ہم سا ہو تو سامنے آئے!

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دو روز قبل اسلام آباد میں راس نمائش کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خود انحصاری کی بات کی اور درست طور پر کہا کہ ترقی کیلئےخود پر انحصار کرنا ہو گا اور کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب ڈرون بھی ملکی سطح پر تیار ہو رہے ہیں اور ڈیجیٹل شعبہ میں بھی ترقی کی رفتار ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کے ہنر مندوں کی تعریف کی اور اس عزم کو دہرایا کہ منر مند ہی تیار کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے یہ سب اپنے اور اپنی حکومت کے ویژن کے حوالے سے کہا اور ان کی بات درست بھی ہے کہ کوئی بھی ملک اس وقت ترقی کرتا اور نہ کرے گا جب تک وہ ہنر میں خود مختار نہ ہو اور یہ ہنر زندگی کے ہر شعبہ میں نظر آنا چاہئے۔یہ بھی درست ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں کی ذہانت اور مہارت دنیا بھر میں تسلیم کی جاتی ہے۔ بیرونی ممالک میں کام کرنے والوں کے حوالے سے ہمیشہ اچھی خبریں ملتی ہیں اور یہ بھی ہم پاکستانیوں کا اعزاز ہے کہ بیرونی ممالک میں سو فیصد نہیں تو ننانوے فی صد افراد ان ممالک کے قانون و قواعد کی پوری پابندی کرتے ہیں۔ اگرچہ بعض شکایات بھی ہیں لیکن مجموعی طور پر پاکستانیوں کا تاثر مثبت ہے۔ یوں بھی ہمارے انہی ہنر مندوں نے بیرون ملک بھی بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں لیکن نامعلوم یہی لوگ جب اپنے ملک میں آتے ہیں تو وہ سب کچھ بھول کر پھر سے اپنے ہی معاشرے کا حصہ بن جاتے ہیں۔

بہرحاال بات تو ذہانت اور ہنر مندی کی ہو رہی تھی ملک کے باہر سراہے جانے والے ہم پاکستانیوں میں خود پاکستان میں بھی بڑے بڑے ذہین و فطین موجود ہیں جو سانپ کے سر سے کوڑی بھی لے آتے ہیں۔ تازہ ترین ذہانت و فراست کا مظاہرہ تو اب ہر روز دیکھ رہے ہیں، کتنی ”درد مندی“ سے ہمارے ماہرین نے عوام کو بڑ ے بڑے جھٹکوں سے بچا لیا اور ان کیلئےبرداشت کا سلسلہ مہیا کر دیا جس طرح کوئی سپرنگ کھینچنے سے بڑھتا اور پھر اپنی اصلی حالت میں آ جاتا ہے۔ اب یہی حال ہم عوام کا ہو گیا ہے حکومت کو مشورہ دیا گیا کہ بڑے جھٹکے سے بلڈ پریشر کا یکایک بڑھ جانا انسانی زندگی کیلئےخطرناک ہوتا ہے اس لئے ان جھٹکوں کو ذرا پھیلا دیا جائے اور اسی تجویز کے مطابق حکومت نے ہر ماہ سے پندرہ اور پندرہ روز سے ایک ہفتے تک پٹرولیم مصنوعات کے نرخ مقرر کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اُسے روزانہ پر لے آئے ہیں، اسی طرح جیسے صبح کے وقت سبزی، فروٹ منڈی میں سبزیوں اور پھلوں کی بولیاں ہوتیں اور خریدار سودا لے کر اپنے نرخ مقرر کرتے ہیں۔ اب پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بھی روزانہ کی بنیاد پر مقرر کئے جا رہے ہیںاس سے اور تو کوئی فائدہ ہوا یا نہیں، کم از کم یہ ہوا ہے کہ عام لوگ سب کچھ بھول بھال کر اب اس چکر میں پڑ گئے کہ رات پٹرولیم کے نرخوں میں کتنا اضافہ ہو گا کہ کمی تو اچھے وقتوں میں بھی شرح کے مطابق نہیں ہوتی۔ گذشتہ شب 12 بجے جو نئے نرخ بتائے گئے ان کے مطابق پٹرول کے نرخ چار روپے سے زائد اور ڈیزل کے نرخ تین روپے سے زائد فی لیٹر بڑھائے گئے ہیں،اب عوامی نفسیات کا جائزہ لیں تو ان کی رائے یہ ہے کہ نرخ روزانہ کی بنیاد پر نہ بڑھائے جائیں ان کو یہ یاد نہیں کہ یہ چار روپے تو ایک روز کے لئے بڑھائے گئے کہ اِس سے پہلے دو دِنوں میں بھی ترقی ہوئی اور دو بار پہلے بھی نرخ بڑھ چکے۔ یوں تین دِنوںمیں20روپے فی لیٹر سے زیادہ اضافہ کیا گیا لیکن لوگ تازہ اضافے پر ہی بات کر رہے ہیں۔ یوں بھی یہ بھی ذہانت کی مثال ہے کہ وزارت پٹرولیم نے اپنی بلا اوگرا کے گلے ڈال دی ہے، اچھائی، برائی کی ذمہ دار اب یہ اتھارٹی ہے اب بتائیں کہ یہ ذہانت کا کمال ہے کہ نہیں۔ پٹرول پمپوں والے بھی پریشان ہیں کہ وہ ہر روز کے حساب میں مشکل محسوس کر رہے ہیں ویسے وہ موج میں ہیں کہ ابھی نیا سودا تو ہوا نہیں پرانے پر منافع مل رہا ہے۔

اِس سلسلے میں یہ شعبہ ہی نہیں بلکہ دوسرے شعبے کی مہارت رکھتے ہیں اس شہ دماغ کی داد تو بنتی ہے جس نے تمام ٹیکس بجلی اور پانی کے بلوں میں وصول کرنے کا طریقہ ایجاد کیا اور اب دو سو اور دو سو ایک یونٹ کے علاوہ فکس چارجز کا سلسلہ شروع کیا۔

بات صاف ستھرا پنجاب کی، کی جائے تو وزیراعلیٰ اس حوالے سے بہت پُرجوش ہیں اور وہ اپنے طور پر مانیٹرنگ بھی کرتی ہیں، نگرانی کے لئے ویڈیو کا اہتمام ہے کہ شکایت دور کر کے یا صفائی مکمل کر کے ویڈیو کے ذریعے آگاہ کیا جائے۔ وزیراعلیٰ کے نگران شعبہ کو اب ہر روز ہر علاقے کی ”گڈ رپورٹ“ والی ویڈیو ملتی ہیں کہ کارکن ماہر کاریگر ہیں۔ انچارج ایک جگہ کی صفائی کرتے کارکنوں کی ویڈیو بنا کر اپنا فرض پورا کر دیتا ہے اس کے بعد باقی علاقے کی فکر نہیں رہتی۔

ہمارے محکمہ جنگلات اور پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی والے تو زیادہ ماہر ہیں کہ سال میں دو بار شجر کاری کی ویڈیو بناتے اور پھر سینکڑوں پودے لگانے کی رپورٹ بنا کر ارسال کر دیتے ہیں۔اس کے بعد حالات یہ ہوتے ہیں کہ مجوزہ پودے کبھی درخت نہیں بنے اور تو اور کینال کے کنارے ہی ملاحظہ کر لیں تو اندازہ ہو جائے گا، ایسا ہی آج کل برساتی پانی کے اخراج سے ہو رہا ہے۔ مرکزی شاہراہوں اور بدنام علاقوں میں کام کی ویڈیوز اَپ لوڈ ہو جاتی ہیں اور نشیبی علاقے محروم رہ جاتے ہیں۔ کریم بلاک اقبال ٹاﺅن کی مرکزی سڑک صاف ہو گئی، مگر جناح ہسپتال والا یوٹرن پانی سے بھرا رہتا ہے۔

یہ تو اِکا دُکا مثالیں ہیں ایسی ایسی ذہانت کے مظاہرے تو بڑے بڑے منصوبوں میں بھی ہوتے ہیں اس کا اندازہ بھاشا ڈیم، داسو ڈیم، نیلم جہلم اور ایسے دیگر پراجیکٹس سے بھی ہوتا ہے جن کی تکمیل کا مرحلہ طویل ہوتا جاتا اور اخراجات میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے،ایسی ایک سے زیادہ مثالیں اور واقعات ہیں جو ہنر مندی اور ذہانت کا ثبوت دیتے ہیں اس لئے ہم سے ذہین ہو تو سامنے آئے۔