امریکی وسط مدتی انتخابات، ٹرمپ کی مشی گن میں انتخابی مہم، کیلیفورنیا میں قانونی جنگ شدت اختیار کرگئی

واشنگٹن (سی این این) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے سلسلے میں ریاست مشی گن میں انتخابی جلسہ کیا ہے، جبکہ دوسری جانب کیلیفورنیا میں انتخابی عمل اور ووٹوں کی گنتی سے متعلق قانونی جنگ شدت اختیار کرگئی ہے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ اور مختلف ریاستوں کے درمیان انتخابی ضوابط، ووٹرز کی رجسٹریشن اور ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں کے حوالے سے تنازعات سامنے آرہے ہیں۔

امریکی محکمہ انصاف نے کیلیفورنیا کے انتخابی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹر فہرستوں میں شامل ایسے تقریباً 20 ہزار افراد کی نشاندہی کی جائے جن کے بارے میں وفاقی حکام کو شبہ ہے کہ وہ امریکی شہری نہیں ہیں، اور ان سے منسلک ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹ الگ رکھے جائیں۔

کیلیفورنیا کے انتخابی حکام نے وفاقی حکومت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کی درستگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی عمل شروع ہونے کے بعد اس نوعیت کی تبدیلیاں انتظامی اور تکنیکی مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔

دوسری جانب الاسکا میں بھی سینیٹ کے انتخابی نتائج کی تصدیق سے متعلق قانونی تنازع جاری ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایسی صورت میں انتخابی نتائج کی حتمی تصدیق روکنے کے لیے قانونی کارروائی کی ہے جب ریپبلکن امیدوار ڈین سلیوان معمولی فرق سے ہار جائیں۔

امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت کا مقصد ریاستی انتخابات پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ انتخابی عمل میں ممکنہ بے ضابطگیوں اور ووٹرز کی الجھن کا جائزہ لینا ہے۔

دریں اثنا کیلیفورنیا میں ووٹوں سے متعلق قانونی تنازع پر اپیل کورٹ میں سماعت کے دوران ججوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے قانونی مؤقف پر سوالات اٹھائے۔ یہ مقدمہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی کانگریس پر کنٹرول کی سیاسی کشمکش کے تناظر میں اہمیت اختیار کرگیا ہے۔