اور اپنی صدارت کے دور میں امریکی ویزا فیملی سمیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے سلطان جمیل قریشی نے دو دہائیوں سے زائد لاہور امریکن قونصلیٹ آفس میں کام کیا اور بالاخر امریکہ شفٹ ہو گئے ہیں اویس سلیم کا مشن امریکہ میں سیٹل ہونا تھا چناچہ وہ اپنے مشن میں کامیاب رہے ہیں جو عامل صحافی کینیڈا میں ہجرت کر گئے ہیں اور دوہری شہریت کے مالک ہیں ان میں اویس ابراہیم (دی نیشن) لاہور کے نامور کرائم رپورٹر رہے ہیں انھوں نے کرائم رپورٹنگ میں نئی جہد دی اور اپنے آپ کو بطور لیجنڈ صحافی منوایا۔ وسیم احمد (دی نیشن) لاہور میں رہے اور ان دنوں میں کیلگری کینیڈا میں مقیم ہیں روزنامہ ڈیلی ٹائمزلاہور سے دو نامور کورٹ رپورٹر عابد بٹ اور رانا تنویر احمد سمیت محمد ندیم چوھدری سینئر کورٹ رپورٹر روزنامہ پاکستان اور سابق چیف رپورٹر روزنامہ دن لاہور اور روزنامہ پاکستان کے فوٹو گرافر محمد اشرف لودھی بھی مسی ساگا کینیڈا میں ہجرت کرکے مقیم ہیں ندیم چوھدری بھی لیجنڈ صحافی ہیں بیحد ملنسار اور دوستوں کے دوست ہیں ندیم چوھدری، بدر منیر چوھدری ریاض شاکر مرحوم نواز طاہر کے سمیت تاج الدین حقیقت اپنے لطیفوں اور بزلہ سنجی کے لئے مشہور تھے ندیم چوھدری اب کینیڈا میں اپنی موجودہ حیثیت جاب اور معاوضہ سے مطمئین ہیں وہ دوبارہ پاکستان نہیں جانا چاہتے۔وہ کہتے ہیں میرا اب جینا مرنا کینیڈا کیلئے ہے سابق سیکرٹری لاہور پریس کلب جناب ظہیر بابر پاکستان سے ہجرت کرکے ٹورنٹو کینیڈا میں مستقل رہائش پزیر ہیں اسی طرح سابق صدر لاہور پریس کلب جناب بدر منیر چوھدری بھی تقریبا پچیس سالوں سے مسی ساگا میں مقیم ہیں اور کینیڈا ون ٹی وی چینل بھی بڑی کامیابی سے چلا رہے ہیں بدر منیر کا شمار کینیڈا میں خوشحال پاکستانی صحافیوں میں کیا جاتا ھے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے سابق سینئر کورٹ رپورٹر جناب ناصر انجم پچیس سالوں سے ونڈسر کینیڈا میں مقیم ہیں اور سرکاری ملازم ہیں وہ چلڈرن پروٹیکشن ورکر ہیں ناصر انجم بیوہ اور مطلقہ کینیڈین خواتین کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ کینیڈین بچوں کے تحفظ کے لئے کام کرتے ہیں اور ان کی رپورٹ پہ کینیڈین عدالتیں بچوں کی تحویل کا فیصلہ کرتی ہیں ونڈسر دریائے ڈیٹرائیٹ کے کنارے ایک خوبصورت سا چھوٹا سا شہر ھے یہ دریا امریکہ سے نکلتا ھے اور دریا کے دوسری طرف امریکی سرحدی شہر مشی گن واقع ھے دونوں ملکوں کے درمیان یہ دریا سرحد کا کام دیتا ھے کننیڈا نے دونوں ملکوں کو ملانے کیلئے اس دریا پر ایک خوبصورت آہنی پل بنایا ھے اور دونوں ملکوں کے درمیان بڑے 18 ویلرز ٹرک دونوں ملکوں کے درمیان مجتلف اشیاء کی ترسیل کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں رانا سہیل نے روزنامہ دی نیشن اور روزنامہ دی نیوز انٹرنیشنل لاہور میں بطور کورٹ رپورٹنگ کی اور 2000 تک اپنے نام کا ڈنکا بجایا وہ بھی برامپٹن کینیڈا میں مقیم ہیں اچھی طرح سیٹل ہیں رئیل اسٹیٹ کا کام کرتے ہیں اور اپنا ذاتی یو ٹیوب چینل بھی چلاتے ہیں.

بیشمار اور بھی مختلف اداروں کے صحافی یہاں کینیڈا میں اچھی طرح سیٹل ہو کر مطمئین زندگی گزار رہے ہیں ان پاکستانی صحافیوں کے بقول یہاں کینیڈا میں معاشی اقتصادی اور مالی بحران تو ہو سکتا ھے لیکن شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی سپلائی جن میں گیس پانی اور بجلی شامل ھے بغیر کسی تعطل کے 24 گھنٹے میسر ہے بچوں کے لئے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم ٹرانسپورٹ سمیت بالکل فری ھے ناصر انجم،رانا سہیل ، بدر منیر چوھدری، راقم جلیل الرحمان ، عابد بٹ، رانا تنویر اور محمد ندیم چودھری ماضی میں ایکساتھ اپنے اپنے اخبارات کیلئے کورٹ رپورٹنگ کرتے رہے ہیں اس سنہری دور میں ریاض شاکر مرحوم (روزنامہ جنگ) لاہور، جناب بدرالاسلام بٹ دی مسلم اسلام آباد، تاج الدین حقیقت روزنامہ امروز محمد ریاض چودھری پاکستان ٹائمز لاہور، سعید چودھری روزنامہ پاکستان لاہور، محمود زمان اور شجاعت علی خان روزنامہ ڈان کراچی کے لئے رپورٹنگ کرتے تھے جبکہ اب انکی جگہ ایک طویل عرصہ سے وجیہ الدین شیخ اعر بی بی سی کے لئے اب عباد الحق رپورٹنگ کر رہے ہیں جناب محمد سعید آسی روزنامہ نوائے وقت لاہور حسنین الرحمان قریشی پاکستان پریس انٹر نیشنل (پی پی آئی) محمد ادریس بٹ روزنامہ امن کراچی اور جناب روف طاہر مرحوم روزنامہ امت کراچی کے لئے بھی کورٹ رپورٹنگ کیا کرتے تھے اسی دور میں جناب ممتاز شفیع روزنامہ امروزلاہور، جناب شاھد ملک بی بی سی اردو سروس کےلئے بھی کورٹ رپورٹنگ کرتے تھے ایسوسی ایٹڈ پریس سے کبھی کبھار ایم اے کے لودھی اور جناب ڈاکٹر وقار چوھدری بھی کورٹ رپورٹنگ کرتے تھے این این آئی سے جناب خواجہ فرخ سعید روزنامہ آفتاب کے لئے نواز طاہر اور روزنامہ مساوات کے لئے پہلے بدر منیر چودھری اور بعد ازاں جناب شعیب شاہ بھی کورٹ رپورٹنگ کرتے تھے میرے نزدیک یہ سب صحافتی میدان میں لیجنڈ صحافی تھے اور قسمت کا کھیل دیکھئے کہ ان میں سے بہت سے لیجنڈ صحافی اب کینیڈا کےمستقل شہری ہیں اور بڑی اچھی طرز زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ناصر انجم صاحب میرے قریبی دوستوں میں سے ہیں چناچہ اس بار انھوں نے مجھ سمیت رانا سہیل، اویس ابراہیم، عابد بٹ، احمد نعیم خان (سابق سب ایڈیٹر دی نیوز لاہور) کو ونڈسر کینیڈا میں ظہرانہ کی دعوت دی۔ ونڈسر شہر کینیڈا میں مسی ساگا سے تقریبا” 370 کلو میٹر دور دریائے ڈیٹرائیٹ کے کنارے واقع ھے اور دوسری طرف امریکی شہر مشی گن اپنی آن اور شان کیساتھ آباد نظر آتا ھے ناصر انجم یہاں گزشتہ پچیس سالوں سے آباد ہیں اور چائلڈ کئیر ورکر ہیں انھوں نے پرتکلف چائنیز لنچ یہاں کے مشہور Hakka Khazana ریسٹورنٹ میں دیا اور بعد ازاں ہم سب کو گھر لیجا کر hi-tea سے نوازا۔ ناصر انجم سمیت رانا سہیل اور سبھی پاکستانی دوست پاکستان کے بہتر مستقبل کے بارے میں پرامید اور نیک توقعات رکھتے ہیں۔ یہ سب دوست پاکستان سے بیحد محبت کرتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر دوبارہ پاکستان نہیں جانا چاہتے یہ سب اپنے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کےلئے کینیڈا شفٹ ہوئے اور یہیں کہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان سب دوستوں نے یہاں گھر اور خوبصورے گاڑیاں خرید لی ہیں اور اس کینیڈین معاشرے میں مکمل رچ بس گئے ہیں لیکن ان کا دل اب بھی پاکستان کے لئے دھڑکتا ھے۔