گڈا عاطف متین بھی چلا گیا

عاطف متین کو ہم سب صحافی لوگ پیار سے گڈا کہتے تھے لاہور اور اسلام آباد کے تمام صحافی اسے عاطف کم اور گڈا زیادہ کہتے تھا وہ فطرتا بڑا ہی ہنس مکھ ،خوش اخلاق اور تمام صحافی دوستوں میں ایک ہر دلعزیز شخصیت کا مالک تھا وہ لاہور میں جنگ گروپ آف نیوز پیپرز کے انگریزی اخبار دی نیوز انٹرنیشنل کا سب سے زیادہ فعال اورمستعد نیوز ایڈیٹر تھا تمام قومی اور عالمی خبروں پہ وہ گہری نظر رکھتا تھا۔ عاطف متین سب کو خوش آمدید کرنیوالا انسان تھا جوکسی بھی ساتھی کارکن صحافی کی کبھی بھی دل آزاری اورناقدری نہیں کرتا تھا۔ میں نے 30 جون 1993 کو دی نیشن لاہور کو خیر باد کہ کر دی نیوز انٹرنیشنل لاہور کو بطور سینئر سٹاف رپورٹر جوائن کیا تھا لیکن مجھ سے قبل روزنامہ دی نیشن لاہور سے ایم اے نیازی اور رانا جواد سمیت جواد رانا مرحوم نے نیوز ایڈیٹر کے طور پہ دی نیوز انٹرنیشمل لاہور کو جوائن کر لیا تھا ایم اے نیاری جو دی نیشن لاہور میں چیف رپورٹر تھے نے بطور ایڈیٹردی نیوز انٹرنیشنل لاہور اور رانا جواد نے بطور کرائم رپورٹر دی نیوز کو جوائن کیا تھا ان دنوں ناصر جمال اور محمد اکرم بھی دی نیوز کے سٹاف رپورٹروں میں شامل تھے ناصر جمال بعد ازاں دی نیوز لاہور کو خیر باد کہ کر ڈان لاہور سے وابستہ ہو گئے اور ابھی تک اسی ادارہ میں کام کر رہے ہیں ایم اے نیازی نے ایڈیٹر کا چارج سنبھالنے کے بعد مجھے بھی دی نیشن لاہور سے بلا کر گریڈ ون میں سینئر سٹاف رپورٹر کا تقرر نامہ جاری کرادیا جبکہ میں پہلے ہی دی نیشن لاہور میں گریڈ ون کا سینئر رپورٹر تھا ان دنوں میں مجھے ایک ہزار روپے ماہانہ تنخواہ زیادہ کی آفر کی گئی تھی جو میں نے قبول کرلی تھی میرے دی نیوز انٹرنیشنل لاہور جوائن کرنے سے پہلے دی نیشن لاہور میں کام کرنے والے صحافی دوست عامر متین محمود اعوان اور محمد مالک عارف نظامی کو درخواست کرکےدی نیشن اسلام آباد میں شفٹ ہوگئے تھے اور پھر بس وہیں کے ہو کر رہ گئے اور آج بھی اسلام آباد میں ہی مختلف الیکٹرانک اداروں میں بطور اینکر صحافی کام کرتے ہیں محمود اعوان صحافت چھوڑ کر کارپوریٹ سیکٹر کے اچھے وکیل بن گئے ہیں عاطف متین کو اسکے بڑے بھائی عامر متین نے دی نیوز انٹرنیشنل لاہور میں متعارف کرایا تھا عاطف نے جلد ہی دی نیوز انٹرنیشنل لاہور میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا اور وہ اس اخبار کا سب سے مستعد اور قابل نیوز سب ایڈیٹر بن گیا۔

عاطف اپنی محنت سے پھر نیوز ایڈیٹر بن گیا تھا راقم نے عاطف متین اور عامر متین کے ساتھ ایک چھت تلے برسوں کام کیا پھر جب میں نے دی نیوز انٹرنیشنل لاہور سے استعفی دیکر ا نگریزی اخبار دی پوسٹ لاہور میں بطور چیف رپورٹر اور پھر انگریزی اخبار دی بزنس لاہور میں بطور ایڈیٹر ذمہ داریاں سنبھالی تو گڈے سے تعلق کٹ کر رہ گیا تھا میں مسی ساگا کینیڈا میں گزشتہ بدھ کے روز سکوائر ون پہ واقع ٹم ہورٹن میں فرنچ ونیلا سے لطف اندوز ہو رھا تھا کہ عامر متین کی ایک پوسٹ فیس بک پہ دیکھی جس میں اس نے اپنے بھائی عاصم متین کیساتھ ملکر یہ اعلان کیا تھا کہ ان کے چھوٹے بھائی عاطف متین جنکو پیار سے گڈا کہتے ہیں دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئے ہیں عاطف نے اپنے پسماندگان میں بیوہ سمیرا عاطف اور دو بیٹوں احمد اور عمار کو چھوڑا ھے عامر متین کو عاطف متین کے انتقال کی خبر رات کو دی گئی جبکہ وہ کراچی میں بجٹ پروگرام کیلئےمفتاح اسماعیل کاانٹرویو کرنے کیلئے موجود تھے ہم کینیڈا میں مقیم دوستوں کو یہ خبر مسی ساگا میں ملی۔ میں نے ابھی یہ خبر فیس بک پہ دیکھ کر عامر متین سے اظہار تعزیت کیا تھا کہ اویس ابراہیم سینئر صحافی مقیم مسی ساگا کا مجھے میسج ملا کہ عاطف متین انتقال کر گئے ہیں پھر مجھے اشرف لودھی چیف ایڈیٹر روزنامہ جنگ کینیڈا کا میسج آیا کہ جلیل صاحب آپ کینیڈا میں ہیں کیونکہ آپ عاطف متین کے دی نیوز لاہور میں ساتھی رہے ہیں اس لئے میں آپکے ساتھ تعزیت کرتا ہوں۔

گڈا کافی عرصہ سے اسلام آباد منتقل ہو گیا تھا اور اسکو اسلام آباد لانے میں بھی عامر متین کا ہاتھ تھا یہ سب ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے تھے کہ موت کے فرشتے نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ھے میں نے آج لاہور کے دین محمد درد کی پوسٹ فیس بک پہ دیکھی کہ وہ لاہور سے اسلام آباد آکر عاطف متین کی قبر پہ فاتحہ خوانی کر رہا ھے جبکہ وہ خود ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں زخمی ہو کر صاحب فراش تھا دین محمد درد لاہور پریس کلب کی دایہ ھے اور اسکا گڈے کی قبر پہ اسلام آباد آکر فاتحہ پڑھنا اپنی مثال آپ ھے .گڈا صحافیوں میں سب کا پیارا اور دلارا تھا لاور پریس کلب کے بعد اسلام آباد پریس کلب میں بھی اسکا حلقہ احباب وسیع تھا یہاں کینیڈا میں جتنے بھی صحافی لاہور اور دوسرے شہروں سے آکر مقیم ہیں اسکی ناگہانی موت نے سب کو رنجیدہ اور غمگین کیا ہے جن دوستوں نے عامر متین سے عاطف متین کے ناگہانی انتقال پر تعزیت اور اسکے درجات کی بلندی کی دعا کی ھے ان میں راقم جلیل الرحمان سابق سپیشل کارسپانڈنٹ دی نیوز لاہور، رانا سہیل سابق رپورٹر دی نیوزلاہور ۔کینیڈا، محمد اشرف لودھی چیف ایڈیٹرجنگ نیوز کینیڈا ، محمد عابد بٹ سابق رپورٹر ڈیلی ٹائمز لاہور مقیم کینیڈا، احمد نعیم ملک سابق سب ایڈیٹر دی نیوز مقیم کینیڈا، ندیم چوھدری سابق چیف رپورٹر دن مقیم کینیڈا، اویس ابراھیم سابق کرائم رپورٹر دی نیشن لاہور مقیم کینیڈا، ناصر انجم سابق سینئر رپورٹر APP لاہور مقیم ونڈسر کینیڈا، حامد علی سابق سینئر رپورٹر دی نیوز لاہور حال مقیم کینیڈا، رانا تنویر سابق رپورٹر ڈیلی ٹائمز مقیم کینیڈا، وسیم احمد عرف CK مقیم کیلگری کینیڈا، سلطان جمیل قریشی سابق رپورٹر دی نیوز حال مقیم امریکہ، بدر منیر چوھدری سابق صدر لاہور پریس کلب حال مقیم کینیڈا اور متعدد دوسرے دوست شامل ہیں ان سب دوست و احباب نے عامر متین سے دلی تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے بلندی درجات کی دعا کی ھے۔

ہم سب کی دعا ھے کہ اللہ کریم مرحوم عاطف متین کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور اسکی اگلی تمام منزلیں آسان فرمائے۔ سب دوست عامر متین اور اسکی تمام فیملی کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ کسی بھی عامل صحافی کی موت پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے متاثرہ فیملی کیلئےکسی بھی قسم کی کوئی مالی مدد نہیں کی جاتی۔ صحافیوں کی اکثریت چونکہ زیادہ تر کنٹریکٹ پہ کام کرتی ھے تو اس صورت سوائے گریجوئیٹی کہ اور کچھ نہیں ملتا۔ سینکڑوں صحافی اسوقت بیروزگاری کا شکار ہیں پرنٹ میڈیا ختم ہو کر رہ گیا ھے الیکٹرانک میڈیا میں چھانٹیوں کا عمل جاری اور تنخواہوں پہ کٹ لگایا جا رہا ھے جس کے باعث پاکستان بھی میں چند گنتی کے صحافیوں کے علاوہ باقی سب عامل صحافی بیروگاری کا شکار ہو کر گھروں میں بیٹھ کر سخت کھٹن زندگی میں گھٹن اور جبر کا شکار ہیں یہ نہ زندوں میں ہیں اور نہ مردوں میں انکا شمار کیا جا سکتا ھے ارباب حکومت کو چاہئے کہ بیروزگار صحافیوں کو معقول گزارہ الاونس دے اور ان کے روزگار کیلئے صوبائی اور وفاقی سظح پہ صوبائی پریس ٹرسٹ اور نیشنل پریس ٹرسٹ قایم کیا جائے تاکہ وفاقی اور صوبائی سطح پہ صحافیوں کو روزگار میسر ہو۔ پرنٹ میڈیا کی بحالی کیلئے سرکاری سطح پہ اردو انگریزی سرائیکی سندھی اور پشتو میں اخبارات نکالے جائیں تاکہ صحافیوں میں بےروزگاری کو ختم کیا جا سکے۔