بجٹ، تنخواہوں میں اضافہ اور مہنگائی!

حالات حاضرہ سے اب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ میں بوڑھا ہوگیا تو شاید میری یادداشت بھی متاثر ہوئی ہے لیکن جب اشاعتی اور نشریاتی اداروں کی خبروں کی طرف رجوع کیا تو احساس ہوا کہ شائد میں اکیلا ہی کسی ذہنی کشمکش میں مبتلا ہوں کہ وفاق کے بعد پنجاب کا سالانہ میزانیہ بھی پیش کر دیا گیا ہے۔ ان کے حوالے سے جو اطلاعات و خبریں سامنے آئیں ان سے سب ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے۔ مجھے جس امر پر تعجب ہوا وہ یہ ہے کہ وفاق اور صوبے کا بجٹ آ گیا۔ ترقیاتی منصوبوں کا شور ہے وزراء میڈیا سے بات کرتے اور ایوانوں میں خطاب کرتے تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں، میں حیرت میں گم ہوں کہ پارلیمانی طرز حکومت میں ایوانوں کے قواعد میں کیا تبدیلی آ گئی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے رپورٹنگ کے دور میں پارلیمانی رپورٹنگ بھی محنت اور توجہ کا سلسلہ تھا اور ہم سبھی ایسا ہی کرتے تھے۔ تب جب بھی کوئی نئے سال کا بجٹ پیش ہوتا تو وزیر خزانہ کی تقریر مکمل ہونے کے بعد فنانس بل بھی پیش کر دیا جاتا لیکن اس بار شاید پہلی بار ہوا کہ بجٹ تقریر کے ساتھ فنانس بل ایوان میں اسی روز پیش نہیں کیا گیا اور یہ کام خود وزیر خزانہ نے قریباً تین یوم کے بعد کیا اس کا فائدہ یہ ہوا کہ بجٹ میں مختلف مدات کیلئے مختص رقوم کا ذکر تو بار بار آیا اور بعض ٹیکسوں کے حوالے سے وضاحت بھی کی گئی لیکن جو نئے ٹیکس لگائے گئے یا جاری ٹیکسوں میں اضافہ ہوا وہ سامنے نہ آ سکے حالانکہ وفاق کی طرف سے روزمرہ استعمال اور خوراک کی شاید ہی کوئی ایسی شے ہو جس پر ٹیکس لگایا یا بڑھایا نہیں گیا، حتیٰ کہ مصالحوں پر بھی جنرل سیلز ٹیکس کے نام پر بجٹ میں آمدن کا ذریعہ بنایا گیا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ گھی اور ٹوٹھ پیسٹ جیسی اشیاء پر بھی ٹیکس میں اضافہ کر دیا گیا جبکہ پٹرولیم لیوی میں اضافہ تو صارفین کے نصیب میں لکھا گیا ہے۔ یوں ہر خاندان یا فرد کے گھریلو اخراجات میں 25سے 50فیصد تک اضافہ محسوس ہو رہا ہے۔پہلے تو بجٹ کا روزقریب آنے پر اشیاء خوردنی و ضرورت کے نرخوں میں اضافہ کر دیا گیا تھا اور اب جب نیا سال شروع ہوگا تو ہر شے پر جنرل سیلز ٹیکس میں اضافہ اور جن اشیاء پر نہیں تھا ان پر بھی عائد ہو گا تو اس زیادہ شرح سے قیمتوں میں اضافہ ہوگا کہ ہماری قوم اتنی ”محب وطن“ تو ہے کہ ایک سے چار بنانا ان کو ہی آتا ہے۔

ذرا غور فرمائیں کہ ماہرین معیشت نے بتایا کہ 1877ارب روپے کا جو بجٹ پیش کیا گیا ہے اس کا 43فیصد قرضوں کے سود کی ادائیگی کیلئے مختص ہے اور باقی 57فیصد جو بچتا ہے اس میں سے دفاع ترقیاتی کاموں اور غیر ترقیاتی اخراجات پر خرچ ہونا ہے اور ان غیر ترقیاتی اخراجات میں جو رحم کیا گیا وہ سرکاری ملازمین پر ہوا کہ حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر تنخواہوں اور پنشن میں سات سات فیصد اضافہ کیا گیا جو بجٹوں کے باعث بڑھنے والی مہنگائی کی روشنی میں اونٹ کے منہ میں زیرہ بھی نہیں ہوگا اسلئے ”گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا“ اب یہ جو روایت یا قواعد میں تبدیلی کے باعث فنانس بل بعد میں پیش کیا گیا تو ٹیکس نمایاں نہیں ہوئے اور دب کر رہ گئے۔ بڑی اچھی حکمت عملی ہے کہ بچوں کے دودھ اور غذائی اشیاء تک پر ٹیکس بڑھا،یا لگا دیا لیکن عام لوگوں کو علم نہیں حالانکہ سفید پوش طبقہ تو اور بھی پس کر رہ جائے گا۔

ایران۔ امریکہ ایم او یو پر دستخطوں کے بعد آبناء ہرمز کے راستے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت تو شروع ہو گئی لیکن بقول صدر ٹرمپ جمعہ کو جب ایک تقریب میں باقاعدہ دستخط ہوں گے تو اس روز یہ آبناء مکمل طور پر آزاد ہوگی اور تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت عام ہوگی۔ حالیہ معاہدے اور متوقع تقریب کے پہلے اثرات ہی یہ ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات 110ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 82ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ جمعہ کے بعد مزید نرخ گریں گے۔ شرح 70سے 75ڈالر فی بیرل تک گر جائے گی جو جنگ سے پہلے کی شرح سے بھی کم ہوگی۔ اب اس کا فائدہ براہ راست پاکستان سمیت دنیا بھر کے صارفین کو ہونا چاہیے تاہم ایسا محسوس ہوا ہے کہ دوسرے ممالک تو شاید جلد اثر لیں تاہم ثالث ملک میں یہ کام ذرا مشکل نظر آتا ہے کہ ہم تو پٹرولیم کے نرخ چار روپے فی لٹر کم کرنے کے عادی ہیں اور اب تو بجٹ میں پٹرولیم لیوی بڑھانے کی تجویز منظور ہو جائے گی، حالانکہ توقع کے مطابق بہت زیادہ نہیں تو پٹرولیم (پٹرول+ڈیزل) کے نرخ 2سو روپے فی لٹر تک آ جانا چاہئیں، اگر حکومت ذرا ہمدردی سے غور کرے تو کم نرخوں سے باربرداری اخراجات پر اثر ہوا تو مہنگائی بھی متاثر ہوگی، اگر اللہ نے دلوں میں رحم پیدا کیا تو نرخ کم ہوجائیں گے جو اب بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

تنخواہ دار طبقات کو یہ جو اضافہ دیا گیا یہ اتنا معمولی ہے کہ اس سے ڈاڑھ بھی گیلی نہیں ہوگی جبکہ پنشنر حضرات پر تو اثر بھی نہیں ہوگا کہ ادویات میں دو تین بار اضافہ قریبا چار سے پانچ سو فیصد ہے ادھر کسی کی توجہ نہیں۔ یہ اضافہ یا ریلیف تو ان حضرات و افراد کیلئے ہے جو سرکاری ملازم ہیں یا سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو چکے ہیں اس میں نجی اداروں کے ملازمین کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ یہ ادارے بجٹ سے منسلک نہیں، یہ تو خیرات کے طور پر ہی اضافہ دیتے ہیں۔ حکومت نے کم از کم تنخواہ 41ہزار مقرر کر دی ہے، اصولی طور پر یہ سرکاری اور غیر سرکاری تمام ملازمین پر لاگو ہونا چاہیے لیکن ہمارے ملک کااصول ہے کہ خالص سرکاری اداروں میں تو عمل ہو جاتا ہے لیکن نیم سرکاری ادارے اور وفاق کے تحت خود مختار اداروں اور ٹرسٹوں کے ملازمین کو نظر انداز کیاجاتا ہے اور ان کیلئے یہ مراعات احتجاج کے بعد ہی عائد ہوتی ہیں۔

ان دنوں ای او بی آئی کے پنشنرحضرات زور شور سے تحریک چلائے ہوئے ہیں ان کا مطالبہ تھا کہ بجٹ کے اعلان ہی کے وقت ان کی پنشن مزدور کی کم از کم سرکاری تنخواہ کے برابر کی جائے جو اب ساڑھے گیارہ ہزار روپے ہیں، توقع کے مطابق بجٹ تقریر میں تو یہ نہیں ہو سکا کہ اب ای او بی آئی (ٹرسٹ) انسانی حقوق کی وزارت سے منسلک کر دیاگیا ہے۔ اس ادارے کے پاس جو سات ہزار ارب روپے سے زیادہ محفوظ رقم اور قریباً دس ہزار ارب روپے کے اثاثے ہیں وہ انہی ریٹارڈ ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کے ہیں کہ ای او بی آئی میں رجسٹر اداروں کے ملازمین کی تنخواہ میں سے مخصوص شرح سے کٹوتی ہوتی اور آجر بھی مقررہ شرح سے ہر ماہ رقم شامل کرتے ہیں، تھوڑا حصہ حکومت کو بھی دینا ہوتا ہے یہ رقم ہر ماہ جمع ہوتی ہے اور جب کوئی ملازم اپنی مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہو تو اسے پنشن ملتی ہے۔ یوں یہ سکیم ملازمین کی اپنی جمع پونجی سے ان کی بڑھاپے میں کفالت کیلئے 1974ء میں شروع کی گئی تھی، یہ ان کا حق ہے جو ملنا چاہیے، یہ نہیں کہ ان کی رقم سے دوسرے تو عیش کریں لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات کی مد میں لیں اور ان کو 11ہزار 500کی معمولی رقم پر ٹرخایا جائے۔ بہتر ہوگا کہ یکم جولائی سے ہی ان کوبھی اضافہ دے دیا جائے۔