مسی ساگا میں میئر کی نشست کیلئے چار بڑے امیدوار”موجودہ میئر کیرولین پیرش،
سابق میئر بونی کرومبی اور سٹی کونسلرز ایلون ٹیڈجو اور دیپیکا ڈیمرلا ” آمنے سامنےہیں
ملٹن میں میئر کی نشست کیلئے موجودہ میئر گورڈ کرانٹز ، زینب عظیم اورپاکستانی نژاد ندیم اکبر ،ملیحہ احمد، سمیرا علی، عبدالکریم اکبک،چیز امن، ارجن جوشی، آصف خان اور جارج میناکاکس بھی امیدواروں میں شامل
ٹورنٹو (سی بی سی، مقامی ذرائع)کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں آج بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں، جن میں 11.8 ملین سے زائد اہل ووٹرز اپنے شہروں کے میئرز، کونسلرز اور تعلیمی بورڈز کے نمائندوں کا انتخاب کرینگے۔ صوبے بھر میں تقریباً 6 ہزار 663 امیدوار 2 ہزار 800 نشستوں کیلئےمیدان میں ہیں۔
ایسوسی ایشن آف میونسپلٹیز آف اونٹاریو کے مطابق بیشتر پولنگ اسٹیشن صبح 10 بجے سے رات 8 بجے تک کھلے رہیں گے۔ ووٹرز اپنے متعلقہ بلدیاتی اداروں کی ویب سائٹس سے پولنگ اسٹیشن کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
صوبے کے بڑے شہروں ٹورنٹو، اوٹاوا، تھنڈر بے، اوشاوا، مسی ساگا، ہیملٹن اور کیمبرج کے علاوہ ملٹن میں بھی میئر کی نشستوں پر سخت مقابلے متوقع ہیں۔
“ٹورنٹو”
ٹورنٹو میں موجودہ میئر اولیویا چو اور سٹی کونسلر بریڈ بریڈفورڈ کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے ایک سروے میں دونوں امیدواروں کے درمیان معمولی فرق سامنے آیا تھا۔ فیصلہ شدہ اور کسی امیدوار کی طرف جھکاؤ رکھنے والے ووٹرز میں بریڈفورڈ کو 49 فیصد جبکہ اولیویا چو کو 47 فیصد حمایت حاصل تھی۔ سروے میں ممکنہ غلطی کی شرح 3.1 فیصد بتائی گئی تھی۔

دونوں امیدواروں نے آخری انتخابی مباحثے میں مہنگائی، رہائش، ٹریفک اور عوامی تحفظ سمیت اہم مسائل پر اپنے منصوبے پیش کیے۔
“اوٹاوا”
اوٹاوا میں موجودہ میئر مارک سٹکلف اور تین مرتبہ سٹی کونسلر منتخب ہونے والے جیف لائپر کے درمیان مقابلہ ہے۔ گزشتہ ہفتے جاری سروے میں مارک سٹکلف کو 28 فیصد اور جیف لائپر کو 24 فیصد حمایت حاصل تھی۔ دیگر امیدواروں میں نیل سراوناموتو کو 7 فیصد اور الیکس لاسن کو 4 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل تھی۔
“مسی ساگا”
مسی ساگا میں میئر کی نشست کیلئے ایک درجن سے زائد امیدوار میدان میں ہیں، تاہم اصل مقابلہ موجودہ میئر کیرولین پیرش، سابق میئر بونی کرومبی اور سٹی کونسلرز ایلون ٹیڈجو اور دیپیکا ڈیمرلا کے درمیان قرار دیا جا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے سروے میں بونی کرومبی 35 فیصد حمایت کے ساتھ سب سے آگے تھیں، جبکہ ایلون ٹیڈجو 31 فیصد کے ساتھ دوسرے، کیرولین پیرش 28 فیصد کے ساتھ تیسرے اور دیپیکا ڈیمرلا 4 فیصد حمایت کے ساتھ چوتھے نمبر پر تھیں۔ سروے میں ممکنہ غلطی کی شرح 3.1 فیصد بتائی گئی تھی۔
مسی ساگا میں قبل از وقت ووٹنگ نے بھی نیا ریکارڈ قائم کیا۔ شہر کے مطابق 6 سے 11 اکتوبر کے دوران 44 ہزار سے زائد افراد نے ووٹ ڈالے، جو 2022ء کے مقابلے میں 57 فیصد زیادہ تھے۔ چاروں نمایاں امیدواروں نے 15 اکتوبر کو آخری مباحثے میں بھی حصہ لیا تھا۔
“ملٹن”
ملٹن میں میئر کی نشست کیلئے 10 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں موجودہ میئر گورڈ کرانٹز اور پاکستانی نژاد امیدوار ندیم اکبر بھی شامل ہیں۔ دیگر امیدواروں میں ملیحہ احمد، عبدالکریم اکبک، سمیرا علی، چیز امن، زینب عظیم، ارجن جوشی، آصف خان اور جارج میناکاکس شامل ہیں۔

گورڈ کرانٹز 1980ء سے ملٹن کے میئر چلے آ رہے ہیں اور اپنے طویل تجربے اور مالیاتی نظم و ضبط کو انتخابی مہم کا اہم حصہ بنا رہے ہیں۔ ندیم اکبر نے مالیاتی شفافیت، بلدیاتی اخراجات کے جائزے اور ٹیکس دہندگان کو ریلیف دینے پر زور دیا ہے۔ دیگر امیدواروں کی انتخابی مہم میں بھی پراپرٹی ٹیکس، رہائشی سہولتوں، شہر کی تیز رفتار ترقی، ٹریفک، ٹرانسپورٹ اور کاروباری مواقع جیسے مسائل نمایاں رہے ہیں۔
“تھنڈر بے”
تھنڈر بے میں میئر کین بوشکوف دوبارہ انتخاب میں حصہ نہیں لے رہے، جس کے باعث 10 امیدوار ان کی جگہ لینے کیلئےمیدان میں ہیں۔ ان امیدواروں میں ٹریور گیرٹوگا، مورین کوموزی، وولکر کروم، پیٹر مارک جان ڈیڈرک، ڈونلڈ بیکسٹر، شین جج، ایلڈو روبیرٹو، پیٹر پنیٹا، وولف گینگ شور اور ڈگ ونسنٹ شامل ہیں۔
نئے میئر کو شہر میں بنیادی ڈھانچے کی مد میں سالانہ 30.6 ملین ڈالر کے خسارے، بے گھری، عوامی تحفظ، سڑکوں اور ٹریفک جیسے مسائل کا سامنا کرنا ہوگا۔

“برامپٹن”
برامپٹن میں میئر کے عہدے کیلئے موجودہ میئر پیٹرک براؤن سمیت مجموعی طور پر 12 امیدوار میدان میں ہیں۔ ان کے علاوہ جگروتی بھٹ، گُردیپ سنگھ دھوتھر، ودیا ساگر گوتم، پربھ گل، ویسلے جیکسن، نجمہ خرم، نیتھینیل پیئرٹ، پربھ جوت کور سدھو، سندیپ سومل، پال تریوال اور گورو والیا انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔
“اوشاوا”
اوشاوا میں موجودہ میئر ڈین کارٹر دوبارہ انتخاب نہیں لڑ رہے، جس کے باعث 9 امیدوار ان کی جگہ لینے کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ان میں سٹی کونسل کے موجودہ ارکان ٹیٹو ڈینٹے مریم پیٹری، جم لی اور ڈیریک گبرسن بھی شامل ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران بے گھری ایک اہم مسئلہ رہی، کیونکہ علاقائی اعدادوشمار کے مطابق ڈرہم ریجن میں بے گھر افراد کی سب سے بڑی تعداد اوشاوا میں ہے۔ 2022ء کے بلدیاتی انتخابات میں صرف 18.4 فیصد اہل ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا۔
“ہیملٹن”
ہیملٹن میں موجودہ میئر آندریا ہوروَتھ مزید 12 امیدواروں کے مقابلے میں دوبارہ انتخاب لڑ رہی ہیں۔ ان کے حریفوں میں سٹی کونسلر روب کوپر اور ہیملٹن چیمبر آف کامرس کے سابق صدر کینن لومس بھی شامل ہیں، جو 2022ء کے انتخابات میں ہوروَتھ سے تقریباً 1,600 ووٹوں سے ہار گئے تھے۔
ہیملٹن میں قبل از وقت ووٹنگ کے دوران کم از کم 34 ہزار 996 ووٹ ڈالے گئے، جو 2022ء کے انتخابات میں ڈالے گئے 30 ہزار 893 ووٹوں سے زیادہ ہیں۔
“کیمبرج”
کیمبرج میں میئر کی نشست کے لیے 6 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں موجودہ میئر جان لیگٹ اور کونسلر اسکاٹ ہیملٹن بھی شامل ہیں۔ انتخابی مہم میں رہائش، عوامی ٹرانسپورٹ اور لائٹ ریل ٹرانزٹ کے منصوبے اہم موضوعات رہے۔
اونٹاریو کے ان بلدیاتی انتخابات میں ووٹرز کے فیصلے سے شہروں کی آئندہ قیادت کا تعین ہوگا، جبکہ رہائش، مہنگائی، ٹرانسپورٹ، بے گھری اور عوامی تحفظ جیسے اہم شہری مسائل سے نمٹنے کی ذمہ داری بھی نئی منتخب قیادت کے سپرد ہو جائے گی۔

