خبرنگار اور خبروں والے اداروں کے لئے وہ وقت بہت مشکل اور کڑا ہوتا ہے جب میدان میں خبر نہ ہو اور یہ دور آج کل بھی ہے کہ خبروں میں یکسانیت ہے۔ ایران اور امریکہ جنگ کے حوالے سے بھی کوئی نئی خبر نہیں۔ یکساں نوعیت کے بیانات ہیں۔ ناظر دیکھ دیکھ کر اور قاری پڑھ پڑھ کر بھی اکتا گئے۔ اکثر افراد تو ٹی وی چینلوں سے اپنے مطلب کا کوئی ڈرامہ ڈھونڈھ لیتے ہیں اور ہم جیسے لوگوں کو تو غیر ملکی چینلز بھی مطمئن نہیں کر پا رہے کہ سوائے برطانوی بلدیاتی انتخابات اور اس کے نتیجے میں وزیراعظم پر مستعفی ہونے کے لئے دباؤ جیسی ہی نئی خبریں ہیں۔ ہم ہیں کہ بھارت کے حوالے سے بھی ایک ہی جیسی خبروں پر گزارا کررہے ہیں۔ حالانکہ دوست بتاتے ہیں کہ مودی کے سخت دباؤ اور گودی میڈیا کی یلغار کے باوجود اب بھی بھارتی اخبارات میں بہت کچھ مل جاتا ہے اگر توجہ دی جائے تو بھارتی انتخابات اور بی جے پی کی دہشت گردی کے بارے میں بہت مواد موجود ہے۔ ایک دوست نے بتایا کہ پاکستانی صحافتی اداروں کے لئے بہت کچھ ہے جو ویب کھنگالنے کے باوجود پاکستان کے اداروں کی خبروں میں نہیں ملتا۔
بات تو شروع کی تھی کہ جب تازہ خبریں نہ ہوں تو مشکل ہوتی ہے جب ہم رپورٹنگ کرتے تھے تو کئی بار ایسا وقت آیا کہ دوچار دن معمول کی خبروں پر گزارا کرنا پڑا، اگرچہ ایسی ہی صورت حال 1965ء ستمبر کی پاک بھارت جنگ کے دوران بھی تھی کہ میدان جنگ کی اطلاعات کے لئے آئی ایس پی آر ذریعہ تھا تاہم ہم ان دنوں بھی آرام سے نہیں بیٹھے اور معاشرے کے حالات و نظریات سے مستفید ہوتے رہے۔ بہرحال آج تو یہ عرض کرنا ہے کہ خبررساں اشاعتی اور نشریاتی اداروں پر قدرت مہربان ہوگئی۔ ایک ایسی معمول کی کارروائی ایسی خبر بنی کہ تہلکہ مچ گیا، ابتداء عام سی خبر سے ہوئی کہ پولیس نے گارڈن کراچی کے علاقے میں منشیات فروشی کے ایک اڈے پر چھاپہ مار کر ایک خاتون منشیات فروش کو گرفتار کیا ہے جس کے قبضہ سے کروڑوں روپے کی منشیات، اسلحہ اور رقوم برآمد ہوئی ہیں، یہ بالکل عام سی خبر تھی لیکن بھلاہو کراچی کے نشری ادارے کے اس رپورٹر اور کیمرہ مین کا جنہوں نے اس عام خبر کو بہت ہی اہم ترین خبر بنایا اور پولیس کی ہمیشہ والی کارکردگی کو بھی ایکسپوز کرکے رکھ دیا، ملزمہ پنکی کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو ان کارکنوں نے اس کی آمد و رفت اور عدالتی کارروائی کی کوریج کی اور سندھ کی پولیس انتظامیہ سمیت صوبائی حکومت کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔
یہ وقت کی مہربانی تھی کہ محنت کام آئی اور یہ خبر پاکستان کی نمایاں ترین خبر بن گئی جس میں پولیس کی کارکردگی، عدالتی رویہ اور منشیات فروش مافیا کی طاقت کا اندازہ ہوتا تھا کہ ملزم خاتون ایک بڑے ڈان کی طرح ریمپ پر واک کی طرح تشریف لائیں اور ان کے ساتھ ایک ڈھیلی پتلون والے سب انسپکٹر تھے جو مودبانہ انداز میں ان کی رہنمائی فرما رہے تھے۔ خاتون اسی انداز سے کمرہ عدالت میں گئی اور عدالت نے اسے فوری طورپر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، میں زیادہ تصویر کشی نہیں کروں گا کہ یہ منظر پھر تمام نشریاتی اداروں نے دکھایا اور اس پر جاری خبر کا بھی پیچھا کیا، جس کے نتیجے میں شور مچ گیا۔ پولیس انتظامیہ کو تو لالے پڑے لیکن صوبائی وزیر داخلہ اور ترجمان حکومت بھی دفاعی انداز میں سکرینوں پر نمودار ہوگئے۔
حالیہ یکسانیت والے دور میں یہ خبر ایسی نعمت ثابت ہوئی کہ ملزمہ کے وارداتی طریق کار سے اس کا پہلا ریکارڈ اور بعض آڈیو، ویڈیوز بھی سامنے آ گئیں جو اس کے کسی مافیا کا بڑا ایجنٹ ہونے کو ظاہر کررہی تھیں۔ یوں بھی حکام کو خبر کی تشہیر نے مجبور کر دیا اور پھر اس کا جسمانی ریمانڈ لینے کے لئے ماتحت عدالت کے حکم کے خلاف سیشن عدالت سے رجوع کیا گیا اور وہاں سے تین روز کا ریمانڈ حاصل کیا گیا کہ تین ادارے تفتیش کے لئے یکجا ہوگئے اور یوں یہ پنکی ڈان اب تفتیشی عمل سے گزر رہی ہوگی کہ اینٹی نارکوٹکس والے بھی تفتیشی عمل میں شامل ہوگئے ہیں تاہم رپورٹر حضرات کے لئے اب امتحانی وقت ہے کہ اس ”ڈان خاتون“ کے تفتیشی عمل اور اس کی مہمان نوازی کی خبر لیں کہ اس کی اکڑفوں بلاوجہ نہیں ہے۔ میرے لئے یہ بھی حیرت کا سماں ہے کہ کروڑوں روپے اور اسلحہ کے ساتھ رقوم کی برآمدگی ماتحت عدالت تک صرف پندرہ لاکھ مالیت تک رہ گئی۔
اب تو سوال یہ ہے کہ خود تفتیشی ذرائع نے ابتداء ہی میں بتا دیا کہ یہ ملزمہ منشیات کی سپلائی اور وصولی کے لئے کون سے ذرائع استعمال کرتی تھی، یہ امربالکل واضح ہے کہ یہ خاتون اور اس کا اڈہ ایک ایجنسی ہے ورنہ یہ مافیا بہت بڑا ہے اور اس پورے نیٹ ورک کو طشت ازبام کرنا بہت مشکل تفتیش ہوگی کہ تانے بانے پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان سے بھی ملتے ہیں، البتہ اگر وفاق اور صوبوں کی سطح پر مشترکہ کارروائی ہو تو امکانی طور پر اس انسانیت دشمن مافیا کا سراغ لگا کر اس کا سدباب ممکن ہے کہ یہ مافیا ہماری نوجوان اور نئی نسل کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ قوم بھی گراں خواب ہو جائے اور بنیان المرصوص نہ رہے۔ خود سرکاری طورپر بتایا جاتا ہے کہ منشیات کی یہ وباء نہ صرف غریب اور متوسط طبقہ کے نوجوانوں کی فرسٹریشن کو نشے کی طرف منتقل کررہی ہے بلکہ اشرافیہ کے گھرانے فیشن کے طور پر حقے کے کش لگاتے ہیں اسی خبر کے ساتھ پھر سے یہ بتایا گیا کہ تعلیمی اداروں میں بھی یہ وباء ایسے ہی قوم و ملت دشمن عناصر کی وجہ سے پھیلی ہے۔
میں اپنے ذاتی تجربے کی بناء پر کچھ زیادہ پرامید تو نہیں کہ پورا مافیا پکڑلیا جائے گا تاہم منشیات کی وباء میں کچھ کمی تو ضرور ہوگی، اس کے لئے ہماری حکومتوں کو ایسے ادارے بنانے کی ضرورت ہے جہاں منشیات کی لت میں مبتلا کئے گئے نوجوانوں اور طلباء کو لے جا کر ان کا علاج کرایا جا سکے، اس سب کے لئے بڑے پیمانے پر کارروائی کی ضرورت ہے اور مختلف شعبوں کا یکجا تعاون لازم ہے ویسے مجھے ایک قاری کی یہ بات نہ چاہتے ہوئے بھی پسند آئی ہے کہ اس سکینڈل کی تفتیش میں پنجاب سے سی سی ڈی کو شامل کرکے ملزموں کو اس کی تحویل میں دے کر بھی تفتیش کرالی جائے۔
ذکر خبروں کی یکسانیت اور اس کے دوران اچانک خبر کے مل جانے کے باعث پنکی ڈان کی گرفتاری والی خبر کا ذکر آ گیا اور یہ بھول ہی گیا کہ معمول کے مطابق ہمارے ذہین ترین چیف عاقب جاوید کی توجہ سے ہماری ٹیسٹ ٹیم نے بھی بڑی خبر بنا دی۔ شائقین کے دل توڑ ہی نہیں دیئے زخمی بھی کر دیئے اور خبر بنا دی کہ ہماری ٹیم بنگلہ دیش کی ٹیم سے پہلا ٹیسٹ بُری طرح ہار گئی اور سب ایکسپوز بھی ہوگئے۔ جناب شان مسعود اور سعود شکیل کی تو بات ہی کیا ہے۔ شاہین آفریدی اور سلمان علی آغا بھی بڑے چمکے ہیں، ہائے بیچارے کپتان، اگر چہ یہ کوئی پنکی جیسی خبر نہیں کہ عاقب جاوید کی مہربانی رہی تو ایسا ہوتا رہے گا، میں محترم محسن نقوی سے صرف یہ کہوں گا کہ اب بھی ہوش میں نہ آئے تو کیا ہوگا۔

