سیاست کے حوالے سے ستمبر کو ستمگر کہتے ہیں، لیکن میرے لئے یہ ستمبر ایک ایسا مہینہ ہے جب میں نے اس پاکستانی قوم کو یکایک دیانتدار، بہادر، امانتدار اور محب وطن دیکھا،پولیس مقابلے میں اہلکار مکھیاں بھی نہیں مار پاتے تھے کہ وہ ہمارے سول ڈیفنس والوں کے ساتھ مل کر علاقے میں ڈیوٹی دیتے تھے، ستمبر65ء میں میری رہائش اپنے آبائی محلے میں ہی تھی اور پولیس سٹیشن اکبری گیٹ کے ایس ایچ او سلیم خان تھے، ہم عام طور پر گپ شپ کیلئے تھانے کے بوہڑ تلے بیٹھ جاتے تھے، بھارت کے بزدلانہ حملے کے کئی روز بعد جب رات کو ہم اکٹھے ہوئے تو مجھے اچانک خیال آیا اور میں نے سلیم خان سے پوچھا شہر میں کرائمز کی کیا صورتحال ہے تو انہوں نے مجھے حیران کر دیا، بتایا کہ پورے شہر ہی میں صفر ہے اور دوسرے شہروں سے بھی ایسی اطلاعات ہیں۔
چھ ستمبر1965ء کی صبح میں معمول کے مطابق دفتر گیا، ہمارے ایڈیٹر ظہیر بابر کے کمرے میں معمول کی میٹنگ تھی، عبداللہ ملک، اکمل علیمی، بدر السلام بٹ، عالم نسیم اور محمود سلطان بھی موجود تھے۔ اخبار کے حوالے سے معمول کی بات جاری تھی کہ اچانک بہت زوردار دھماکہ ہوا یوں محسوس ہوا کہ چھت پر کچھ گر ا ہے، سب گھبرا کر نیچے سڑک پر آ گئے اور دفتر کے سامنے میو ہسپتال کے شعبہ آؤٹ ڈور کی دیوار کے ساتھ کھڑے ہو گئے، لوگ پریشان تھے اور باتیں کر رہے تھے جلد ہی پتہ چل گیا کہ یہ ایف16 کی آواز تھی اور اس کے ساؤنڈ بیریر کراس کرنے کا دھماکہ تھا۔مجھے یاد آ گیا کہ اس سے قبل ایک روز پہلے بھی ایسا ہو چکا تھا، اس روز ہم مال پر لارڈز ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے، راشد بٹ (مرحوم) اور دیگر دوست موجود تھے اس دھماکہ سے لارڈز کے شیشے ٹوٹ گئے تھے،تب پتہ چلا تھا کہ ایف16 جب آواز سے تیز رفتار والی حد پر آتا ہے تو ایسا دھماکہ شروع میں ہوتا ہے اور اسے ساؤنڈ بیریر کراس کرنا کہتے ہیں۔جب میں نے یہ بات ظہیر بابر صاحب کو بتائی تو عبداللہ ملک چڑ گئے اور فوراً بولے، جا جا کر دیکھ کہیں گوالمنڈی میں کوئی بم نہ گرا ہو،میں تھوڑی دیر کے لئے الگ ہو گیا، بہرحال یہ علم ہو گیا تھا کہ جنگ چھڑ چکی ہے۔
یہ اس جنگ ستمبر کا اعزاز ہے کہ65ء میں دھاندلی سے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کو صدارتی الیکشن میں ہرا کر ایوب خان صدر ہوئے تھے۔ یہ بھی پاکستان کی تاریخ کا حصہ ہے کہ بھارت کے اس حملے کے بعد اپوزیشن والے نوابزادہ نصر اللہ خان کی قیادت میں خود چل کر ایوب خان کے پاس گئے اور ان کو مکمل حمایت کا یقین دلایا تھا کہ پھر چھ ستمبر ہی کو ایوب خان نے انگریزی زبان میں لکھی تقریر کی جو ملکی ریڈیوز اور ٹیلیویژن پر نشر کی گئی، یہ تقریر ہم نے دفتر ہی میں ایڈیٹر روم میں سینئر حضرات کے ساتھ سنی۔ایوب خان نے بھارت کو زوردار آواز میں کہا تھا تمہیں نہیں علم کہ تم نے کس قوم سے جنگ چھیڑ لی ہے، انگریزی کے ان الفاظ کے ترجمے اور سرخی کے لئے بحث شروع ہو گئی اور اردو پنجابی کے ترجمے ہونے لگے، پنجابی کے بڑے دلچسپ فقرے کسے گئے بالآخر یہ طے ہوا کہ ترجمہ ”تمہیں نہیں معلوم ہے تمہارا پالا کس قوم سے پڑ گیا ہے“ اور اسی کے مطابق لیڈ بھی بنائی گئی!
جنگ ستمبر کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا اور اب تک بھی لکھا جا رہا ہے تاہم بھارتی حملے کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیاں اب بھی موجود ہیں، مجھے اس پورے دور کی رپورٹنگ کا اعزاز حاصل ہے سارا دن شہر بھر میں جگہ جگہ پھرتے اور خبریں تلاش کرتے اور رات کو شہری دفاع کے رضاکار کے طور پر بھی فرائض انجام دیتے تھے۔ سترہ روزہ جنگ کے دوران کئی بار گرم جنگ والے علاقے میں جانے کی کوشش کی اور واپس بھیج دیئے گئے، لیکن جنگ بندی کے بعد مجھے رانی توپ دیکھنے کا موقع مل گیا اور انچارج میجر نے مجھے اپنی نگرانی میں لے کر میری شناخت چیک کی، اس کے بعد میجر اسماعیل صاحب نے تین بلوچ رجمنٹ کے حوالے کر دیا،یہ حد باٹا پور نہر سے جلو ریلوے سٹیشن تک دفاع کی ذمہ دار 3۔بلوچ رجمنٹ تھی،ایڈ جوٹنٹ کیپٹن چیمہ (مرحوم) نے ہمدردی اورخلوص کا مظاہرہ کیا اور پھر میری ملاقات رجمنٹ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل (اس وقت) تجمل ملک سے کرا دی گئی اور ان کی شفقت سے مجھے اس علاقے میں آنے جانے کی اجازت مل گئی کہ میں ان کو بٹالین ہسٹری اردو میں لکھ دوں گا، وہاں میری ملاقات ان کے سٹاف آفیسر کیپٹن خالد انور (لیفٹیننٹ جنرل ہو کر ریٹائر ہوئے، جب جنرل مشرف چیف آف سٹاف بنائے گئے، یہ ان سے ایک سیٹ سینئر تھے اور ان سے سینئر جنرل علی قلی تھے) میجر نواز، سینئر میجر نفیس انصاری اور میجر انور شاہ سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، اور دوستی بڑھ گئی۔پھر مختلف محافل میں جو گفتگو ہوئی اس سے مجھے معرکہ باٹا پورکی پوری تفصیل معلوم ہوئی، جو آج بھی باٹا پور نہر کے کنارے یادگار پر تحریر ہے۔
کرنل تجمل ملک (بہت معروف ہوئے، میجر جنرل ہو کر ریٹائر ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی سیاسی جماعت بھی بنائی تھی اب جنت مکانی ہیں) نے خود مجھے بتایا کہ چھ ستمبر سے قبل فوج ہائی الرٹ پر تھی تاہم (3۔ بلوچ جمنٹ) لاہور چھاؤنی کی بیرکس میں تیار بیٹھی تھی کہ پہلے حکم یا اطلاع پر موو کیا جا سکے ہم یوں بوریت محسوس کر رہے تھے۔ پانچ ستمبر کو نمازِ عشاء کی ادائیگی کے بعد فیصلہ کیا کہ بیرکس میں ہائی الرٹ رہنے سے بہتر ہے کہ اپنے کمانڈ ایریا میں ہی چلا جائے۔ چنانچہ(کرنل تجمل) مارچ کی ہدایت کر دی اور ہم آدھی رات کے چند لمحوں بعد اپنے کمانڈ ایریا میں پہنچے، ابھی ہم نے اپنے بیگ ہی اتارے تھے کہ اطلاع آ گئی، دشمن نے واہگہ بارڈر کراس کر لیا ہے، درمیان میں 3۔بلوچ، بائیں طرف فرنٹیئر فورس (سائیفن سے سڑک تک) اور دائیں طرف کے علاقے میں میجر عزیز بھٹی والی رجمنٹ تھی لیکن حملہ آور واہگہ سے آئے اور آگے ٹینک تھے۔محترم تجمل ملک کے مطابق پاک فوج نے ان کو نہر کے پُل سے پہلے روک لیا اور رات کو سڑک والا پُل بھی اڑا دیا تھا، شاہین دن چڑھے مدد کے لئے آئے اور انہوں نے نیچی پرواز کر کے بھارتی ٹینک ناکارہ کئے۔
میرا رجمنٹ کے ان افسروں اور جوانوں کے ساتھ افواج کی واپسی تک رابطہ رہا اور ہم سرحدی علاقے میں جاتے رہے۔ تفصیل اتنی زیادہ کہ کئی صفحات درکار ہیں اس پر بات ختم کرتا ہوں کہ یہ غلط فہمی دور کر لی جائے کہ بھارت نے کوئی معرکہ سر کر لیا تھا، اسے روک لیا گیا تھا مزید کسی کو ضرورت ہو تو وہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) خالد انور کا انٹرویو کر لے۔

