ٹورنٹو (نمائندہ خصوصی) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کی 46 سالہ فضائی میزبان حنا ثانی کو ٹورنٹو پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے جعلی کینیڈین بارڈر سروسز ایجنسی (CBSA) کے پورٹ اسٹیمپس لے جانے کے مقدمے میں قصوروار قرار دے دیا گیا ہے۔
کینیڈین میڈیا کے مطابق حنا ثانی کو دو جعلی CBSA پورٹ اسٹیمپس اسمگل کرنے کے الزام میں عدالت نے مجرم قرار دیا۔ یہ مقدمہ دو سال سے زائد عرصے تک زیر سماعت رہا، تاہم عدالت کے فیصلے کے باوجود یہ سوال اب بھی پوری طرح واضح نہیں ہوسکا کہ یہ جعلی اسٹیمپس کس مقصد کیلئےحاصل کیے گئے تھے اور انہیں کینیڈا میں کس شخص تک پہنچایا جانا تھا۔
حنا ثانی کو یہ مقدمہ اس وقت درپیش ہوا جب وہ 28 مارچ 2024 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پرواز PK-789 کے ذریعے لاہور سے ٹورنٹو پہنچی تھیں۔ ٹورنٹو پیئرسن ایئرپورٹ پر کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی کے اہلکاروں نے ان کے سامان کی ثانوی تلاشی لی، جس کے دوران ان کے سوٹ کیس سے دو جعلی CBSA پورٹ اسٹیمپس برآمد ہوئے۔
کینیڈین حکام نے اس وقت واضح کیا تھا کہ معاملہ کسی پاسپورٹ پر جعلی مہر کے نقوش کا نہیں بلکہ دو جسمانی جعلی ربڑ اسٹیمپس کا تھا، جو CBSA کے اصل پورٹ اسٹیمپس کی نقل تھے۔
ابتدائی طور پر بعض پاکستانی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حنا ثانی کے سامان سے دیگر افراد کے پاسپورٹس بھی برآمد ہوئے، تاہم کینیڈین حکام کی جانب سے بعد میں واضح کیا گیا کہ اصل برآمدگی دو جعلی CBSA پورٹ اسٹیمپس کی تھی اور ان کے قبضے سے دوسرے افراد کے پاسپورٹس برآمد نہیں ہوئے تھے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران حنا ثانی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ یہ اشیا اپنی مرضی سے یا کسی غیر قانونی مقصد کیلئےنہیں لے کر جارہی تھیں بلکہ ایک واقف کار کی درخواست پر کپڑے اور جوتے کینیڈا لے کر آئی تھیں۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں سامان میں موجود اسٹیمپس کی نوعیت کا علم نہیں تھا اور وہ یہ سمجھتی تھیں کہ یہ اشیا اس شخص کی جانب سے کینیڈا میں کاروبار شروع کرنے کے منصوبے سے متعلق ہیں۔
حنا ثانی نے عدالت میں اپنے دفاع میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے سامان کو خود چیک کیا تھا اور جوتوں تک کو پن سے چیک کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ان کے اندر کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔ تاہم عدالت نے ان کے اس مؤقف کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھا۔
عدالت نے اس امر پر بھی سوال اٹھایا کہ اگر حنا ثانی نے جوتوں اور دیگر سامان کو اتنی احتیاط سے چیک کیا تھا تو ایسے غیر متوقع اسٹیمپس کی موجودگی پر انہوں نے اسی طرح توجہ کیوں نہیں دی۔ بالآخر عدالت نے ان کے بیان کو تسلی بخش نہ سمجھتے ہوئے انہیں قصوروار قرار دے دیا۔
CBSA پورٹ اسٹیمپس کینیڈا میں داخلے سے متعلق سرکاری ریکارڈ کیلئےاستعمال ہوتے ہیں۔ ان پر موجود معلومات کسی مسافر کے کینیڈا میں داخلے کی تاریخ اور مقام کی تصدیق سے متعلق ہوسکتی ہیں۔
اسی وجہ سے جعلی پورٹ اسٹیمپس محض عام جعلی دستاویزات نہیں بلکہ کینیڈا کے امیگریشن اور بارڈر کنٹرول نظام کیلئےایک سنگین معاملہ تصور کیے جاتے ہیں۔ تاہم حنا ثانی کے مقدمے میں اب تک یہ بات عوامی طور پر ثابت نہیں ہوئی کہ برآمد ہونے والے دونوں اسٹیمپس کو عملی طور پر کس مقصد کیلئےاستعمال کیا جانا تھا۔
عدالتی فیصلے کے باوجود کیس سے متعلق بعض اہم سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔ کینیڈین میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں ہوسکا کہ جعلی اسٹیمپس کس نے تیار کیے، انہیں کینیڈا میں کس شخص تک پہنچایا جانا تھا اور آیا اس معاملے میں مزید افراد بھی ملوث تھے یا نہیں۔اب تک عدالت کی جانب سے کسی وسیع تر بین الاقوامی نیٹ ورک یا کسی دوسرے شخص کے ملوث ہونے کا حتمی تعین سامنے نہیں آیا۔
حنا ثانی کے خلاف کینیڈا میں مقدمہ شروع ہونے کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے بھی معاملے کی نگرانی کی اور اپنی سطح پر کارروائی کی۔ رپورٹ کے مطابق مقدمے کی کارروائی کے دوران انہیں پروازوں سے معطل کردیا گیا تھا۔
یہ واقعہ اس وقت بھی خاص توجہ کا مرکز بنا تھا جب پی آئی اے کے بعض دیگر فضائی میزبانوں کے کینیڈا میں پروازوں کے بعد پاکستان واپس نہ آنے کے واقعات بھی سامنے آئے تھے، تاہم ان واقعات کو حنا ثانی کے جعلی اسٹیمپس کے مقدمے سے جوڑنے کیلئےکوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
عدالت کی جانب سے حنا ثانی کو قصوروار قرار دیے جانے کے بعد اب مقدمے کا اگلا مرحلہ سزا کا تعین ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق انہیں نومبر 2026 میں دوبارہ عدالت میں پیش ہونا ہے، جہاں سزا سے قبل رپورٹ اور فریقین کے دلائل پر غور کیا جائیگا۔
یہ مقدمہ مارچ 2024 میں ٹورنٹو پیئرسن ایئرپورٹ پر ہونیوالی گرفتاری سے شروع ہوا تھا اور عدالتی کارروائی کے بعد اب حنا ثانی کو جعلی CBSA پورٹ اسٹیمپس کے مقدمے میں قصوروار قرار دیا گیا ہے۔

