فورٹ کیپل (سی بی سی)کینیڈا کے صوبے سسکیچیوان کے شہر فورٹ کیپل میں رہنے والے لیری اور ہیلن فرے نے شادی کے 75 سال مکمل کرلیے۔ 1951ء میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے اس جوڑے نے اپنی زندگی میں دنیا کو گھوڑا گاڑیوں اور کھیتوں میں گھوڑوں سے کام لینے کے دور سے جدید مشینوں اور برقی گاڑیوں تک بدلتے دیکھا ہے۔

96 سالہ لیری اور 97 سالہ ہیلن کی شادی نومبر 1951ء میں ہوئی تھی۔ دونوں کو اپنی شادی کی پہلی رات آج بھی یاد ہے، جب وہ ایک ایسے دیہی گھر پہنچے جہاں نہ بجلی تھی اور نہ ہی باورچی خانے میں الماریاں موجود تھیں۔ سرد موسم میں گھر کو گرم کرنے کے لیے چولہے میں آگ جلانا پڑی اور بستر کھول کر اسے باورچی خانے کے چولہے کے قریب رکھنا پڑا تاکہ سردی سے بچا جا سکے۔
لیری نے اس وقت کی مشکلات یاد کرتے ہوئے بتایا کہ گھر پہنچنے کے بعد انہیں بستر کھول کر چولہے کے قریب لے جانا پڑا، پھر آگ جلا کر کمرے کو گرم کیا گیا۔ ہیلن نے ہنستے ہوئے کہا کہ ان کی شادی کی پہلی رات کا یہ واقعہ ایسا ہے جس کی کہانی شاید ہی کسی اور جوڑے کے پاس ہو۔

دونوں کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب لیری 21 اور ہیلن 22 سال کی تھیں۔ ہیلن ایک دکان پر کلرک کے طور پر کام کرتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ لیری سے ملاقات سے پہلے ہی ان کے بارے میں سنا تھا کہ وہ خیال رکھنے والے انسان ہیں، اس لیے جب وہ پہلی مرتبہ دکان میں داخل ہوئے تو ہیلن نے انہیں اپنا شریکِ حیات بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ تاہم پہلی نظر میں انہیں لیری کی شکل اور کم عمری دیکھ کر حیرت بھی ہوئی۔
لیری نے ازراہِ مذاق کہا کہ انہوں نے بڑی عمر کی خاتون سے شادی اس لیے کی تھی کیونکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایسی خواتین زیادہ خوش مزاج ہوتی ہیں۔ انہوں نے ہیلن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی پہلے جیسی دکھائی دیتی ہیں۔

لیری کے مطابق ان کی زندگی میں زراعت کے شعبے میں غیر معمولی تبدیلیاں آئیں۔ ابتدا میں کھیتی باڑی کے لیے گھوڑوں کی جوڑی اور گہائی کرنے والی مشینیں استعمال ہوتی تھیں، لیکن وقت کے ساتھ طاقتور جدید مشینوں نے ان کی جگہ لے لی۔ وہ گاڑیوں کے شوقین رہے ہیں اور اب بھی اپنی برقی گاڑی چلانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جوانی کے زمانے میں سڑکیں بھی کم پختہ تھیں اور ابتدائی ملاقاتوں کے دوران دونوں اکثر گھوڑوں پر سواری کرکے گھومنے جاتے تھے۔ ان کے نزدیک زندگی میں سب سے بڑی تبدیلی بجلی کی آمد تھی، جس سے گھروں میں ریفریجریٹر، گاڑیوں کو سرد موسم میں گرم رکھنے کے آلات اور دیگر سہولتیں میسر آئیں۔ اس سے پہلے کھانے پینے کی اشیا حاصل کرنے کے لیے تہہ خانے جانا پڑتا تھا اور گاڑی کو سردی سے بچانے کے لیے آگ جلانے جیسے طریقے اختیار کیے جاتے تھے۔
75 سالہ ازدواجی زندگی کے دوران ان کا خاندان بھی پھیلتا گیا۔ ان کے 4 بچے، 10 پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں، 16 پڑپوتے پڑپوتیاں اور ایک نسل مزید آگے بڑھنے والا ننھا رکن بھی ہے۔ اہل خانہ اور دوست اس ماہ ان کی شادی کی ڈائمنڈ سے بھی آگے کی اس غیر معمولی سالگرہ کی خوشی منانے کیلئےجمع ہوں گے۔
طویل اور خوشگوار ازدواجی زندگی کا راز پوچھا گیا تو لیری نے مختصر مشورہ دیا کہ بعض اوقات خاموش رہنا اور شریکِ حیات کو اپنی جگہ دینا ہی بہتر ہوتا ہے۔ ہیلن نے کہا کہ وہ کوئی خاص نصیحت کرنے کی اہل نہیں، زندگی کے سال گزرتے گئے اور وہ دونوں خوشیوں، مشکلات اور صدمات کا مل کر سامنا کرتے رہے۔
ہیلن نے اپنے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ہر دن کو جیسا ملے، اسی طرح گزارنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لیری کو دیکھ کر آج بھی شکر ادا کرتی ہیں کہ وہ ان کے شریکِ حیات ہیں اور انہیں ان کے ساتھ زندگی گزارنے پر بے حد خوشی ہے۔

