طاقتور مصنوعی ذہانت انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے: جیفری ہنٹن

گلاسگو(بی بی سی) نوبیل انعام یافتہ سائنس دان اور مصنوعی ذہانت کے معروف ماہر جیفری ہنٹن نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت پوری انسانی نسل کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جیفری ہنٹن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ہاتھوں انسانوں کے مکمل خاتمے کا خطرہ تقریباً 10 فیصد ہوسکتا ہے۔

میزبان نے دوبارہ سوال کیا کہ کیا وہ واقعی انسانیت کے ختم ہوجانے کا 10 فیصد امکان سمجھتے ہیں، جس پر ہنٹن نے جواب دیا کہ ہاں۔ ان کے جواب پر پروگرام کی میزبان بھی چند لمحوں کے لیے حیران ہوکر خاموش ہوگئیں۔

ہنٹن نے کہا کہ اگر مصنوعی ذہانت انسانوں سے کہیں زیادہ ذہین ہوگئی تو اسے قابو میں رکھنا انتہائی مشکل ہوسکتا ہے۔ انسان اس وقت ایسی ذہانت تیار کر رہے ہیں جو بعض شعبوں میں انسانوں سے تیزی سے بہتر کارکردگی دکھانے لگی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل کی طاقتور مصنوعی ذہانت اپنے مفادات اور اہداف خود طے کرنے کے قابل ہوگئی تو صورتحال انتہائی خطرناک ہوسکتی ہے۔

جیفری ہنٹن کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے بڑے پیمانے پر سائبر حملے، غلط معلومات کا پھیلاؤ اور دیگر تباہ کن کارروائیاں ممکن ہوسکتی ہیں، اس لیے سائنس دانوں کو مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ اس کی حفاظت اور انسانی کنٹرول یقینی بنانے پر بھی فوری توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ مصنوعی ذہانت کے نظام فوری طور پر انسانیت کے خاتمے کا سبب نہیں بن رہے، تاہم مستقبل میں زیادہ طاقتور نظاموں سے وابستہ خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ہنٹن نے کہا کہ انسانوں کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ کہیں وہ ایسی ٹیکنالوجی تو تیار نہیں کر رہے جسے بعد میں خود قابو میں رکھنا ممکن نہ رہے۔

مصنوعی ذہانت کے ممکنہ وجودی خطرات کے حوالے سے دنیا بھر کے سائنس دانوں میں پہلے ہی بحث جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے فوائد کے ساتھ اس کے غلط استعمال اور بےقابو ترقی کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔جیفری ہنٹن نے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے تحفظ اور مؤثر نگرانی کیلئے مزید اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں تاخیر خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔