سیول(رائٹرز، یونہاپ) جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں فوجی دستے یا عسکری اثاثے بھیجنے کے معاملے پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، حکومت نے کہا ہے کہ مختلف آپشنز کا محتاط جائزہ لیا جارہا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے مطابق سیول آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کیلئےممکنہ کردار کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم کسی بھی اقدام کو جزیرہ نما کوریا میں جنوبی کوریا کی دفاعی تیاری اور ملکی قانونی طریقہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کیا جائیگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا پر آبنائے ہرمز میں کردار ادا کرنے کیلئےدباؤ کے باوجود سیول نے فوجی تعیناتی کے حوالے سے حتمی منظوری نہیں دی۔ جنوبی کوریا کے حکام نے واضح کیا ہے کہ فوجی تعاون سے مراد لازماً جنگی دستوں کی تعیناتی نہیں، غیر جنگی اور امدادی نوعیت کے دیگر آپشنز بھی زیر غور ہیں۔
جنوبی کوریا نے صورتحال کا جائزہ لینے کیلئےوزارتِ دفاع اور وزارتِ خارجہ کے حکام پر مشتمل ٹیم متحدہ عرب امارات بھیجی تھی، جو آبنائے ہرمز کے اطراف سیکیورٹی اور آپریشنل صورتحال، اہم بندرگاہوں، فوجی اڈوں اور رسد و معاونت کی سہولیات کا جائزہ لینے کے بعد واپس سیول پہنچ گئی۔
رپورٹس کے مطابق ممکنہ آپشنز میں بحری نگرانی کے طیارے، رسدی معاونت کا جہاز اور سمندری بارودی سرنگوں کی نشاندہی و صفائی کیلئے یونٹ شامل ہیں، تاہم حکومت نے ان میں سے کسی آپشن کی حتمی منظوری نہیں دی۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کی ممکنہ فوجی موجودگی پر خبردار کیا ہے۔ جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطے میں بھی واضح کیا کہ فوجی تعیناتی کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے بھی کہا ہے کہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ کی جنگ میں فوجی طور پر شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم تجارتی بحری راستوں کے تحفظ کیلئےممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

