پی آئی اے کی نجکاری، آئی او ایس اے اور 8 جون کا امتحان

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری محض ایک کاروباری سودے یا حصص کی فروخت کا معاملہ نہیں بلکہ قومی ایئرلائن کے مستقبل، بین الاقوامی ساکھ اور عالمی ہوا بازی کی منڈی میں اس کی حیثیت کے تعین کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ بظاہر یہ ایک مالیاتی لین دین دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے درجنوں قانونی، ریگولیٹری، مالیاتی اور حفاظتی تقاضے کارفرما ہیں، جن کی تکمیل کے بغیر نجکاری کا عمل مکمل نہیں ہو سکتا۔

نجکاری کمیشن اور ہوا بازی کے شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق حکومت اور خریدار کنسورشیم کے درمیان ہونے والے معاہدے کی تکمیل کیلئے چالیس سے زائد شرائط رکھی گئی تھیں۔ ان میں بین الاقوامی ریگولیٹری منظوریوں کا حصول، طیارے لیز پر فراہم کرنے والی کمپنیوں کی رضامندی، مختلف حفاظتی معاہدوں کی تجدید، مالیاتی انتظامات اور دیگر قانونی تقاضے شامل ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بیشتر شرائط پوری ہو چکی ہیں لیکن بعض اہم حفاظتی اور آپریشنل منظوریوں پر ابھی بھی کام جاری ہے۔

یہی وجہ ہے کہ 8 جون کے قریب متوقع معاہداتی مرحلے کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ صنعت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ سیفٹی ایگریمنٹ یا دیگر ضروری منظوریوں کی تجدید بروقت نہ ہو سکی تو انتظامی کنٹرول کی منتقلی، بقایا ادائیگیوں اور شیئرز کی منتقلی سمیت کئی معاملات تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ سیفٹی ایگریمنٹ آخر اتنا اہم کیوں ہے؟ اس کا جواب عالمی ہوا بازی کے نظام میں پوشیدہ ہے۔ آج کی ایئرلائن صرف اپنے طیاروں یا روٹس کی بنیاد پر نہیں چلتی بلکہ اس کی کامیابی کا انحصار بین الاقوامی اعتماد، حفاظتی معیار اور ریگولیٹری منظوریوں پر بھی ہوتا ہے۔ کوئی بھی بین الاقوامی لیزر، انشورنس کمپنی یا شراکت دار ایئرلائن کے ساتھ اس وقت تک طویل المدتی معاہدہ نہیں کرتا جب تک اسے اس کی حفاظتی صلاحیت پر مکمل اعتماد نہ ہو۔

پی آئی اے کے نئے خریدار کنسورشیم کے سامنے بھی یہی چیلنج موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق سرمایہ کاروں کی خواہش ہے کہ نجکاری کے بعد قومی ایئرلائن کا فلیٹ تیزی سے بڑھایا جائے اور اسے دوبارہ عالمی سطح پر ایک فعال اور منافع بخش ایئرلائن بنایا جائے۔ اس مقصد کیلئےنئے طیاروں کی خریداری یا لیزنگ ناگزیر ہوگی۔ تاہم اس کیلئےصرف سرمایہ کافی نہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں کا اعتماد بھی ضروری ہے۔

اسی تناظر میں آئی او ایس اے یعنی انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کا آپریشنل سیفٹی آڈٹ غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ آڈٹ ایئرلائنز کے حفاظتی اور آپریشنل معیار کا معتبر پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ متعدد ممالک، ریگولیٹری ادارے، کوڈ شیئر پارٹنرز اور طیارے لیز پر دینے والی کمپنیاں آئی او ایس اے سرٹیفکیشن کو بنیادی شرط تصور کرتی ہیں۔

اگر پی آئی اے مستقبل میں آئی او ایس اے کے مطلوبہ معیار پر پورا نہ اتر سکی تو اسے متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نئے بین الاقوامی روٹس کا حصول مشکل ہو سکتا ہے، کوڈ شیئر معاہدے متاثر ہو سکتے ہیں، طیاروں کی لیزنگ مہنگی ہو سکتی ہے اور عالمی شراکت داروں کا اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نجکاری کے بعد نئی انتظامیہ کیلئےسب سے بڑا امتحان صرف مالیاتی کارکردگی بہتر بنانا نہیں بلکہ بین الاقوامی حفاظتی معیار برقرار رکھنا بھی ہوگا۔

دوسری جانب خریدار کنسورشیم حکومت سے بعض اہم مراعات کا بھی خواہاں ہے۔ ذرائع کے مطابق سرمایہ کار چاہتے ہیں کہ نئے طیاروں کی خریداری یا لیز کے لیے ٹیکس اور ڈیوٹیوں میں رعایت دی جائے تاکہ فلیٹ میں تیزی سے اضافہ ممکن ہو سکے۔ اسی طرح جیٹ ایندھن کی قیمتوں کا مسئلہ بھی ان کیلئے انتہائی اہم ہے۔

پی آئی اے کے نئے سرمایہ کاروں کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں جیٹ ایندھن کی قیمتیں خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں، جس کے باعث مقامی ایئرلائنز کو مسابقتی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر حکومت ایندھن کی قیمتوں اور ٹیکس ڈھانچے پر نظرثانی کرے تو قومی ایئرلائن کی آپریشنل لاگت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ماضی میں پی آئی اے کو حفاظتی اور ریگولیٹری مسائل کی بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔ عام تاثر کے برعکس 2018 میں پی آئی اے پر یورپ یا برطانیہ کے روٹس بند نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی اس کی وجہ آئی او ایس اے تھا۔ اصل بحران 2020 میں سامنے آیا جب پائلٹ لائسنسوں سے متعلق تنازع اور حفاظتی نگرانی کے معاملات نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کی۔ اس کے بعد یورپی اور برطانوی حکام نے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندیاں عائد کر دیں، جس کے نتیجے میں قومی ایئرلائن اپنے کئی منافع بخش روٹس سے محروم ہو گئی۔

ان پابندیوں نے پی آئی اے کو صرف مالی نقصان ہی نہیں پہنچایا بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ بعد ازاں قومی ایئرلائن کو دوبارہ اعتماد بحال کرنے کیلئےمختلف حفاظتی آڈٹس اور بین الاقوامی معائنوں سے گزرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب نجکاری کا عمل اپنے آخری مراحل میں داخل ہو رہا ہے تو آئی او ایس اے اور دیگر حفاظتی تقاضوں کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کی کامیابی کا فیصلہ صرف اس بات سے نہیں ہوگا کہ حکومت کو کتنی رقم حاصل ہوئی یا خریدار کون ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا نئی انتظامیہ قومی ایئرلائن کو عالمی معیار کے مطابق چلا سکے گی؟ کیا وہ فلیٹ میں اضافہ کر سکے گی؟ کیا یورپ، برطانیہ اور شمالی امریکا جیسے منافع بخش روٹس پر اپنی موجودگی مضبوط بنا سکے گی؟ اور کیا وہ بین الاقوامی شراکت داروں کا اعتماد دوبارہ حاصل کر سکے گی؟

اگر ان سوالات کے جواب مثبت ثابت ہوئے تو پی آئی اے ایک مرتبہ پھر خطے کی اہم ایئرلائنز میں شمار ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر حفاظتی معیار، ریگولیٹری تقاضوں اور آپریشنل اصلاحات کو نظرانداز کیا گیا تو نجکاری کے باوجود مسائل برقرار رہ سکتے ہیں۔

اسی لیے 8 جون کے قریب متوقع معاہداتی مراحل کو محض ایک کاروباری تاریخ نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ دراصل قومی ایئرلائن کے مستقبل، عالمی اعتماد کی بحالی اور پاکستان کی ہوا بازی کی صنعت کے نئے دور کا امتحان ہے۔ آنے والے چند دن یہ طے کریں گے کہ پی آئی اے واقعی ایک نئی پرواز کیلئے تیار ہے یا اسے ابھی مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔