امریکا: 16 بچوں کی ماں نے بچوں سے بدسلوکی کے الزامات مسترد کردیئے

اوہائیو (امریکی میڈیا) امریکی ریاست اوہائیو میں 16 بچوں کی ماں الزبتھ سائڈرز نے اپنے بچوں کو خطرے میں ڈالنے اور نابالغ سے جنسی نوعیت کے جرائم کے الزامات میں عدالت میں صحتِ جرم سے انکار کردیا۔

34 سالہ الزبتھ سائڈرز کو بدھ کو وِنٹن کاؤنٹی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں جج نے ان کی ضمانت کی مجموعی رقم 5 لاکھ 50 ہزار ڈالر مقرر کردی۔ عدالت نے انہیں فرار ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے جنسی نوعیت کے مقدمے میں مزید 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی ضمانت عائد کی، جبکہ بچوں کو خطرے میں ڈالنے کے مقدمے میں پہلے ہی 3 لاکھ ڈالر کی ضمانت مقرر تھی۔

امریکی میڈیا کے مطابق جون میں حکام نے اوہائیو کے علاقے ہیمڈن کے ایک گھر سے ۱۶ بچوں کو بازیاب کرایا تھا۔ بچوں کی عمریں17 ماہ سے18سال کے درمیان تھیں اور تفتیش کاروں کے مطابق وہ انتہائی خراب اور غیر صحت بخش حالات میں رہ رہے تھے۔ بعض بچے بولنے سے بھی قاصر تھے جبکہ کئی بچوں کو طبی امداد کی ضرورت پڑی۔

الزبتھ سائڈرز پر بچوں کو خطرے میں ڈالنے کے 19الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں بعض سنگین نوعیت کے الزامات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک نابالغ سے متعلق جنسی نوعیت کے مقدمے میں جنسی حملے کے2اور نابالغ کے ساتھ غیر قانونی جنسی تعلق کے2 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ مبینہ متاثرہ بچہ ان 16 بچوں میں شامل نہیں تھا تاہم الزام کے وقت وہ سائڈرز اور ان کے شوہر کی تحویل میں تھا۔

عدالت میں پیشی کے دوران الزبتھ سائڈرز بار بار اپنے پیٹ کو ڈھانپتی اور تھامتی نظر آئیں، جس کے بعد ان کے ممکنہ طور پر دوبارہ حاملہ ہونے کی قیاس آرائیاں سامنے آئیں، تاہم ان کے وکیل نے حمل کی تصدیق نہیں کی۔

الزبتھ سائڈرز کے وکیل تھامس اسٹولی نے عدالت میں ان کی ذہنی اہلیت سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مؤکلہ کی شادی 15 سال کی عمر میں ہوئی تھی اور گزشتہ تقریباً دو دہائیوں کے دوران وہ زیادہ تر عرصہ حاملہ رہی ہیں۔ وکیل کے مطابق انہیں زچگی کے بعد مناسب طبی نگہداشت بھی حاصل نہیں ہوئی۔ دفاع کی جانب سے ان کی ذہنی اہلیت کے جائزے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

الزبتھ سائڈرز کے شوہر گیری سائڈرز جونیئر بھی بچوں کو خطرے میں ڈالنے اور اسی نابالغ سے متعلق جنسی الزامات کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ بھی اپنے خلاف الزامات میں صحتِ جرم سے انکار کرچکے ہیں۔ عدالت نے الزبتھ اور ان کے شوہر کو بچوں اور ایک دوسرے سے رابطے سے بھی روک رکھا ہے۔

حکام کے مطابق 16 بچوں کو اب ریاستی تحویل میں رکھا گیا ہے اور مقدمے میں قانونی کارروائی جاری ہے۔ ملزمان کے خلاف عائد الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔