پی آئی اے۔باکمال لوگ لاجواب پرواز کیساتھ نجی سیکٹر کے حوالے

پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن (پی آئی اے) کو 25 مئی کے روز نجی سیکٹر کے حوالے کر دیا جائیگا پاکستان کی یہ قومی ائیر لائن جو قومی پرچم برداز بھی ھے اسکا شمار دنیا کی بہترین فضائی کمپنیوں میں ہوتا تھا لیکن پھر گزشتہ تین سے زائد دہائیوں میں اس کی نیک نامی اور باکمال لوگ لاجواب پرواز کا دعوی ختم ہو کر رہ گیا اور اسکا سبب اس میں کی گئی سیاسی بھرتیاں تھیں جو مسلم لیگ نواز پاکستان پیپیلز پارٹی کے دور کیساتھ ساتھ نگران حکومتوں کے دور میں بھی اس میں سیاسی بھرتیوں کا عمل جاری و ساری رہا جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ پی آئی اے شائد دنیا کی واحد فضائی کمپنی ھے جس میں جہازوں کی تعداد کے اعتبار سے پائلٹوں سمیت زمینی و فضائی عملے کی تعداد دنیا کی ہر فضائی کمپنی کے عملے سے زیادہ ھے دنیا کی ہر فضائی کمپنی میں طیاروں کی تعداد کے اعتبار سے پائلٹ انجنئیرز اور دوسرا عملہ بھرتی کیا جاتا ھے لیکن یہاں پی آئی اے میں اس اصول کے منافی غیر ہنر مند افراد کو بھرتی کیا گیا بالاخر اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ کم طیارے فعال ہونے کی وجہ سے اس کی آمدنی کم اور اخراجات غیر معمولی حد تک بڑھ گئے۔ اس وقت پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں کل طیاروں کی تعداد 32 کے قریب ھے جس میں سے 18 طیارے فعال ہیں جبکہ 14 طیاروں کو ضروری مرمت اور ٹائروں وانجنوں کی تبدیلی کی بنا پر گراونڈ کر دیا گیا ھے پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں بوئنگ 777 ائیر بس A-320 اور ATR جہاز شامل ہیں ایک اخباری رپورٹ کے مطابق قومی فضائی کمپنی میں پائلٹوں کی تعداد سینکڑوں میں ھے جبکہ اسکے فعال طیاروں کی تعداد صرف 16 سے 18 ھے پی آئی اے کے پاس دنیا بھر کیلئے بہترین منافع بخش فضائی روٹس ہیں لیکن کم طیاروں اور مینجمنٹ نااہلی کے باعث قومی فضائی کمپنی تحلیل ہونے کے قریب پہنچ گئی تھی وفاقی حکومت کی جانب سے پی آئی اے کو فعال اور بحال رکھنے کے لئے متعدد بار بیل آوٹ پیکج دیا گیا تاہم اس مالی مدد کے باوجود ہماری قومی فضائی کمپنی اپنے پاوں پہ کھڑا ہونے میں ناکام رہی ھے اور اسکا بنیادی سبب اسکی آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں۔

فی الوقت قومی فضائی کمپنی میں فوری طور پر نئے اور جدید طیاروں کی ضرورت ھے جبکہ گراونڈ کئے گئے 14 جہازوں کو اگر ضروری مرمت کے بعد فعال کردیا جاتا ھے تو پی آئی اے چند نئے جہازوں کی خرید اور مرمت کئے گئے جہاروں کو فعال کرنے کیساتھ ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا وقار اور شہرت حاصل کرسکتی ھے اس کے لئے ضروری ہوگا کہ پی آئی اے اپنے فعال کردہ جہازوں اور اپنے روزمرہ پرواز کرنے والے جہازوں کی داخلی زیبائش بہتر کرنے کے علاوہ مسافروں کو اندرون و بیرون ملک بہترین سروس اور کھانا مہیا کرے۔انٹرنیشنل روٹ پہ چلنے والے طیاروں میں ہر سیٹ کے سامنے چھوٹی ٹی وی سکرین سامنے والی سیٹ کے عقب میں نصب کی گئی ھے لیکن لاہور تا ٹورنٹو اور واپس لاہور آنے جانے والے جہاز کی تمام ٹی وی سکرین خراب ہیں یہی حال لاہور سے لندن یا لاہور سے مانچسٹر جانے والی پی آئی اے کی پروازوں کا ھے .

لاہور کے بین الاقوامی علامہ اقبال ائر پورٹ سمیت اسلام آباد انٹرنیشنل ائر پورٹ پہ ایف آئی اے سمیت سول ایوی ایشن حکام اور بالخصوص پورٹروں کے فوری اصلاح احوال کی ضرورت ھے لاہور ائیر پورٹ پہ پورٹروں کی مناسب تعداد میسر نہیں جس کے باعث دستیاب پورٹر مسافروں کا سامان اٹھانے اور جہاز میں بک کرانے کیلئے منہ مانگے دام طلب کرتے ہیں راقم نے 7 مئی کو لاہور سے ٹورنٹو پی آئی اے کی پرواز پی کے 789 میں سفر کیا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ پی آئی آے کی اس پرواز کیلئے جسکا دورانیہ لاہور سے ٹورنٹو ائیر پورٹ تک 13 گھنٹہ اور 35 منٹ نان سٹاپ تھا قومی فضائی کمپنی نے عمر رسیدہ ائیر ہوسٹسز کو فضائی میزبان بنایا تھا دنیا بھر کی عالمی فضائی کمپنیوں بالخصوص امارات ائیر لائن، قطر ائیر لائن، سعودی عرب ائیر لائن، برٹش ائیر لائن اور سنگا پور ائیرلائن سمیت تھائی ائیر لائن میں نوجوان اور خوبصورت ائیر ہوسٹسوں کو بھرتی کیا جاتا ھے اور ایک خاص عمر کو پہنچنے کے بعد انھیں گراونڈ یا آفس ڈیوٹی دی جاتی ھے لیکن پی آئی میں ائیر ہوسٹس 60 سال کی عمر تک فضائی میزبانی کر سکتی ھے جو کہ عالمی قواعد و ضوابط کے منافی ھے سابق چیف جسٹس پاکستان محمد افتخار چوھدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ پاکستان نے یہ قرار دیا ھے کہ قومی فضائی کمپنی کی فضائی میزبان 60 سال کی ریٹائرمنٹ کی عمر تک اپنے فرائض سر انجام دے سکتی ہیں اس فیصلہ کی بدولت عمر رسیدہ ائیر ہوسٹسیں ابھی بھی فضائی میزبانی کر رہی ہیں جبکہ ضرورت اس ا۔ر کی ھے کہ نئے خون کو آگے لایا جائے خوبصورت چست اور مستعدد ائیر ہوسٹسیں بھرتی کی جائیں .

راقم نے 7 مئی کے روز لاہور ائیر پورٹ پہ گیٹ نمبر 21 کے سامنے بیٹھا اپنا بورڈنگ کارڈ سنبھالے جہاز میں سوار ہونے کیلئے انتظار کر رھا تھا کہ پی آئی اے کے پائلٹ اور ائیر سٹیورڈز اور ائیر ہوسٹسز میرے پاس سے گزریں تو ان میں سے ایک ائیر سٹیورڈذ نے میرے پاس سے گزرتے ہوئے مجھے سلام کیا۔ میں دیر تک سوچتا رہا کہ یہ کون تھا بعد ازاں طیارے میں انھوں نے مجھے میرے نام سے پکارا اور کہا کہ جلیل صاحب مجھے پہچانا نہیں میں صفدر علی واہلہ ہوں میں لاہور ھائیکورٹ کے سابق مرحوم صدر محمد اشرف واہلہ کیساتھ جب وہ بار کے صدر تھے ان کے لاء چیمبرز میں ہوتا تھا میں نے ان کو پہچان لیا اور ان کا حال چال پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ انھوں نے پیشہ وکالت چھوڑ کر یہ جاب کر لی تھی جب میں نے پوچھا کہ پی آئی اے میں ابھی کوئی بہتری آئی ھے یا نہیں تو ان کا جواب نفی میں تھا تقریبا 14 گھنٹے کی اس نان سٹاپ طویل پی آئی اے کی پرواز میں دو بار کھانا اور ایک بار سنیک چائے وغیرہ دی جاتی ہیں لیکن میں نے دیکھا کہ قومی فضائی کمپنی کی عمر رسیدہ خواتین فضائی میزبان اتنی چست اور مستعدد نہیں جتنا انھیں ہونا چاہئے تھا دو ائیر ہوسٹس ایسی تھیں گویا کسی ہیجڑے کو پکڑ کر پی آئی اے کی ائیر ہوسٹس کی یونیفارم پہنا دی گئی ھے دوسری ہمارے ایک عمر رسیدہ دوست صابر پیا جیسی تھی اور ایسا لگتا تھا کہ صابر پیا کو ائیر ہوسٹس کی یونیفارم پہنا کر جہاز میں سوار کردیا گیا ھے .

ماضی میں پی آئی اے میں بہت خوبصورت سمارٹ اور مستعدد ائیر ہوسٹسیں ہوا کرتی تھیں لیکن اب صورتحال اس کے برعکس ھے. پی آئی اے کی قومی اور عالمی سطح پہ بحالی فضائی بیڑے کیلئے نئے جہازوں کی خرید، گراونڈ کئے گئے جہازوں کی مرمت اور غیر ضروری عملہ کی چھانٹی کرنا پی آئی اے کے نئے چئرمین جناب عارف حبیب کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ھے ہماری دعا ھے کہ وہ قومی فضائی کمپنی کو دنیا کی ایک بہترین فضائی کمپنی بنانے میں کامیاب ہوں ۔ پی آئی اے ہی دنیا کی وہ ائیر لائن ھے جس نے 1985 میں متحدہ امارات کی ائیر لائن اور بعض دعسری عالمی ائیر لائن بنانے میں اپنا کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا تھا۔