امارات کا اوپیک سے انخلا، سعودی عرب سمیت رکن ممالک کیلئے بڑا دھچکا

ابوظبی( خبر ایجنسی، عالمی میڈیا)متحدہ عرب امارات کے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اوپیک پلس سے نکلنے کے فیصلے کو سعودی عرب سمیت رکن ممالک کیلئے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اماراتی وزیر توانائی کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی فیصلہ موجودہ اور مستقبل کی تیل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، جس کا مقصد پیداوار اور برآمدات کے حوالے سے زیادہ خودمختاری حاصل کرنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کامیابی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ وہ طویل عرصے سے اوپیک پر تیل کی قیمتیں بڑھانے اور کارٹل کی صورت میں کام کرنے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

ٹرمپ کا مؤقف رہا ہے کہ امریکا اوپیک ممالک کو سیکیورٹی فراہم کرتا ہےجبکہ بدلے میں یہ ممالک تیل کی قیمتیں بڑھا کر فائدہ اٹھاتے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امارات کو بعض عرب ممالک سے یہ شکایت رہی ہے کہ انہوں نے اسے ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات کے خلاف مؤثر تحفظ فراہم نہیں کیا، جس کے باعث اس فیصلے نے خطے کی توانائی اور سفارتی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔