پاکستان اور قطر نے ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا: ڈونلڈ ٹرمپ

کیناناسکس، کینیڈا (بین الاقوامی میڈیا)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کیلئےبہت کام کیا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ معاہدے پر بہت جلد، ممکنہ طور پر جمعے کے روز دستخط ہوسکتے ہیں۔

جی سیون اجلاس کے اختتام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر کے ہمراہ وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے جی سیون ممالک کے رہنماؤں سے ایران معاہدے کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا ہے اور تمام ممالک اس پیش رفت پر خوش ہیں کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ دنیا میں معاشی بدحالی نہیں چاہتے تھے اور اگر یہ معاہدہ نہ ہوتا تو آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھلتی، جس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوتے۔امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو بعض اوقات جذباتی ہوجاتے ہیں، تاہم وہ ایک اچھے اتحادی ثابت ہوئے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے افزودہ جوہری مواد کو نکال کر ناکارہ بنائے گا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک کر پوری دنیا کو ممکنہ تباہی سے بچایا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اس بات پر آمادہ ہو گیا ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ مفاہمتی یادداشت کی نقل اسرائیل کو بھی بھیج دی گئی ہے اور امید ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر بہت جلد، شاید جمعے کو، باضابطہ دستخط ہو جائیں گے۔امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ پاکستان اور قطر نے ان مذاکرات کی کامیابی کیلئے نمایاں کردار ادا کیا اور دونوں ممالک نے سفارتی کوششوں میں بھرپور تعاون کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کے معاملے میں بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے جبکہ جوہری ذخائر سے متعلق تکنیکی مذاکرات بھی جلد شروع ہوں گے۔ ان کے بقول خلیجی ممالک کے ساتھ غیر جوہری معاملات پر بھی بات چیت جاری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدے کا احترام نہ کیا تو دوبارہ بمباری کی جائیگی اور یہ کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران معاہدے کی مکمل پاسداری نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ امریکا لبنان میں امن کیلئےبھی کام کریگا اور انہیں امید ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں پورے مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوگا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ایران میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کر رہا، تاہم پڑوسی ممالک ایسا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے باعث ایران کو دو کھرب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے اور اب اسے سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے، جس میں خطے کے ممالک یا دیگر فریق کردار ادا کرسکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس شعبے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت جہاں انتہائی مفید ثابت ہوسکتی ہے، وہیں اس کے منفی اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ابراہیمی معاہدوں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں تاکہ خطے میں امن اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ غیر معمولی جنگجو شخصیت کے حامل ہیں۔ ان کے بقول ایک موقع پر بمباری کے دوران انہوں نے دریافت کیا کہ یہ کارروائی کون کر رہا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ متحدہ عرب امارات کی کارروائی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کی پراکسی تنظیموں کے حوالے سے بھی بات چیت جاری ہے، جبکہ انہوں نے ایران جنگ میں غیر جانبدار رہنے پر چین اور روس کے صدور کا شکریہ بھی ادا کیا۔