کارنیل یونیورسٹی میں جنسی زیادتی کے الزامات، کینیڈین طالبہ بھی بول پڑی

برینٹ فورڈ(سی ٹی وی نیوز) امریکی جامعہ کارنیل میں سابق طالبہ کی جانب سے 2024ء میں برادری کی ایک تقریب کے دوران 7 افراد پر مبینہ جنسی زیادتی کا الزام عائد کیے جانے کے بعد کینیڈا کی ایک طالبہ نے بھی اپنے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعے کی تفصیلات بیان کردی ہیں۔

اونٹاریو کی رہائشی میلیسا اسٹارک نے سماجی رابطے کے ذریعے اپنی کہانی شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ہیلی فیکس کی سینٹ میری یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھیں جب ان کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔

میلیسا اسٹارک کے مطابق وہ جامعہ میں تیسرے سال میں تھیں اور مبینہ حملہ آور سے ان کی ملاقات مشترکہ دوستوں کے ذریعے ہوئی تھی، جو بعد میں ان کا دوست بن گیا تھا۔ ان کے بقول وہ شخص ان کے گھر آیا اور وہاں اس نے ان کی رضامندی کے بغیر ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

برینٹ فورڈ میں سی ٹی وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے میلیسا اسٹارک نے بتایا کہ واقعے کے بعد وہ کئی ہفتوں تک اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی رہیں، تاہم بعد میں انہوں نے جامعہ کے جنسی تشدد کے امور کے رابطہ کار کو واقعے کی اطلاع دی۔

ان کے مطابق ابتدا میں ان کی شکایت کو سنجیدگی سے لیا گیا، تاہم معاملہ آگے بڑھنے پر جامعہ انتظامیہ نے مبینہ حملہ آور کو کیمپس سے نکالنے سے انکار کردیا۔

میلیسا اسٹارک نے کہا کہ وہ چاہتی تھیں کہ مبینہ حملہ آور کو جامعہ سے نکال دیا جائے تاکہ نہ صرف انہیں انصاف ملے بلکہ دیگر طلبہ بھی محفوظ رہیں، تاہم جامعہ نے مبینہ حملہ آور کو مشاورت فراہم کرنے، کچھ نصابی سرگرمیاں گھر سے مکمل کرنے اور تحریری معافی کی پیشکش کی، جسے انہوں نے مسترد کردیا۔

ان کے مطابق مبینہ حملہ آور نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور کامیاب رہا، جبکہ ان کے اپنے تعلیمی نتائج متاثر ہوئے اور ذہنی صحت بھی خراب ہوئی۔میلیسا اسٹارک نے بتایا کہ مبینہ حملہ آور کو جامعہ سے اعزاز کے ساتھ فارغ التحصیل ہونے کا موقع ملا اور وہ دیگر طلبہ کے ساتھ تقریب میں شریک ہوا۔

سینٹ میری یونیورسٹی کی جنسی تشدد اور ہراسانی سے متعلق پالیسی میں معطلی اور جامعہ سے اخراج سمیت مختلف تادیبی اقدامات کی گنجائش موجود ہے۔

جامعہ کے محکمۂ سکیورٹی نے دونوں طلبہ کے درمیان رابطے پر پابندی کا حکم بھی جاری کیا تھا، جس کے تحت انہیں کسی مشترکہ تعلیمی سرگرمی میں ایک دوسرے سے مناسب جسمانی فاصلہ رکھنے اور کسی بھی قسم کی گفتگو نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

میلیسا اسٹارک نے کہا کہ یہ حکم ان کیلئےزیادہ مددگار ثابت نہیں ہوا کیونکہ انہیں کیمپس میں مبینہ حملہ آور کا سامنا ہوتا رہا، جس کے باعث وہ بعض مقامات سے گریز کرنے لگیں۔ انہوں نے بتایا کہ مبینہ حملہ آور کے دوست بھی اسی تعلیمی پروگرام میں موجود تھے، اسلئےانہوں نے بعض کلاسیں بھی چھوڑ دیں اور ایک موقع پر جامعہ چھوڑنے کا سوچا۔

“جامعات کو جنسی تشدد کا شکار افراد کی مکمل معاونت کرنی چاہیے”

کینیڈا کی تنظیم اختتامِ جنسی تشدد کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینڈس شا نے سی ٹی وی نیوز کو بتایا کہ میلیسا اسٹارک کا واقعہ کوئی منفرد مثال نہیں، ان کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 11 فیصد طالبات اور 4 فیصد طلبہ جنسی زیادتی کا سامنا کرتے ہیں۔

کینڈس شا کے مطابق کینیڈا کی جامعات اور کالجوں کو صرف جنسی تشدد سے متعلق پالیسیاں بنانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ متاثرہ افراد کو معاشرتی سطح پر مدد فراہم کرنے والے اداروں تک رسائی کے واضح راستے بھی فراہم کرنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی قومی تنظیم اور دیگر معاون ادارے متاثرہ افراد کو ایسی مدد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو بہت سے تعلیمی ادارے فراہم نہیں کرسکتے۔

سی ٹی وی نیوز نے خبر کی اشاعت سے قبل سینٹ میری یونیورسٹی سے متعدد مرتبہ رابطہ کیا، تاہم جامعہ کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

میلیسا اسٹارک نے اپنی تعلیم مکمل کرلی ہے اور اب اونٹاریو کی ایک دوسری جامعہ سے جرائم شناسی میں ماسٹرز کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنی کہانی سامنے لانے کا مقصد دیگر متاثرہ افراد کو یہ احساس دلانا ہے کہ وہ تنہا نہیں اور ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کی بات سننے اور مدد کرنے کیلئے تیار ہیں۔