کینیڈین سوسائٹی

کینیڈا کو اللہ تعالی نے بے بہا نعمتوں سے نواز رکھا ہے کینیڈا بےشمار قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے رقبے کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک ہے میٹھے پانی کے سب سے بڑے ذخائر ہیں آلودگی سے پاک دنیا کی نمبر ون آکسیجن کینیڈا میں بسنے والوں کی قسمت میں ہے ہوا اتنی خوشگوار ہے کہ خود بخود پھرنے کو دل کرتا ہےصاف شفاف بادل صاف ستھری سڑکیں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہے جابجا قدرتی نظارے سمندر،پہاڑ،آبشاریں، جزیرے ہرطرف قدرت کے جلوے دکھائی دیتے ہیں جتنا خوبصورت ملک ہے اتنے ہی انسانیت سے پیار کرنے والے لوگ ہیں اتنا بڑا ملک کہ پاکستان جیسے کئی ملک سما جائیں لیکن آبادی صرف ساڑھے چار کروڑ اور اس میں بھی دنیا کے مختلف ملکوں کے امیگرینٹس شامل ہیں 135 سے زائد زبانوں کے حامل لوگ یہاں آباد ہیں لیکن یہ کینیڈین سوسائٹی کا حسن ہے کہ سب ایک لڑی میں پروے ہوئے ہیں سسٹم ایسا ہے کہ جو ریاست کے ساتھ وفاداری سیکھاتا ہے اکثر گھروں کے باہر کینڈین پرچم کے سائن بورڈ دکھائی دیتے ہیں گھروں پر کینیڈین پرچم لہرا رہے ہوتے ہیں کینیڈا بچوں اور بزرگوں کے حوالے سے بہترین فلاحی ریاست کہلانے پر پورا اترتا ہے کینیڈا کی ریاست والدین سے بڑھ کر بچوں سے پیار کرتی ہے اور اس کا ایجوکیشن سسٹم اتنا زبردست ہے کہ وہ بچے والدین کے نہیں رہتے ریاست کے بچے بن جاتے ہیں تربیت ایسی کہ اگر والدین بھی غلط کام کریں تو بچے انھیں بھی کہہ دیتے ہیں آپ درست نہیں ہیں بڑھاپے میں ریاست اپنے شہریوں کا اتنا خیال رکھتی ہے کہ سگی اولاد بھی اتنا خیال نہیں رکھ سکتی اگر کوئی بیمار ہو جائے تو ریاستی ادارے لواحقین سے زیادہ ہمدرد بن جاتی ہے مریض اپنے علاج بارے کوتاہی کر سکتا ہے لیکن ڈاکٹر اور متعلقہ سٹاف مکمل پیچھا کرتا ہے بیماری کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ہرقسم کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں ادویات مریض کے گھر پہنچائی جاتی ہیں اور میڈیسن کی روزانہ کی خوراک علیحدہ علیحدہ پیک کر کے دی جاتی ہے تاکہ ادویات کا مکمل استعمال ممکن ہو سکے کینیڈا میں بسنے والوں میں کینیڈا کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے آذادی اتنی زیادہ ہے کہ ہر کسی کو ہرقسم کی بات کہنے کا حق حاصل ہے لوگ وزیراعظم کے منہ پر اس کی لے دے کر رہے ہوتے ہیں لیکن وہ خندہ پیشانی سے تنقید بھی برداشت کر لیتے ہیں کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں ہوتی برداشت اتنی زیادہ ہے کہ میں نے کسی کے ماتھے پر بل نہیں دیکھا ہر کوئی ہر کسی کو خوش ہو کر ملتا ہے برداشت اس قدر ہے کہ اوسطا ہر شخص درجنوں بار سوری اور تھینک یو کہتا ہے مجھے کینیڈا کے اندر طویل سفر کرنے کا اتفاق ہوا ہے پورے ملک میں پلاسٹک کا ایک بھی شاپر نظر نہیں آیا کہیں پانی کی خالی بوتل نظر نہیں آئی دور دراز علاقوں میں بھی صفائی قابل رشک ہے میں نے چالیس سال بعد نل کھول کر پانی پیا ہے

کینیڈا کی ریاست اور عوام درختوں کو بچوں کی طرح پالتی ہے جو نئے درخت لگائے جاتے ہیں ان کے تنوں کے ساتھ ایک قسم کی پانی کی مشق باندھی ہوتی ہے جو حسب ضرورت قطرہ قطرہ پانی فراہم کرتی رہتی ہے پارکوں میں جنگلوں میں جو درخت گر جاتے ہیں ان کی لکڑی نہیں اٹھائی جاتی وہ وقت کے ساتھ ساتھ زمین کے اندر ہی جذب ہو جاتی ہے کہیں نہری پانی کا انتظام نہیں لیکن کمال کی بمپر کراپ ہو رہی ہیں کینیڈا دنیا کو دالیں اور سویابین فراہم کر رہا ہے کینیڈا کا ریلوے کا نظام بہت زبردست ہے خاص کر گڈز ٹرینییں کمال کی ہیں میلوں لمبی ٹرینییں وقت مقررہ پر منزل مقصود پر سامان پہنچا دیتی ہیں مسافر ٹرین لیٹ ہو سکتی ہے لیکن گڈز ٹرینییں لیٹ نہیں ہوتیں

ایجوکیشن سسٹم اتنا زبردست ہے کہ ہر کوئی سٹوڈنٹ ہے جس کا دل کرے وہ بڑھاپے میں بھی تعلیم حاصل کر سکتا ہے کوئی بھی کاروبار کرنے یا پروفیشن تبدیل کرنے کے لیے اس سے متعلقہ کورس کرنا پڑتا ہے ریاست کاروبار کے لیے آسانی کے ساتھ قرض فراہم کرتی ہے بنیادی ایجوکیشن فری ہے اعلی تعلیم کے لیے بچوں کو بلا سود قرض دیا جاتا ہے جو طلباء کو عملی زندگی میں آسان قسطوں کے ذریعے ادا کرنا ہوتا ہے سکول لیول سے ہی طلباء سے سوشل ویلفیئر کے کام کروائے جاتے ہیں ہر عمر کے لوگوں کے لیے فزیکل فٹنس کے لیے ان ڈور اور آوٹ ڈور گیمز کے ادارے موجود ہیں شہریوں کو ہرقسم کی سہولیات باآسانی دستیاب ہیں لیکن کرنسی کے تبادلہ میں پاکستانیوں کے لیے بہت مہنگا ملک ہے یہاں سے کما کر یہیں خرچ کیا جا سکتا ہے عام سے رہائشی کمرے کا کرایہ بھی پاکستانی لاکھوں میں پڑتا ہے اسی طرح ذرائع نقل وحمل بھی کافی مہنگے ہیں کہا جاتا ہے کہ کمانے کے لیے امریکہ اور رہنے کے لیے کینیڈا بہتر ملک ہے