مسی ساگا(نامہ نگار) سابق میئر مسی ساگا بونی کرومبی نے کہا ہے کہ امریکی محصولات اور تجارتی غیر یقینی صورتحال کے باعث شہر کی تقریباً 90 ہزار ملازمتیں متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، ایسے میں صرف ’’تیار رہنے‘‘ کا اعلان کافی نہیں، شہر کو واضح حکمت عملی اور فوری عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
بونی کرومبی نے اپنے ایک مضمون میں کہا کہ گزشتہ ہفتے میئر کیرولین پیرش نے تجارتی بورڈ سے ملاقات کی، عملے کو ممکنہ اقدامات کا جائزہ لینے کی ہدایت کی اور کہا کہ مسی ساگا ’’تیار ہے‘‘، جبکہ شہر نے تجارتی تنوع کیلئے وفاقی حکومت سے 15 لاکھ ڈالر کی مالی معاونت کی درخواست بھی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات مناسب ضرور ہیں لیکن انہیں حکمت عملی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جب مقامی ہزاروں ملازمتیں تجارتی جنگ کے خطرے سے دوچار ہوں تو سٹی ہال صرف مسئلے کا جائزہ لے کر کسی دوسرے فریق کے حل کا انتظار نہیں کر سکتا۔
بونی کرومبی نے کہا کہ معاشی ترقی کے میدان میں شہروں اور کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے اور سرمایہ کاری حاصل کرنے کیلئے میئر کو خود آگے بڑھنا، کاروباری رہنماؤں سے رابطہ کرنا، سرمایہ کاروں کو شہر میں آنے پر آمادہ کرنا اور سرمایہ کاری آنے تک کوشش جاری رکھنا ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران انہوں نے اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری رہنماؤں کو اکٹھا کرکے ان کی ضروریات معلوم کیں، اعلیٰ حکومتی سطح پر ان اقدامات کی وکالت کی اور بحالی کیلئے مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں مسی ساگا کی معیشت میں بہتری آئی اور نئی سرمایہ کاری و کاروباری توسیع سے 6 ہزار 700 سے زائد خالص نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں۔
سابق میئر نے کہا کہ اپنے سابق دور میں انہوں نے سرمایہ کاری کا انتظار کرنے کے بجائے خود مسی ساگا کو سرمایہ کاروں کیلئے پیش کیا اور ادویہ و حیاتیاتی علوم، ہوابازی، ٹیکنالوجی اور جدید صنعتی پیداوار سمیت مختلف شعبوں میں کاروباروں کو راغب اور موجودہ کاروباروں کو وسعت دینے کیلئے کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی محصولات طے کرنا یا واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنا سٹی ہال کے اختیار میں نہیں، تاہم شہر کے پاس اپنی معیشت کے تحفظ کیلئے کئی حقیقی اختیارات موجود ہیں۔ سٹی ہال کروڑوں ڈالر کی خریداری کرتا ہے، مقامی سپلائرز کو ادائیگی کی رفتار، نئی سرمایہ کاری کی منظوری کے عمل اور ملازمتوں کیلئے مسی ساگا کو دوسرے شہروں کے مقابلے میں زیادہ پرکشش بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
بونی کرومبی نے تجویز دی کہ امریکی محصولات سے براہ راست متاثر ہونے والے اہل تجارتی اور صنعتی اداروں کو محدود مدت کیلئے شہری حصے کے جائیداد ٹیکس کی بلا سود ادائیگی مؤخر کرنے کی سہولت دی جائے تاکہ کاروباروں کے پاس ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی اور ملازمتوں کے تحفظ کیلئے زیادہ رقم موجود رہے۔
انہوں نے کہا کہ اہل مقامی چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کو ادائیگی کیلئے 15 روز کی مدت مقرر کی جانی چاہیے تاکہ مالی دباؤ کا شکار مقامی کاروبار سٹی ہال کو بلا سود قرض فراہم کرنے پر مجبور نہ ہوں۔
سابق میئر نے کہا کہ مسی ساگا کو اپنی خریداری کی طاقت بھی زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنی چاہیے۔ شہر نے 2024 میں 73 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی خریداری کی، اس لیے کینیڈا اور اونٹاریو میں تیار ہونے والی اشیا کی خریداری کو مستقل ترجیح دی جانی چاہیے جبکہ ’’مسی ساگا میں تیار کردہ‘‘ اشیا کیلئے خریداری کی الگ حکمت عملی وضع کرکے اہل مقامی کاروباروں کو شہری معاہدوں میں منصفانہ مقابلے کا موقع دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ محصولات کی وجہ سے شمالی امریکا بھر میں کمپنیاں اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ وہ اپنی مصنوعات کہاں تیار، جوڑ اور تقسیم کریں گی، ایسے میں مسی ساگا کو شروع ہی سے ان سرمایہ کاریوں کے حصول کیلئے بھرپور مہم چلانی چاہیے تھی۔
بونی کرومبی نے کہا کہ اگر کوئی کمپنی کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری، موجودہ صنعتی مرکز کو جدید بنانے، پیداوار کینیڈا منتقل کرنے یا بڑی تعداد میں مقامی ملازمتیں محفوظ کرنے کیلئے تیار ہو تو اسے سٹی ہال کے مختلف دفاتر کے چکر نہیں لگوانے چاہئیں۔ ایسی سرمایہ کاری کیلئے ایک ذمہ دار افسر، 10 کاروباری دن کے اندر منظوری کا واضح لائحہ عمل اور ترجیحی بنیادوں پر کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے ٹورنٹو پیئرسن ہوائی اڈے کو بھی مسی ساگا کی معاشی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کی تقریباً 45 فیصد فضائی مال برداری پیئرسن کے ذریعے ہوتی ہے اور یہ دنیا بھر میں تقریباً 200 مقامات سے منسلک ہے۔ ایسے وقت میں جب کینیڈین کاروبار امریکا سے باہر نئی منڈیوں کی تلاش کر رہے ہیں، پیئرسن کو سرمایہ کاری کے حصول اور مقامی کمپنیوں کو نئی منڈیوں تک رسائی دلانے کیلئے مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔
بونی کرومبی نے کہا کہ یہ سب کچھ اس وقت ممکن نہیں جب میئر ان میزوں پر موجود نہ ہو جہاں اہم فیصلے کیے جا رہے ہوں۔ موجودہ میئر اہم مواقع پر اعلیٰ حکومتی سطح پر براہ راست آواز اٹھانے میں ناکام رہی ہیں اور انہوں نے کوئی تجارتی وفد بھی نہیں لے کر گئیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود اونٹاریو کے بڑے شہروں کے میئرز کی تنظیم کی سربراہ رہ چکی ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے وزرائے اعلیٰ، وزرائے اعظم اور حکومتوں کے ساتھ براہ راست کام کرچکی ہیں۔
بونی کرومبی نے کہا کہ موجود رہنا اہم ہے لیکن صرف موجود ہونا کافی نہیں، واضح مطالبہ کرنا، اپنا مؤقف پیش کرنا اور نتیجہ حاصل ہونے تک کوشش جاری رکھنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دوبارہ میئر کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے سابق دور میں انہوں نے بڑے کاروباری اداروں اور مختلف شعبوں کے ساتھ براہ راست کام کیا، جس کے نتیجے میں مسی ساگا میں 9 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری لانے میں مدد ملی۔
بونی کرومبی نے کہا کہ وہ ماضی کی کامیابیوں کی بات کرنے کیلئے دوبارہ انتخاب نہیں لڑ رہیں بلکہ اسلئے میدان میں آئی ہیں کہ مسی ساگا کو اس وقت مہنگائی اور رہائش کے اخراجات، ٹریفک، شہری تحفظ اور ملازمتوں کے معاملات پر زیادہ فوری اور مؤثر قیادت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ طرز عمل میں اکثر مسئلے کا جائزہ لینے اور انتظار کرنے پر زیادہ توجہ نظر آتی ہے جبکہ عملی اقدامات کم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا طریقہ کار واضح ہے، پہلے سننا، پھر فیصلہ کرنا اور اس کے بعد نتیجہ دینا۔
بونی کرومبی نے کہا کہ گزشتہ ہفتے موجودہ میئر نے کہا تھا کہ مسی ساگا ’’تیار ہے‘‘، تاہم تقریباً 90 ہزار ملازمتوں کے امریکی برآمدات سے براہ راست وابستہ ہونے کے باعث صرف تیار رہنا کافی نہیں، مسی ساگا کو واضح منصوبہ، مضبوط قیادت اور فوری عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

