ایشیائی کھیلوں کے 248 رکنی قومی دستے میں شامل 155 کھلاڑی اور آفیشلز
اپنے خرچ پر جاپان جائیں گےجبکہ 93 کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی
حال ہی میں ورلڈ یونیورسٹی گیمز جرمنی اور کامن ویلتھ گیمز گلاسگو میں کھلاڑیوں کیہ روپوشی سے ملک
کی بدنامی ہوئی ایشین گیمز میں بدنامی سے بچنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ کرنل آصف ڈار
جاپان میں رواں ماہ ہونے والی ایشین گیمز میں ممکنہ طور پر پاکستانی کھلاڑیوں کی روپوشی کے واقعات سے بچنے کیلئے تاحال ٹھوس اقدامات نہ اٹھاۓ جا سکے، پاکستان کی کھیلوں کے انسائیکلوپیڈیا اور پاکستان ٹینس فیڈریشن کے سابق سیکرٹری کرنل ریٹائرڈ آصف ڈار نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ایشین گیمز میں کھلاڑیوں کی روپوشی روکنے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ ایشین گیمز کے 248 رکنی قومی دستے میں شامل 93 کھلاڑیوں اور آفیشلز کے اخراجات حکومت برداشت کر رہی ہے جبکہ 155 افراد اپنے خرچ پر ایشین گیمز میں شرکت کیلئے جاپان جائیں گے۔
کھلاڑیوں کی ایشیائی کھیلوں میں شرکت کو یقینی بنانے کیلئے ایکریڈیشن (رجسٹریشن ) کی تمام تر ذمے داری پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن پر ہے یعنی کسی بھی کھلاڑی یا آفیشل کے غائب ہونے کی صورت میں سارا نزلہ پی او اے پر گرے گا۔ جاپان کی مضبوط معیشت اور روزگار کے وافر مواقع ہونے کے باعث ماضی میں فٹبال ٹیم سمیت کئی بار کھلاڑیوں کے روپوش ہونے کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ رواں برس ورلڈ یونیورسٹی گیمز جرمنی اور گلاسگو میں ہونے والے حالیہ کامن ویلتھ گیمز میں بھی کھلاڑیوں کے روپوش ہونے کے واقعات رونما ہوچکے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور حکومت کی جانب سے تاحال کھلاڑیوں کی روپوشی روکنے کے حوالہ سے کسی ٹھوس اقدام کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔
اس حوالہ سے گفتگو کرتے ہوۓ کرنل آصف ڈار کا کہنا ہے حکومت نے 155 کھلاڑیوں اور آفیشلز کو اپنے خرچ پر جانے کی اجازت دے کر کھیلوں کی فیڈریشنوں کو کھلی چھٹی دیدی ہے جبکہ ان میں سے کسی ایک کے بھی میڈل جیتنے کا امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا حالیہ گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں غائب ہونیوالے باکسر کا تاحال کچھ پتہ نہیں جس سے پاکستان کی خوب جگ ہنسائی ہوئی، ماضی میں کھیلوں کی فیڈریشنیں پیسے لے کر کھلاڑیوں کو مبینہ طور پر غائب کرواتی رہیں۔ ٹورنٹو کینیڈا میں کبڈی کے اوسط درجے کے کھلاڑیوں کی اکثریت اسی طرح غائب ہوئی۔ آصف ڈار نے کہا کہ ایشین گیمز میں کھلاڑیوں کی روپوشی روکنے کیلئے حکومت کوفوری طور پر ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے بصورت دیگر مستقبل میں پابندی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔

