سیاست میں ٹائمنگ کی اہمیت بنیادی ہوتی ہے۔ سیاسی شطرنج پر چلی جانے والی چالیں دکھانے کیلئےکچھ اور، سمجھانے کیلئے کچھ اور، جبکہ ان کے پسِ پردہ عزائم کچھ اور ہوتے ہیں۔ اسے محض حسنِ اتفاق کہیں یا تبدیل ہوتے سیاسی حالات، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے عوامی مسائل پر ستمبر کے مہینے میں ہی سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ کسان اتحاد بھی انہی دنوں میں احتجاج کیلئےکیونکر تیار ہوا؟ اور پھر پاکستان تحریک انصاف نے بھی 27 ستمبر کو ہی اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا فیصلہ کیوں کیا؟
دلچسپ امر یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے وزیراعظم کی یقین دہانی پر اپنا احتجاج ملتوی کر دیا، کسان اتحاد نے بھی اپنا فیصلہ واپس لے لیا، اور تحریک انصاف نے بھی 4 اکتوبر تک احتجاج ملتوی کر دیا۔ ایک ہی وقت میں احتجاج کی کال دینا اور پھر یکے بعد دیگرے سب کا اسے ملتوی کر دینا محض حسنِ اتفاق ہے، یا پھر جماعت اسلامی، کسان اتحاد اور تحریک انصاف کے ان احتجاجوں کو ڈیزائن کرنے والا ہدایت کار ایک ہی ہے؟ وفاقی و پنجاب حکومت اور شریف خاندان پر ان کے اپنے ہی لوگوں کی بے جا تنقید بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اوپر سے خیرخواہ صحافیوں اور یوٹیوبرز کے مزاج بھی بدلے بدلے سے لگ رہے ہیں، اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اس بار کہیں سے ’شٹ اپ کال‘ بھی نہیں آ رہی۔
پاکستان کی سیاست میں کون کس کا کھیل کھیل رہا ہے، کچھ پتہ نہیں چلتا۔ کیا تحریک انصاف بھی اس کھیل میں محض استعمال ہو رہی ہے؟ بظاہر تو ان کی خیبر پختونخوا حکومت کا وجود بھی خطرے میں دکھائی دیتا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا اقتدار ڈانواں ڈول نظر آتا ہے؛ کبھی ان کے خلاف مقدمات کی بھرمار، کبھی نااہلی کی بازگشت، کبھی صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی دھمکیاں، تو کبھی عدم اعتماد کی تحریک کی بات کی جاتی ہے۔ آخر ہو کیا رہا ہے اور کیا کرنا مقصود ہے؟ عوام کو تو حقیقتِ حال کی سمجھ نہیں آنے دی جا رہی، لیکن اس کھیل کے تمام کھلاڑی خوب جانتے ہیں کہ پسِ پردہ کیا پک رہا ہے۔ ایک ہی وقت میں کئی چالیں چلی جا رہی ہیں اور اکثر معاملات کچھ کا کچھ روپ دھار لیتے ہیں۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق حالات اب اتنے سادہ نہیں رہے بلکہ انتہائی پیچیدہ ہو چکے ہیں۔
سیاستدانوں کا ایک بار پھر کڑا امتحان شروع ہو چکا ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ وہ مسائل کا پائیدار حل نکالنے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے مہرے کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سیاسی خاندانوں کے اندر بھی سوچ تقسیم ہو چکی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی سوچ میں واضح فرق نظر آ رہا ہے۔ آصف زرداری ایک مخصوص موقف پر سٹینڈ لے چکے ہیں، جبکہ بلاول بھٹو کئی دنوں سے مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جو کسی بڑے سیاسی طوفان سے پہلے کا سکوت معلوم ہوتی ہے۔
دوسری جانب، مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف اپنے بھائی اور وزیراعظم میاں شہباز شریف کی پالیسی سے ہٹ کر سوچ رہے ہیں۔ وہ ن لیگ کی عوامی سیاست اور بیانیے کو بچانے کیلئے اختلافی نظریہ رکھتے ہیں، جبکہ میاں شہباز شریف کا ماننا ہے کہ جب ‘کشتیاں جلا کر’ ایک فیصلہ کر لیا گیا ہے تو اب اسی پر قائم رہنا چاہیے، کیونکہ اقتدار اور بقا اسی میں ہے۔ ادھر ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزیراعلیٰ مریم نواز نہ جانے کیوں اپنوں اور غیروں دونوں کی تنقید کی زد میں ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ اقتدار کی اس کٹھن راہ میں وہ بھی کہیں طاقتور حلقوں یا اپنی پارٹی قیادت سے مختلف رائے قائم کر بیٹھی ہیں۔
اس تمام تر سیاسی اتھل پتھل میں سب سے زیادہ عوام کے حقیقی اور بنیادی مسائل متاثر ہو رہے ہیں مہنگائی بےروزگاری نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ نئے صوبوں کی تشکیل کے معاشی و انتظامی نقطہ نظر سے جو مطالبات عرصہ سے زیرِ بحث تھے، وہ ایک بار پھر سیاسی مفادات کی نذر ہو چکے ہیں۔ جنوبی پنجاب ہو بالائی خیبر پختونخوا یا سندھ اور بلوچستان میں نئے صوبوں کا نعرہ صرف الیکشن کے قریب یا اقتدار کی بارگیننگ کیلئے تو استعمال ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی کوئی عملی اقدام کی طرف بڑھا جاتا ہے سیاستدان ایسا گھمبگیر ڈالتے ہیں سب کچھ کھوہ کھاتے چلا جاتا ہے سیاسی شطرنج کی بساط پر ایسی نئی چالیں چلی جاتی ہیں کہ نئے صوبوں کی فائل پھر داخل دفتر کر دی جاتی ہے .
اصل میں اقتدار کی اس جنگ میں جمہوری ادارے اور آئینی و انتظامی سٹرکچر شدید دباؤ کا شکار ہے ۔ جب سیاسی جماعتیں بصیرت اور اپوزیشن و حکومت کے باہمی اعتماد کا راستہ چھوڑ کر غیر سیاسی انداز سے فیصلے کرتی ہیں، تو نظام میں ‘سپیڈ بریکر’ آنا فطری امر ہے۔ موجودہ صورت حال یہ نشاندہی کر رہی ہے کہ کوئی بھی فریق مکمل طور پر خودمختار ہو کر فیصلے نہیں کر پا رہا، بلکہ سیاسی ڈوریاں کہیں اور سے ہلائی جا رہی ہیں اور تمام سیاسی مہرے انہی اشاروں پر ناچنے پر مجبور ہیں۔
پاکستان کی سیاست واقعی ایسا گورکھ دھندا بن چکی ہے کہ بقول شاعر ”کچھ سمجھ نہ آئے خدا کرے“ والی کیفیت ہے۔ جب تک تمام سیاسی دھڑے ذاتی و خاندانی مفادات، باہمی لڑائیوں اور بیرونی سہارے ڈھونڈنے کی پالیسی سے باہر نہیں نکلتے، تب تک پائیدار استحکام ایک خواب ہی رہے گا۔ عوام حیران و پریشان تماشا دیکھ رہے ہیں اور سیاست دان تاریخ کے اس موڑ پر ایک ایسے امتحان میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ذرا سی غلط چال ان کا اپنا سیاسی وجود بھی ختم کر سکتی ہے۔

