ڈیٹرائٹ (نمائندہ خصوصی) سابق امریکی صدر براک اوباما نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا پر عائد تجارتی محصولات اور تجارتی جنگ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے طنزیہ انداز میں کینیڈا کو ’’بدنام زمانہ دشمن سلطنت‘‘ قرار دے دیا۔
ڈیٹرائٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے براک اوباما نے کہا کہ کینیڈا ہمارا پڑوسی ملک ہے، جہاں ڈیٹرائٹ سے پل عبور کرکے چند منٹ میں پہنچا جاسکتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے امریکا کو اداکار مارٹن شارٹ اور میپل سیرپ جیسی چیزیں دی ہیں۔ کینیڈین دنیا کے انتہائی خوش اخلاق لوگ ہیں، لیکن حیرت ہے کہ امریکا نے انہیں اپنے خلاف اتنا ناراض کیسے کردیا۔
براک اوباما نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا، اس کی توہین کی اور اسے امریکا کی 51ویں ریاست بنانے کی باتیں کیں، جس سے دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی محصولات پر مبنی پالیسی امریکی شہریوں کے لیے بھی مہنگائی کا سبب بن رہی ہے۔ جب درآمدی اشیا پر محصولات عائد کیے جاتے ہیں تو ان کا بوجھ بالآخر صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس کے اثرات صرف بیرون ملک سے آنے والی اشیا تک محدود نہیں رہتے بلکہ امریکا میں تیار ہونے والی گاڑیوں اور دیگر مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں، کیونکہ ان کی تیاری میں کینیڈا سے آنے والے پرزے استعمال ہوتے ہیں۔
اوباما نے کہا کہ ریاست مشی گن کی گاڑیوں کی صنعت کا کینیڈا کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور دونوں ممالک کے درمیان پرزوں کی ترسیل اور صنعتی تعاون انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ محصولات میں اضافے سے پیداواری لاگت بڑھتی ہے اور اس کا اثر امریکی صنعت اور صارفین دونوں پر پڑتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد تک محصولات عائد کیے تھے، جس کے جواب میں کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے ستمبر میں امریکی مصنوعات پر اسی تناسب سے جوابی محصولات عائد کیے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں بعض کینیڈین مصنوعات پر محصولات ختم کرنے کا عندیہ بھی دیا، تاہم درجنوں نئی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
براک اوباما ڈیٹرائٹ میں سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید اور ریاستی گورنر کے امیدوار جوکلین بینسن کی انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ ان کا یہ خطاب 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے، جن میں کانگریس پر کنٹرول کے لیے ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
اوباما نے ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کو امریکی معیشت اور عوام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا جیسے قریبی اتحادی کے ساتھ تجارتی جنگ چھیڑنے سے امریکا کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔

