کولکتا (بھارتی میڈیا) مغربی بنگال میں سریندر ناتھ کالج کی وائس پرنسپل اور ٹیچر اِن چارج محمدی ترنم سے طلبا کے ایک گروپ کی جانب سے مبینہ طور پر زبردستی استعفیٰ لینے اور بعد ازاں ان کے کمرے میں اگربتیاں جلا کر گنگا جل چھڑکنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
بھارتی اخبار کے مطابق اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد سے وابستہ طلبا نے محمدی ترنم کو ان کے کمرے میں تقریباً ۲۳ گھنٹے تک محصور رکھا۔ طلبا مبینہ طور پر اپنے ساتھ استعفیٰ کا خط بھی لائے تھے، جس پر محمدی ترنم سے دستخط کرائے گئے۔
محمدی ترنم کے کمرے سے باہر نکلنے کے بعد طلبا کا گروپ اندر داخل ہوا، اگربتیاں جلائیں اور گنگا جل چھڑکتے ہوئے کہا کہ وہ کمرے کی ’شدھی‘ کر رہے ہیں۔محمدی ترنم نے طلبا کے حصار سے نکلنے کے فوراً بعد اعلیٰ حکام کو ای میل کے ذریعے شکایت کی کہ ان سے دباؤ ڈال کر استعفے کے خط پر دستخط کرائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق طلبا اور محمدی ترنم کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ قانون کے طلبا کی حاضری سے متعلق معاملہ تھا۔ امتحانات میں شرکت کے لیے طلبا کی کم از کم ۶۵ فیصد حاضری ضروری ہے، تاہم بیشتر طلبا یہ شرط پوری نہیں کر رہے تھے۔
ہائیر ایجوکیشن اتھارٹی نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ محمدی ترنم کی جانب سے دیا گیا استعفیٰ منظور کیا گیا ہے یا نہیں۔

