لاہور(نمائندہ خصوصی) سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی زیر صدارت لاہور میں محفوظ بسنت کے حفاظتی انتظامات کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا، جس میں حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق 12، 13 اور 14 مارچ 2027 کو بسنت کے انعقاد کیلئے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کی گئیں۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ مقررہ تاریخوں سے قبل اور بعد ازاں پنجاب بھر میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی برقرار رہے گی اور خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے ضروری حفاظتی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور بسنت سے قبل تمام حفاظتی انتظامات مکمل کرنا ہوں گے۔ کسی غیر محفوظ یا ناپائیدار چھت پر پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ بسنت کے دوران پتنگ بازی کیلئے استعمال ہونے والی چھتوں کی دیواریں اور گرِل کم از کم ساڑھے 3 فٹ بلند اور مضبوط ہونا لازم ہے جبکہ چھت کی پائیداری اور حفاظت کی ذمہ داری عمارت کے مالکان پر عائد ہوگی۔ اجازت یافتہ مقامات پر چھتوں، منڈیر اور سیڑھیوں کی مرمت 31 دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور کو پرانی عمارتوں اور گھروں کی چھتوں کا مکمل معائنہ کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ کمزور عمارت یا غیر محفوظ چھت کی صورت میں بسنت کے دوران بھی وہاں پتنگ بازی پر پابندی عائد کی جائے۔ بجلی کی تاریں چھت کے قریب ہونے کی صورت میں عمارت کا مالک بسنت سے قبل انہیں محفوظ بنانے کا پابند ہوگا۔
سیکرٹری داخلہ نے سٹی ٹریفک پولیس لاہور کو ہدایت کی کہ بسنت سے قبل 20 لاکھ سے زائد موٹر سائیکلوں پر حفاظتی سلاخیں مفت لگائی جائیں جبکہ لیسکو تمام تنصیبات کو حفاظتی جال کے ذریعے بروقت محفوظ بنائے۔
انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور مقررہ حدود کے مطابق پتنگ اور ڈور کی تیاری، ترسیل اور فروخت کیلئے رواں ماہ اجازت نامے جاری کریں گے۔ حکومتی اجازت کے بغیر پتنگ اور ڈور کی تیاری، ترسیل یا فروخت کی اجازت نہیں ہوگی۔
بسنت کے دوران پی ایچ اے شہر کے درختوں جبکہ لیسکو بجلی کے کھمبوں اور تاروں سے پتنگیں محفوظ طریقے سے اتارنے اور تلف کرنے کا پابند ہوگا۔ عمارتوں کی لفٹس کیلئے حفاظتی سرٹیفکیٹ کا حصول لازم ہوگا جبکہ چھتوں پر آتش گیر مواد رکھنے پر پابندی ہوگی۔ تمام اجازت یافتہ مقامات پر ابتدائی طبی امداد کا سامان بھی موجود ہونا لازم قرار دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ بسنت کے دوران بچوں کی حفاظت والدین، سرپرستوں اور منتظمین کی اولین ذمہ داری ہوگی جبکہ چھتوں پر بچوں اور دیگر شرکا کیلئے تمام حفاظتی انتظامات یقینی بنانا مالکان اور منتظمین کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ محکموں کے مجاز افسران پتنگ بازی کیلئے استعمال ہونے والی چھتوں کا معائنہ کریں گے جبکہ ہدایات اور قانون کی خلاف ورزی پر ڈپٹی کمشنر کسی بھی عمارت کو سربمہر کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ حادثے، جانی نقصان، زخمی ہونے یا قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں عمارت کا مالک اور منتظم ذمہ دار ہوگا۔
سیکرٹری داخلہ پنجاب نے واضح کیا کہ 12، 13 اور 14 مارچ 2027 سے قبل اور بعد ازاں پتنگ بازی پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔ مقررہ تاریخوں سے قبل یا بعد پتنگ بازی کرنے پر 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا جبکہ حکومتی اجازت سے قبل پتنگ اور ڈور کی تیاری، ترسیل یا فروخت پر 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اہل علاقہ اور عوام کیلئے پریشانی، ہراسگی یا غیر مہذب رویے کی اجازت نہیں ہوگی۔ شہری کسی بھی غیر محفوظ، غیر قانونی یا غیر مہذب سرگرمی کی اطلاع ہنگامی امدادی نمبر 15 پر دیں۔
اجلاس میں خصوصی سیکرٹری داخلہ زینب خان، کمشنر لاہور، ڈپٹی کمشنر لاہور، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، چیف ٹریفک افسر لاہور، ایڈیشنل سیکرٹری داخلی سلامتی، ایڈیشنل سیکرٹری عدالتی امور، ڈائریکٹر قانون، ڈائریکٹر سول ڈیفنس پنجاب اور لیسکو، پی ایچ اے، والڈ سٹی اتھارٹی اور ایل ڈی اے کے افسران نے شرکت کی۔

