پاکستان نے دہشت گردی کو صرف میدانِ جنگ، سرحدی علاقوں یا سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر نہیں جھیلا؛ اس نے اسے بازاروں، عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں، گلی محلوں اور عام شہریوں کے گھروں تک آتے دیکھا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، معیشت کو شدید نقصان پہنچا، معاشرتی امن متاثر ہوا، اور ریاستی اداروں سمیت عام شہریوں نے بے پناہ قربانیاں دیں۔
مگر آج پاکستان کو ایک ایسے نئے محاذ کا سامنا ہے جہاں حملہ آور کے ہاتھ میں بندوق نہیں، موبائل فون ہے؛ بارود نہیں، جھوٹا بیانیہ ہے؛ اور میدانِ جنگ کوئی مخصوص علاقہ نہیں بلکہ ہر وہ اسکرین ہے جس تک عوام کی رسائی ہے۔ یہ محاذ بظاہر خاموش، غیر مرئی اور جدید ٹیکنالوجی سے جڑا ہوا ہے، مگر اس کے اثرات کسی بھی روایتی خطرے سے کم سنگین نہیں۔ یہ محاذ ہے: ڈیجیٹل دہشت گردی۔
ڈیجیٹل دہشت گردی سے مراد وہ منظم مہمات ہیں جن کے ذریعے سوشل میڈیا، یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک، ایکس، واٹس ایپ اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر جھوٹی معلومات، نفرت انگیز بیانیے، کردار کشی، اشتعال انگیزی، ہراسانی اور ریاست یا افراد کے خلاف منظم پروپیگنڈا پھیلایا جاتا ہے۔ آج ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہے۔ ہر کسی کو ویڈیو بنانے، پوسٹ لگانے، تبصرہ کرنے اور خبر پھیلانے کی سہولت حاصل ہے۔ یہی سہولت اگر ذمہ داری کے ساتھ استعمال ہو تو معاشرے کی اصلاح، شعور اور مثبت مکالمے کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن جب اسے جھوٹ، نفرت اور انتہا پسندی کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ معاشرے کی بنیادوں کو کمزور کر دیتی ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایک زہریلا رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک بیٹھے بعض عناصر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ریاست، قومی اداروں، سیاسی مخالفین، صحافیوں، علما، ٹی وی اینکرز، سماجی شخصیات اور اہم عہدوں پر کام کرنے والے افراد کے خلاف مہمات چلاتے ہیں۔ ان مہمات میں مہذب اختلافِ رائے کے بجائے گالم گلوچ، جھوٹے الزامات، بے بنیاد کہانیاں، جعلی ویڈیوز، سیاق و سباق سے کاٹی گئی کلپس اور توہین آمیز مواد کے ذریعے لوگوں کی عزت، وقار اور ساکھ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یہ عمل محض بدتمیزی یا غیر اخلاقی رویہ نہیں، بلکہ کئی صورتوں میں سماجی انتشار، انتہا پسندی اور براہ راست تشدد کا سبب بھی بنتا ہے۔ جب کسی شخص کے خلاف مسلسل نفرت انگیز پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، اسے غدار، کافر، ایجنٹ یا دشمن قرار دیا جاتا ہے، تو ذہنی طور پر متاثر یا انتہا پسند عناصر اس جھوٹ کو حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ نتیجتاً اس شخص کی جان، خاندان، عزت اور معاشرتی حیثیت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ پاکستان میں ایسی کئی مثالیں سامنے آ چکی ہیں جہاں جھوٹے الزامات، مذہبی یا سیاسی نفرت اور سوشل میڈیا مہمات نے لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کیا، کئی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد تشدد کا نشانہ بنے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسے عناصر کو اکثر یہ اعتماد ہوتا ہے کہ ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔ وہ کبھی اپنے اصلی ناموں سے اور زیادہ تر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے کام کرتے ہیں، فرضی شناختیں استعمال کرتے ہیں، ملک کے اندر اور باہر سے مہمات چلاتے ہیں، ویوز اور فالوورز کے لیے نفرت کو کاروبار بناتے ہیں اور پھر اسی نفرت سے مالی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یوٹیوب، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر اشتعال انگیز مواد زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، جس سے ایسے لوگوں کی آمدنی، رسائی اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہوتا ہے۔ معاشرے کا ایک جذباتی، کم آگاہ یا ذہنی طور پر متاثر طبقہ بھی ایسی ویڈیوز کو پسند، شیئر اور وائرل کرتا ہے۔ یوں جھوٹ کا ایک پورا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ یہ رجحان اب محدود حلقوں تک نہیں رہا بلکہ بڑے پیمانے پر معاشرتی رویوں، سیاسی مکالمے اور عوامی ذہن سازی کو متاثر کر رہا ہے۔
حکومتیں سائبر کرائم، ہراسانی اور نفرت انگیز مواد کے خلاف قوانین تو بناتی رہی ہیں، لیکن اصل مسئلہ ان قوانین پر مؤثر، شفاف اور غیر جانب دار عمل درآمد کا ہے۔ اگر قانون صرف کاغذ پر موجود ہو اور عملی طور پر مجرم آزاد گھومتے رہیں تو قانون کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کردار کشی کرنے والے، جھوٹ پھیلانے والے اور نفرت انگیز مواد کو فروغ دینے والے عناصر خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مقدمات کمزور ہوں گے، کارروائی سست ہوگی، ثبوت اکٹھے کرنے کا نظام ناقص ہوگا یا سیاسی دباؤ کے باعث معاملہ دب جائے گا۔
یہاں ایک بنیادی بات واضح رہنی چاہیے: ڈیجیٹل دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا مطلب آزادیٔ اظہار پر پابندی نہیں۔ تنقید، اختلافِ رائے، صحافت، سیاسی گفتگو اور حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھانا ہر شہری کا حق ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں ریاستی اداروں، حکومتوں، سیاسی جماعتوں اور بااثر افراد کا احتساب ضروری ہے۔ مگر آزادیٔ اظہار اور جھوٹ، دھمکی، ہراسانی، کردار کشی اور تشدد پر اکسانے میں واضح فرق ہے۔ تنقید جرم نہیں، لیکن کسی کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی مہم، جعلی مواد، منظم نفرت اور تشدد کی ترغیب کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔ ایسی سرگرمیاں نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت ہیں بلکہ قانون کی نظر میں بھی سنگین جرم سمجھی جانی چاہئیں۔
دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں بھی نفرت انگیز تقریر، آن لائن دھمکیوں، ہراسانی، جعلی معلومات اور تشدد پر اکسانے کے خلاف سخت قوانین موجود ہیں۔ وہاں ایسے جرائم کو آزادیٔ اظہار نہیں بلکہ سماجی امن، شہری تحفظ اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کو بھی اس معاملے میں سنجیدہ، متوازن اور مؤثر پالیسی اختیار کرنا ہوگی، مگر ایسی پالیسی جو نہ تو آزادیٔ اظہار کو دبائے اور نہ ہی نفرت پھیلانے والوں کو کھلی چھوٹ دے۔
اس مقصد کے لیے سب سے پہلے سائبر کرائم قوانین پر شفاف اور غیر جانب دار عمل درآمد ضروری ہے۔ کسی قانون کو سیاسی مخالفین کے خلاف ہتھیار نہیں بننا چاہیے، بلکہ اسے ہر اس شخص کے خلاف سختی سے استعمال ہونا چاہیے جو جھوٹ، نفرت، ہراسانی اور تشدد کو فروغ دے۔ دوسرا، سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری ہونی چاہیے تاکہ جعلی اکاؤنٹس، منظم نفرت انگیز نیٹ ورکس اور تشدد پر اکسانے والے مواد کو بروقت روکا جا سکے۔ تیسرا، تفتیشی اداروں کو جدید ڈیجیٹل فرانزک صلاحیتوں، تربیت اور وسائل سے لیس کرنا ہوگا تاکہ آن لائن جرائم کے ثبوت مؤثر انداز میں محفوظ اور عدالتوں میں پیش کیے جا سکیں۔ عدالتوں کو بھی ایسے مقدمات میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کرتے ہوئے قانون کے مطابق مؤثر اور بروقت فیصلے کرنے چاہییں۔
اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل خواندگی کو تعلیمی نصاب اور عوامی آگاہی مہمات کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عوام کو یہ سمجھانا ہوگا کہ ہر ویڈیو، ہر پوسٹ، ہر اسکرین شاٹ اور ہر وائرل خبر حقیقت نہیں ہوتی۔ جعلی مواد کی شناخت، معتبر ذرائع سے تصدیق، ذمہ دارانہ شیئرنگ اور اختلافِ رائے کے مہذب اصول نئی نسل کو سکھانا ہوں گے۔ اگر معاشرہ خود باشعور نہ ہو تو قانون اکیلا اس مسئلے کا حل نہیں دے سکتا۔
صحافیوں، علما، سیاسی رہنماؤں، اساتذہ اور سول سوسائٹی پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں معاشرے کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ اختلافِ رائے دشمنی نہیں، تنقید گالی نہیں، اور سیاسی یا مذہبی وابستگی کسی انسان کی تذلیل کا جواز نہیں بن سکتی۔ ہمیں یہ اصول اجتماعی طور پر تسلیم کرنا ہوگا کہ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جاتا ہے، کردار کشی سے نہیں؛ اختلاف کا اظہار تہذیب سے کیا جاتا ہے، نفرت سے نہیں۔
پاکستان پہلے ہی روایتی دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ اب اگر ڈیجیٹل دہشت گردی کو معمولی مسئلہ سمجھ کر مزید نظرانداز کیا گیا تو اس کے نتائج دیرپا اور زیادہ تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ بندوق کی دہشت گردی شاید کسی مرحلے پر سیکیورٹی آپریشنز، حکمت عملی اور قومی اتحاد سے کم ہو جائے، لیکن ڈیجیٹل دہشت گردی ہر گھر، ہر موبائل اور ہر ذہن تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ خطرہ سرحدوں کا محتاج نہیں، نہ ہی اس کے لیے کسی مخصوص میدانِ جنگ کی ضرورت ہے۔
اس لیے وقت آ گیا ہے کہ ریاست، معاشرہ، میڈیا، عدلیہ، تعلیمی ادارے اور ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کریں۔ جھوٹ، نفرت اور کردار کشی کو آزادیٔ اظہار کا نام دینا سب سے بڑی غلطی ہے۔ آزادیٔ اظہار معاشرے کو بہتر بناتی ہے، جبکہ ڈیجیٹل دہشت گردی معاشرے کو تقسیم کرتی ہے۔
پاکستان کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کو شعور، علم، مکالمے اور قومی ہم آہنگی کا ذریعہ بنانا ہے یا اسے نفرت، انتشار اور ذہنی آلودگی کے حوالے کر دینا ہے۔ آنے والے برسوں میں ملک کا سماجی امن، قومی یکجہتی اور فکری مستقبل اسی فیصلے سے وابستہ ہوگا، کیونکہ آج جو جھوٹ ایک اسکرین سے پھیلتا ہے، کل وہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

