ہم بھی عجیب و غریب مٹی سے بنے ہوئے انسان ہیں، ہمارے بعض تضادات تو بڑے ہی حیران کن ہیں۔ ہمیں شَکّر کا میٹھا پن بھی پسند ہے اور مرچ کا تیکھا پن بھی مزا دیتا ہے۔ ہمیں زخم تکلیف دیتا ہے مگر زخم کو کھرچنے سے جو احساس پیدا ہوتا ہے وہ سکون دیتا ہے۔ اکثر کو خون بہنے پر درد ہوتا ہے مگر کئی جذبہ و جنوں میں خود اپنا خون بہا کر خوشی سے سرشار ہوتے ہیں۔ یہی حال انسان کو اپنے نظریات کے درست ثابت ہونے پر سکون و خوشی محسوس کرکے ہوتا ہے مگر کئی دفعہ انسان کو اپنی سوچ کیخلاف کچھ واقعات ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے آخری احساس سے میں چند روز پہلے گزرا جب میرا برسوں سے سوچا یہ نظریہ غلط ثابت ہوا کہ کلاسیکی موسیقی خطرے میں ہی نہیں بلکہ زوال کے آخری مرحلے میں ہے۔ میرا یہ نظریہ اس وقت غلط اور باطل ثابت ہوتا ہوا نظر آیا جب میں گزشتہ دنوں الحمرا ہال کے کھچا کھچ بھرے ماحول میں داخل ہوا۔ یہ موقع خواجہ فریدؒ کے قوال شیر میانداد کے والد استاد میاں داد خان کی برسی کا تھا اور برسی کو منانے کا روایتی طریقہ یہ اپنایا گیا کہ ملک بھر کے مشہور گویے اور قوال اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ غلام علی، راحت فتح علی خان، حامد علی خان، شاہدہ منی اور شیر میانداد کی موجودگی سے اس تقریب کی اہمیت واضح ہو رہی تھی۔ الحمرا ہال کی طرف روانہ ہوتے وقت میرے ذہن میں یہی تصور تھا کہ کلاسیکی موسیقی کے سننے اور سمجھنے والے اب خال خال ہیں ہال خالی پڑا ہوگا شاید چند بڑے بوڑھے موجود ہوں، مگر جب میں ہال میں داخل ہوا تو استاد تاری ڈھولک پر اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے، شیر میاں داد نے مجھے اپنی جگہ چھوڑ کر غلام علی اور شاہدہ منی کے ساتھ بٹھایا۔ ہال میں داخل ہوتے ہی مجھے احساس ہوگیا تھا کہ یہ موسیقی کی کوئی مختلف سی غیر روایتی محفل ہے۔ مجمع میں سے گزر کر نشست پر بیٹھا تو اوسان بحال ہونا شروع ہو گئے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو سارا ہال نوجوانوں سے بھرا ہوا تھا چند بڑے بوڑھے بھی تھے مگر غالب تعداد نوجوانوں کی تھی۔ تاری ڈھولک کی تھاپ دھنیں اور ساز آزما رہے تھے، تاری استادوں کے استاد ہیں انکے فن پر جھومنا تو فطری تھا مگر جو حیران کن منظر میں نے دیکھا وہ یہ تھا کہ محفل میں شریک ہر نوجوان موسیقی کے سرتال میں اس طرح ڈوبا ہوا تھا کہ الحمرا ہال کے در و دیوار بھی گاتے راگ لگاتے اور ڈھولک بجاتے لگ رہے تھے، میں نے غور کرنا شروع کر دیا کہ یہ محفل مختلف کیوں اور کیسے ہے؟ کلاسیکی موسیقی میں ڈوبی ہوئی محفل عوام کی نہیں خواص کی تھی یہاں کا ہر نوجوان موسیقی کا دلدادہ ہی نہیں کلاسیکی موسیقی کا سمجھنے والا بھی تھا تقریباً ہر شخص کے ہاتھ ڈھولک کی تھاپ کے ساتھ ساتھ حرکت کر رہے تھے ہونٹ موسیقی کی لے کے ہمنوا تھے اور گوش بر آواز اس قدر کہ لگتا تھا کہ سارا ہال سامع نہیں تاری کا وہ ہمنوا ہے جسے ہونا تو اسٹیج پر تاری کے ساتھ تھا مگر وہ بیٹھے سامعین میں تھے مگر یہ معاملہ صرف تاری کے ساتھ نہیں ہوا۔ جو بھی موسیقار، گلوکار، فنکار یا قوال اسٹیج پر جلوہ گر ہوتا الحمرا کے سارے سامعین اس کے ہمنوا بن جاتے۔ میں نے بغور دیکھا تو معاملہ نوجوان سامعین تک محدود نہیں تھا غلام علی بھی ڈھولک کی تھاپ اور ہر الاپ پر ہاتھ کے اشاروں اور آنکھ کی حرکت سے صاحبان فن کا ساتھ دے رہے تھے، شاہدہ منی اور شیر میانداد تو بازو کھڑے کرکے ہر راگ ،ہر تھاپ اور ہرسُر کے آغاز سے اختتام تک اس طرح مگن تھے کہ جیسے اسٹیج پر فنکار اکیلا نہیں پرفارم کر رہا بلکہ یہ خاص لوگ اور سارے سامعین بھی گا بجا رہے تھے ۔ وجہ در اصل یہ تھی کہ مہمان اور سامعین سبھی فنِ موسیقی کے گھرانوں اور موسیقی سے متعلق تھے اس لئے ان سے بہتر نہ کوئی داد دے سکتا تھا اور نہ فن کو ان سے بہتر کوئی سمجھ سکتا تھا۔ سینکڑوں کی تعداد میں کلاسیکی موسیقی کے ان مداحوں اور فنکاروں کو فن میں ڈوبا دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ کلاسیکی موسیقی کے مستقبل کو چاہے سوخطرے ہوں اسکے سینکڑوں محافظ لاہور میں موجود ہیں اس لئے وہ کبھی کلاسیکی موسیقی کو مرنے نہیں دیں گے۔
کلاسیکی موسیقی اور میرا تعلق بچپن سے ہے۔ میرے والد چوہدری فیض سرور سلطان پیشے کے اعتبار سے تو استاد اور کاشتکار تھے مگر انہیں موسیقی اور بالخصوص کلاسیکی موسیقی سننے کا بے حد شوق تھا۔ انکی عادت تھی کہ گرمیوں کی دوپہر میں وہ سست ترین رفتارمیں کمرے کا پنکھا چلاتے، کمرے میں مکمل اندھیرا ہوتا، وہ زمین پر ہی دراز ہوتے اور ٹیپ ریکارڈر پر استاد بڑے غلام علی خان یا استاد برکت علی خان کے راگ سنتے، یہ سلسلہ تین چار گھنٹے چلتا اور پھر وہ شام کو دوستوں کی محفل سجاتےجس میں سیاست کے ساتھ ساتھ موسیقی ہمیشہ ایک اہم موضوع رہتا۔
الحمراء ہال میں کلاسیکی موسیقی سنتے سنتے خیال آیا کہ اس موسیقی کو زندہ رکھنے میں ’’روایت‘‘ اورسینہ بہ سینہ چلنے والے اس فن کی کمال تاریخ ہے۔ مشہور اسلامی اسکالررینے گینوں کا تو نظریہ یہ ہے کہ سینہ بہ سینہ چلنے والی ’’روایت‘‘ علم اور فن کے خالص پن کی ضمانت رہی ہے برصغیر میں کلاسیکی موسیقی کی روایت کو گھرانوں نے محفوظ رکھا ہے۔ قوال بچہ گھرانہ، پٹیالہ گھرانہ، گوالیار گھرانہ، لکھنوال گھرانہ، پنجاب گھرانہ، رام پور گھرانہ، شام چوراسی گھرانہ ، دہلی گھرانہ اور معلوم نہیں کتنےوہ خاندان ہیں جنہوں نے غربت و عسرت کے باوجود کلاسیکی موسیقی کے اپنے خاندانی پیشے کو نہیں چھوڑا ۔الحمرا ہال میں گھرانوں کی صدیوں کی یہ محنت ہر جھومنے والے نوجوان اور موسیقی کو سمجھنے اور سراہنے والےہر بوڑھے میں واضح طور پر نظر آرہی تھی۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو جاپان میں تلواریں اور برتن بنانے والے اس طرح کے گھرانوں کی کہانیاں ملتی ہیں جنہوں نے صدیوں تک اپنے خاندانی فن اور ورثے کو سنبھال کر رکھا اور اسے فروغ دیا ۔ حال ہی میںمیں چھوٹے ساہیوال (ضلع سرگودھا تحصیل شاہ پور) کے قریبی جگہ خاص طور پر فرو کہ گیا کیونکہ مجھے 100 سال پہلے کے بنے ہوئے ڈیزائن کے مطابق کھڈی کے کھیسوں کی تلاش تھی فروکہ میں آج تک کھڈی پر اسی کوالٹی اور ڈیزائن کے کھیس بنتے ہیں جو سو سال قبل بنتے تھے اور میرے پاس وہ موجود تھے میں نے نئے اور پرانے کھیس کا تقابل کیا تو سو سال کے فرق کے باوجود کوئی ذرہ برابر فرق نظرنہیں آیا ، وجہ وہ خاندانی جولا ہے ہیںجو صدیوں سے اپنے فن کی حفاظت کر رہے ہیں اور سینہ بہ سینہ اسے چلا رہے ہیں ،مشینی طور اور جدید طرز زندگی نے ان کیلئے نئےچیلنجز ضرور پیدا کئے ہیں مگر وہ آج تک یہ روایت نبھا رہے ہیں۔ مجھے یہی روایت ہڈالی ضلع خوشاب کے بنے ہوئے’’سالارے‘‘ میں نظر آتی ہے اس روایت کوہڈالی کے چند خاندان صدیوں سے چلارہے ہیں۔حال ہی میں ورلڈبینک کے صدر اجےبنگا اپنے آبائی وطن خوشاپ آئے تو انہیںتحفتاً یہی ’’سالارا‘‘ پیش کیا گیا۔ ایک زمانے میں جھنگ اور خوشاب کی ریشمی لنگیون کی روایت بھی بڑی مضبوط تھی، میرے پاس سو سال پرانی خوشاب کی دو ریشمی لنگیاں اب بھی موجود ہیں ہا تھ سے بنی ہوئی یہ لنگیاں آب وتاب کے حوالے سے اب بھی اپنی انفرادیت کا احساس دلاتی ہیں افسوس کہ خوشاب میں اب ریشمی لنگیاں نہیں بنتیں۔ کسی زمانے میں بھیرہ کے حکیم پنجاب بھر میں مشہور تھے اور ان کی حکمت بھی خاندان کے ورثے کے طور پر چلتی تھی۔ پنجاب کے ہر ضلع میں لکڑی، لوہے کپڑے اور کھلونوں کے ماہر خاندان موجود ہیں جو صدیوں سے اپنے فنون کو چلا رہے ہیں ۔علم بھی تو ایک ورثہ ہے جو صدیوں کے سفر سے ہم تک پہنچا ہے فن اور علم دونوں کو انسانوں اور بالخصوص خاندانوں اور گھرانوں نے صدیوں کی ریاضت سےیہاں تک پہنچایا ہے۔ اب وقت آگیا ہے ان خاندانوں کی عظمت و توقیر کو نہ صرف زمانہ مانے بلکہ انہیں ان کا جائز مقام بھی دے۔

