اسلام آباد(نمائندگان) قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مالی سال 27-2026کا 18 ہزار 771 ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت ایوان زیریں کے اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا۔ اس دوران وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں پہنچے تو حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو بجٹ تقریر کی دعوت دی، جس کے بعد وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر شروع کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں اپنی حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کر رہا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ “بنیان مرصوص” میں کامیابی ایک روشن باب ہے، گزشتہ سال بھارت کو منہ توڑ جواب دیا گیا، آج پوری دنیا پاکستان کی دفاعی طاقت کو مانتی ہے اور بہت سارے ممالک ہمارے لڑاکا طیارے اپنی افواج میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایسے ملک کی حیثیت حاصل کر چکا ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے، ہماری مسلح افواج نے دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ وہ چند گھنٹوں میں امن کی بات پر مجبور ہو گیا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ساکھ بھارتی جارحیت کے جواب کے بعد عالمی سطح پر بڑھی ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، ہمارے پاس مقدس اور بھاری ذمہ داری ہے، سعودی عرب کے ساتھ بھائی چارے کا رشتہ دفاعی معاہدے سے مضبوط ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں، پاکستان نے خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے فعال اور ذمہ دارانہ سفارتی کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس مالی سال میں بڑے صنعتی شعبے کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی جبکہ خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد شرح نمو سامنے آئی۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو ایک نیا سنگ میل ہے، جبکہ فی کس آمدنی 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا، جس سے ہر گھر کے بجٹ پر غیر متوقع دباؤ آیا، تاہم حکومت نے اس کا پورا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی آئی، زرمبادلہ کے ذخائر تین سال قبل 4 ارب ڈالر تھے جو اب بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں اور تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تھیں، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ہی 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں اور سال بھر میں 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔
وزیر خزانہ نے قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کا ترقیاتی پروگرام ایک ہزار ارب روپے جبکہ صوبوں کا ترقیاتی پروگرام 2 ہزار 224 ارب روپے ہوگا، جبکہ ریاستی اداروں کی سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
بجٹ 27-2026 میں حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں اضافے، سپر ٹیکس ختم کرنے اور جائیداد کی خرید و فروخت و منتقلی پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجاویز دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شاہراہوں، ریلوے اور بندرگاہوں کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور وفاقی ترقیاتی پروگرام میں نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے لیے 365 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
دفاعی امور اور خدمات کے لیے 3 ہزار 10 ارب 90 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں دفاعی خدمات، آپریٹنگ اخراجات، اثاثہ جات اور سول ورکس کے لیے الگ الگ فنڈز شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کفالت پروگرام کو ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک توسیع دی جائے گی جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔
جاری اخراجات میں آزاد کشمیر کے لیے 146 ارب اور گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی مختلف شرحوں میں کمی، سرچارج ٹیکس ختم کرنے، جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کم کرنے اور مختلف آمدنی کے سلیبز پر سپر ٹیکس میں کمی یا خاتمے کی تجاویز بھی پیش کیں۔
بجٹ تقریر میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل بینکنگ سے مستفید ہونے والے افراد کی تعداد 13 کروڑ 30 لاکھ ہو چکی ہے جبکہ ڈیجیٹل لین دین اور کیش لیس معیشت کے فروغ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر نے غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے، کریڈٹ و ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے بیرون ملک ادائیگیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس کم کرنے اور درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجاویز بھی پیش کیں۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جبکہ بجلی کے شعبے، دیامر بھاشا، مہمند اور داسو ڈیم سمیت مختلف منصوبوں کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاج، نعرے بازی اور بینرز لہرا کر شور شرابہ کیا جبکہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجٹ دستاویزات اور فنانس بل کے مسودے کی منظوری دی گئی۔

