ایک طرف دنیا کے مختلف ممالک کے پاسپورٹس کی اہمیت کے حوالے سے تازہ ترین عالمی رینکنگ سامنے آئی ہے تو دوسری طرف یہ خبر بھی ہے کہ مختلف ممالک سے گرین پاسپورٹ اپلائی کرنا بھی ان دنوں جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکا ہے، یعنی وہاں پاسپورٹ بنوانے کیلئےتفصیلات جمع کرانے اور بائیو میٹرک کرانے کا سسٹم ہی ڈاون رہتا ہے اور پاکستانی تارکین وطن مارے مارے پھرتے ہیں کہ کسی طرح سفر کے لئے اپنے ملک کی شناخت ہی حاصل کر لیں ، ان دونوں خبروں میں صرف پاسپورٹ کے نام کی حد تک ہی مماثلت ہے ورنہ دونوں کا مفہوم بالکل الگ ہے،گرین پاسپورٹ بنوانے کے لئے اندرون اور بیرون ملک جس قسم کی خجل خواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اس پر کسی اور وقت لکھیں گے، ابھی دنیا کے مختلف ملکوں اور ہمارے گرین پاسپورٹ کی اہمیت کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔
دنیا ایک گلوبل ویلیج بن چکی ہے، جہاں سرحدیں کاغذی حد تک محدود دکھائی دیتی ہیں، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے، آج بھی انسان کی نقل و حرکت اس کے پاسپورٹ کی طاقت سے مشروط ہے، ایک ہی دنیا میں رہتے ہوئے کچھ لوگ بغیر کسی رکاوٹ کے درجنوں ممالک کا سفر کر سکتے ہیں، جبکہ کچھ کیلئےہر سفر ایک امتحان بن جاتا ہے، یہی وہ تلخ حقیقت ہے جسے پاسپورٹ پاور یا پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی کے ذریعے سمجھا جاتا ہے،یہ درجہ بندی محض سفری سہولت کا پیمانہ نہیں بلکہ کسی ملک کی عالمی حیثیت، سفارتی تعلقات، معاشی طاقت اور بین الاقوامی اعتماد کی عکاسی بھی کرتی ہے، اس تناظر میں اگر ہم 2026 کی عالمی رینکنگ کا جائزہ لیں تو دنیا واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے، ایک وہ ممالک جن کے شہریوں کیلئے دنیا کے دروازے کھلے ہیں اور دوسرے وہ جن کیلئے ہر دروازہ دستک اور تفتیش کا محتاج ہے،اسے بدقسمتی کہ لیں یا مختلف حکومتوں کی عاقبت نا اندیشی ، پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جس کے شہریوں کی دنیا بھر میں سب سے زیادہ بے توقیری کی جاتی ہے اور انہیں بھاری سفری اخراجات برداشت کرنے کے باوجود شدید ذہنی اذیت، ذلت اور توہین آمیز رویئے کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اس صورتحال کی ذمہ داری صرف حکومت، سفارتخانوں ،بیرون ملک سفر کرنے والے پاکستانیوں میں سے کسی ایک پر نہیں ڈالی جا سکتی،مگر سب نے گرین پاسپورٹ کی بے قدری میں کچھ نہ کچھ کردار ضرور ادا کیاہے،بیرون ملک حکومتی سطح پر کسی بھی ملک کی نمائندگی اس ملک کا متعین سفیر اور سفارتخانہ کرتے ہیں مگر کسی بھی ملک کے شہری جو کسی ملک میں عارضی یا مستقل سکونت اختیار کرتے ہیں وہ بھی اپنے ملک کے وہاں غیر سرکاری سفیر ہوتے ہیں،انہی کے روئیے،گفتگو،لین دین بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
حالیہ رینکنگ کے مطابق دنیا کے سب سے طاقتور پاسپورٹس ،سنگاپور،جاپان،جنوبی کوریا، متحدہ عرب امارات، جرمنی،فرانس،اٹلی،سپین،فن لینڈ،نیدرلینڈز کے ہیں،ان ممالک کے شہری تقریباً 180 سے 190 سے زائد ممالک میں بغیر ویزا یا آن ارائیول ویزا کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں، یہ سہولت صرف سفر تک محدود نہیں بلکہ ان کے شہریوں کے لیے عالمی مواقع، تجارت، تعلیم اور روزگار کے دروازے بھی کھولتی ہے،یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے آخر ان ممالک نے ایسا کیا تیر مارا ہے کہ ان کے پاسپورٹس دنیا میں سب سے زیادہ معتبر ہیں؟اس کا جواب سادہ مگر گہرا ہے، مضبوط معیشت، مستحکم سیاسی نظام، مؤثر سفارتکاری، اور عالمی سطح پر مثبت امیج، ان ممالک نے نہ صرف اپنے شہریوں کو سہولت فراہم کی بلکہ دنیا کو یہ یقین بھی دلایا کہ ان کے شہری کسی ملک کے لیے سیکیورٹی یا امیگریشن رسک نہیں ہیں۔
اب اگر ہم اس فہرست کے نچلے حصے پر نظر ڈالیں تو صورتحال بالکل مختلف نظر آتی ہے، کمزور ترین پاسپورٹس رکھنے والے ممالک میں ،افغانستان،شام،عراق،یمن،پاکستان،صومالیہ،نیپال،لیبیا،بنگلہ دیش اور فلسطین شامل ہیں ،ان ممالک کے شہریوں کو صرف 25 سے 35 ممالک تک محدود رسائی حاصل ہوتی ہے، وہ بھی اکثر سخت شرائط کے ساتھ،ان کے لئے ویزا حاصل کرنا ایک طویل، پیچیدہ اور اکثر ذلت آمیز عمل بن جاتا ہے،یہ صورتحال صرف سفری مشکلات تک محدود نہیں بلکہ ایک نفسیاتی دباؤ بھی پیدا کرتی ہے، جب کسی ملک کا شہری ہر جگہ شک کی نگاہ سے دیکھا جائے تو اس کے اندر احساس محرومی اور عالمی نظام سے بیگانگی پیدا ہونا فطری ہے۔پاکستان کا پاسپورٹ 2026 میں تقریباً 98ویں نمبر پر کھڑا ہے، بظاہر یہ ایک عددی درجہ ہے، مگر اس کے پیچھے ایک پوری کہانی چھپی ہوئی ہے،پاکستان کے شہری تقریباً 30 سے 32 ممالک میں ویزا فری یا آسان رسائی حاصل کر سکتے ہیں، یہ تعداد دنیا کے ٹاپ ممالک کے مقابلے میں نہایت کم ہے، ایسا کیوں ہے؟
یہاں ہمیں جذبات سے ہٹ کر حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنا ہوگا اور بنیادی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی خارجہ پالیسی اکثر ردعمل پر مبنی رہی ہے، نہ کہ پیشگی حکمت عملی پر،دنیا کے ساتھ مضبوط اور مسلسل سفارتی روابط قائم نہ رکھنا ایک بڑی وجہ ہے،دہشت گردی، داخلی عدم استحکام اور سیکیورٹی کے مسائل نے عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو متاثر کیا، اگرچہ اب حالات میں بہتری آئی ہے، مگر عالمی تاثر بدلنے میں وقت لگتا ہے، پاکستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک جانے کی کوشش کرتی ہے، جس کی وجہ سے دیگر ممالک سخت ویزا پالیسی اپناتے ہیں،کمزور معیشت بھی ایک اہم عنصر ہے، ترقی یافتہ ممالک کو خدشہ ہوتا ہے کہ کمزور معیشت والے ممالک کے شہری غیر قانونی طور پر وہاں قیام کر سکتے ہیں،جعلی دستاویزات اور پاسپورٹ کے غلط استعمال کے واقعات نے بھی اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آج کے دور میں پاسپورٹ صرف سفری دستاویز نہیں بلکہ عزت کا عالمی پیمانہ بن چکا ہے، جس ملک کا پاسپورٹ جتنا مضبوط ہے، اس کے شہری کو اتنی ہی عزت اور سہولت ملتی ہے،یہ ایک غیر اعلانیہ عالمی طبقاتی نظام ہے، جہاں امیر اور طاقتور ممالک کے شہری فرسٹ کلاس جبکہ کمزور ممالک کے شہری اکانومی کلاس میں شمار ہوتے ہیں۔کیا بہتری ممکن ہے؟جواب ،ہاںہے ،بہتری ممکن ہے، بشرطیکہ سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں،پاکستان کو اپنے سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنا ہوگا، خاص طور پر یورپ اور ترقی یافتہ ایشیائی ممالک کے ساتھ،امن و امان اور سیاسی استحکام بہتر کیے بغیر عالمی اعتماد حاصل نہیں کیا جا سکتا،مضبوط معیشت خود بخود عالمی دروازے کھول دیتی ہے،دنیا کو پاکستان کا مثبت چہرہ دکھانا ہوگا،جیسا آج کل امریکہ ایران تنازعے میں دکھایا گیا ہے ، سیاحت، ثقافت اور سرمایہ کاری بھہ ایک عمل ہے ،ہمیں غیر قانونی امیگریشن اور دستاویزات کے غلط استعمال کو سختی سے روکنا ہوگا۔پاکستان کا پاسپورٹ آج جس مقام پر کھڑا ہے، وہ ایک لمحاتی حقیقت نہیں بلکہ دہائیوں کی پالیسیوں، حالات اور فیصلوں کا نتیجہ ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں کوئی بھی مقام مستقل نہیں ہوتا،جیسے متحدہ عرب امارات نے چند دہائیوں میں اپنے پاسپورٹ کو دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس میں شامل کر لیا، ویسے ہی پاکستان بھی اگر درست سمت میں اقدامات کرے تو بہتری ممکن ہے۔

