امام علی رضاؑ کے روضۂ مبارک کے احاطے میں آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای سپردِ خاک

مشہد (رائٹرز+اے ایف پی+ایرانی سرکاری میڈیا +IRNA)ایران کے شہید رہبرِ معظّم آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کو مشہد میں حضرت امام علی رضاؑ کے روضۂ مبارک کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔اس سے قبل مشہد میں شہید رہبرِ معظّم کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس کی امامت ان کے بڑے صاحبزادے آیت اللّٰہ سید مصطفیٰ حسینی خامنہ ای نے کرائی. جس کے بعد مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے ان کی تدفین کی گئی۔

ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ تصویر کے ساتھ پیغام میں کہا گیا: “خادمِ رضاؑ آغوشِ رضاؑ میں چلے گئے۔”شہید سپریم لیڈر کو آخری الوداع کہنے کیلئے مشہد کی سڑکوں پر لاکھوں افراد اُمڈ آئے۔شہید رہبر کا جسدِ خاکی عراق سے ایران منتقل کیا گیا، جہاں ایرانی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے جسدِ خاکی لے جانے والے طیارے کو حفاظتی حصار میں لے کر مشہد ایئرپورٹ تک پہنچایا۔

اس سے قبل بدھ کے روز شہید رہبر کی میت کو کربلا میں حضرت امام حسینؑ اور حضرت عباسؑ کے روضوں جبکہ نجف میں حضرت علیؑ کے روضۂ مبارک پر بھی لے جایا گیا، جہاں عراق بھر سے آنے والے ایک کروڑ سے زائد سوگواروں نے خراجِ عقیدت پیش کیا۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اُن کی وصیت اور رشتہ داروں کی تجویز کے مطابق مشہد میں امام رضا کے مزار پر کی گئی ہے۔مشہد میں امامِ رضا کے روضے کی صدیوں پرانی اور طویل تاریخ ہے۔ ایران آنے والے 90 فیصد غیر ملکیوں کی ایران آمد کا مقصد روضہ امام کی زیارت ہوتا ہے۔

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ مشہد میں ادا کردی گئی، امام رضا کے مزار کے احاطے میں نماز جنازہ آیت اللہ نوری ہمدانی نے پڑھائی جب کہ نماز جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر شرکا نے انتقام کی علامت سمجھے جانے والے سرخ پرچم لہرائے جب کہ شرکا نے رہنماؤں کی تصاویر اورایرانی پرچم بھی تھام رکھے تھے۔

نمازجنازہ کے موقع پر بھی فضا انتقام، انتقام کے نعروں سے گونج اٹھی جب کہ جلوس جنازہ کے شرکا نے ٹرمپ ہم تمہیں ماردیں گے کا قد آوربینر تھام رکھا تھا۔یاد رہے کہ شہید رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے خاندان کے بعض افراد کی میتیں لے کر خصوصی طیارہ آج صبح کربلا سے مشہد پہنچا تھا۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی میت کو گزشتہ 6 روز کے دوران ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں لے جایا گیا تھا، جہاں لاکھوں زائرین نے ان کی نمازِ جنازہ ادا کی اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے سربراہ محمد محمدی گلپایگانی نے بتایا تھا کہ مرحوم رہنما نے اپنی زندگی میں ہی مشہد میں تدفین کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ان کے مطابق خامنہ ای نے وصیت کی تھی کہ انہیں امام رضا کے روضے کے قریب سپرد خاک کیا جائے۔

تابوت کی منتقلی سے قبل ایران اور عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا سمیت مختلف مقامات پر تعزیتی تقریبات اور جنازے کے مراحل مکمل کیے گئے تھے۔ ان رسومات میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور مرحوم رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا۔ایرانی حکام کے مطابق 6 روز تک جاری رہنے والی یہ آخری رسومات دونوں ممالک میں عقیدت اور احترام کے ساتھ ادا کی گئیں۔

اس سے قبل ایرانی میڈیا کے مطابق سید علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی میتیں گزشتہ روز عراق سے ایران روانہ کیے جانے سے قبل نجف اور کربلا میں آخری مذہبی رسومات ادا کی گئیں تھیں۔نجف میں روضۂ حضرت علیؓ پر لاکھوں افراد نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی تھی، جس کے بعد جسدِ خاکی کو کربلا منتقل کیا گیا تھا، جہاں روضۂ امام حسینؓ پر بھی نمازِ جنازہ ادا کی گئی تھی۔

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ کربلا میں نکالے گئے جنازے کے جلوس میں تقریباً 40 لاکھ سوگوار شریک تھے جب کہ روضۂ امام حسینؓ پر رات بھر فاتحہ خوانی، نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی کا سلسلہ جاری تھا تاہم اس تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

یاد رہے کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ کے جنازے کی 7 روزہ تقریبات کا آغاز جمعہ کو تہران کے امام خمینی مصلیٰ سے ہوا تھا، ہفتہ اور اتوار کو عوامی الوداع اور نمازِ جنازہ ادا کی گئی، پیر کو تہران، منگل کو قم میں لاکھوں افراد نے خراج عقیدت پیش کیا گیا، بدھ کو عراقی شہروں نجف اور کربلا میں نمازجنازہ ادا کی گئی۔