مشرق وسطیٰ کے معاملات میں تبدیلی آئی ہے لیکن جو عمل جہاں سے ہونا چاہیے،وہاں سے نہیں ہو رہا، غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی آواز بہرحال سنی گئی اور برطانیہ کی طرف سے اسرائیلی تجاوز کو قطعی طور پر غیر قانونی قرار دے کر ناجائز تعمیر میں معاونت کرنے والی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا گیا اور برطانوی وزیراعظم کے مطابق حکومت کی طرف سے اسرائیل کے لئے اسلحہ کے کئی لائسنس بھی منسوخ کردیئے گئے ہیں، برطانوی وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ برطانیہ دو ریاستی حل کا حامی ہے۔ برطانیہ کے ساتھ کم و بیش نو، دس دیگر یورپی ممالک نے بھی تائید کی ہے، اسرائیل کی طرف سے غزہ میں کئے جانے والے مظالم پر بھی ان ممالک نے توجہ دی اور نسل کشی کے واقعات کی نشاندہی کی ہے۔
یہ ایسی حقیقت ہے جس سے آنکھ بھی نہیں چرائی جا سکتی کہ اسرائیل نے مسلسل فضائی بمباری اور زمینی کارروائی سے غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے اور اس وقت لاکھوں فلسطینی مرد و خواتین اور بچے کھلے آسمان تلے شدید مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔ اس پر اسرائیل حملے بھی جاری ہیں اور نام نہاد فائر بندی سے اب تک اسرائیل افواج 15سو سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہیں اوریہ سلسلہ جاری ہے اور اب حالات یہ ہیں کہ صہیونیوں نے نئی چال چلی اور غزہ کے مغربی کنارے پر آبادکاری شروع کر دی اور یہ آباد کار فوج کے سائے میں فلسطینیوں پر حملے بھی کرتے ہیں۔ یورپی ممالک ہی کے مطابق اس وقت اسرائیل غزہ کے 50فیصد حصے پر قابض ہے اور برطانیہ کی معاونت میں یورپی ممالک نے اسے بھی غیر قانونی قرار دیا ہے۔
برطانیہ کے برحق موقف سے اسرائیل کا تلملانا تو بنتا ہی ہے اور اس کی طرف سے بیت المقدس میں برطانوی سفارت خانہ بند کر دیا گیا ہے۔ صہیونی حکومت کی یہ دیدہ دلیری ہے کہ دیرآید درست آیدکے مطابق اگر یورپ کی حکمران جماعتوں میں سچ کی حمائت شروع ہوہی گئی ہے تو اسرائیل کو مروڑ اٹھنے لگے ہیں اور اس کی طرف سے جو جوابی قدم اٹھایا گیا ہے اس کی بنیادی وجہ امریکی حمائت ہے کہ اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے داماد اور کابینہ کے بعض وزیر خود صہیونی ہیں اور یہ سب اسرائیل کی ہر ناجائز کارروائی کی حمائت کرتے ہیں، برطانوی پارلیمنٹ میں وزیراعظم اور وزیرخارجہ کے موقف کے جواب میں امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ، برطانیہ سے اتفاق نہیں کرتا اور اس کی اپنی پالیسی ہے، مطلب یہ کہ واضح طور پر صہیونی حکومت کی حمائت اور یہ جاری رہے گی۔
اب یہ کوئی خفیہ امر نہیں کھلی حقیقت ہے کہ اسرائیل نے جارحیت اور نسل کشی کا عمل امریکی تعاون سے کیا اور اس قدر قتل و غارت گری کی گئی کہ آسمان بھی کانپ گیا ہوگا لیکن ان ممالک پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا حالانکہ ان تمام ممالک کے عوام کی اکثریت اسرائیلی دہشت گردی پر سراپا احتجاج ہے۔یہ احتجاج تو امریکہ میں بھی ہوا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے اہمیت نہیں دی الٹا مبینہ دہشت گردی کے نام پر مزاحمتی قوتوں کو کچلنے کے لئے اسرائیل کی کھلی امداد کی۔ سب سے بڑا تعاون تو یہ تھا کہ اسرائیلی بات مان کر ایران پر حملہ کر دیا اور اب تک اسلام آباد یادداشت کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ ہر روز ایران کو دھمکیاں دیتے اور فوجی کارروائی کرتے رہتے ہیں، تاہم اب حالات میں کچھ تبدیلی واقع ہوئی یہ خوش آئند کہی جا سکتی ہے کہ غزہ کے مظلوم فلسطینی بے یارو مددگار ہیں ان کو خوراک، رہائش، ادویات اور پارجات تک کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر سے امداد بھیجی گئی لیکن وہاں تک نہیں پہنچنے دی گئی۔حقائق خود بولتے ہیں حال ہی میں اسرائیل میں امریکی سفیر غزہ گئے تو انہوں نے صہیونی آباد کاروں کے عزائم پر تنقید کی اور پردہ چاک کیا لیکن اس کابھی اثر نہ ہوا۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایران، امریکہ تنازعہ کے باعث آبناء ہرمز بند ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی درآمد ممکن نہیں رہی۔ ایران اپنی جگہ کنٹرول کی بات کرتا تو امریکیوں کا اپنا دعویٰ ہے لیکن اس کے اثرات یہ ہیں کہ دنیا بھر کی معیشت پر بوجھ آ پڑا ہے۔ خود امریکی معیشت بھی متاثر ہوئی ہے حتیٰ کہ وینزویلا کے تیل پر قابض ہو جانے کے باوجود ٹرمپ امریکہ میں پٹرول سستا نہیں کر سکے اور اب فرماتے ہیں کہ جنگ ختم ہونے کے بعد امریکہ میں پٹرول دو ڈالر فی گیلن ہو جائے گا۔ یہ صورت حال باعث تشویش ہے پاکستان نے دوست ممالک کے تعاون سے جنگ بندی کرائی۔ مذاکرات کا اہتمام کیا لیکن بات پھر وہیں پر آ گئی اور آبناء ہرمز مزید تنازعہ کا باعث بن گئی۔ پس پردہ اب بھی کوشش ہو رہی ہے کہ مذاکرات شروع کرائے جا سکیں۔
قارئین! یہ تو حالات کی عکاسی ہے جو آپ سب کے بھی علم میں ہے۔ میری تشویش یہ ہے کہ حوثی قبائل نے یمن کے زیر قبضہ علاقے سے بلااشتعال جو کارروائی کی ہے وہ حالات کو مزید ابتر کر دے گی یہ ممکن نہیں کہ سعودی عرب کی طرف سے جواب نہ دیا جائے جو بھرپور فضائی حملوں سے دیا گیا، یہ بدقسمتی ہے کہ نوبت یہاں تک آئی۔ حوثیوں کا یہ پرانا رویہ ہے اور ان کو ایران کی مکمل حمائت حاصل ہے۔ حالات حاضرہ میں ایران کا فرض تھا اور ہے وہ حوثیوں کو ایسی کارروائیوں سے روکے، دوسری صورت میں مسلمانوں کے درمیان ایسے اختلافات نہیں ہونا چاہئیں، پہلے ہی امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے امریکی اڈوں پر جو حملے کئے ان سے ناخوشگوار کیفیت بنی تاہم سعودی عرب سمیت تمام خلیجی مسلم ممالک نے تحمل کا ہی مظاہرہ کیا حوثیوں کی ان حرکات سے حالات میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔
قارئین! دل تو یہ چاہتا تھا کہ جس انداز سے اس بار یوم غازی و شہداء ستمبر 65منائے گئے اپنی یادداشت کے خانے سے کچھ اضافہ کروں تاہم یہ اہم سمجھ کر لکھ دیا ستمبر کی یاد پھر!

