وزیراعظم عمران خان نے 2019 میں کرتار پور راہداری کے افتتاح کے دنوں میں سابق انڈین کرکٹر، سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو کے بارے میں شاید یہ بات مذاق میں کہی تھی کہ وہ اگر پاکستان میں الیکشن لڑیں تو کسی بھی حلقے سے کامیاب ہو جائیں گے۔ سدھو نے تو پاکستان سے الیکشن نہیں لڑا مگر ایک انڈین طالب علم نے برطانوی سٹوڈنٹ ویزا پر قانون کی ایک حالیہ ترمیم سے فائدہ اٹھا کر پچھلے ماہ ہونے والے عام انتخابات میں سکاٹش پارلیمنٹ کی رکنیت حاصل کرلی جو برطانیہ کی سیاسی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔
اس خبر نے برطانوی سیاست، امیگریشن قوانین اور جمہوریت کے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہ طالب علم مینی وینن صرف چند سال پہلے یعنی 2021ء میں پی ایچ ڈی کرنے بھارت سے سکاٹ لینڈ آیا تھا اور یہاں سکاٹش گرین پارٹی کے ساتھ سیاست میں بھی حصہ لے رہا تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جس شخص کو عوام نے پانچ سال کیلئے منتخب کیا ہے، اس کے اپنے برطانیہ میں قیام کی مدت چند ماہ بعد ختم ہو رہی ہے۔ نو منتخب سکاٹش پارلیمنٹ نے 2031 تک برقرار رہنا ہے، یعنی پانچ سال۔ سیاسی حلقوں میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر ویزا میں توسیع نہ ملی تو کیا پارلیمنٹ کا منتخب رکن ملک چھوڑنے پر مجبور ہوجائے گا؟ اسی خدشے نے ہولی روڈ (سکاٹش پارلیمنٹ) میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔
منی ونن کے پاس اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد تین سالہ گریجویٹ ویزا کی آپشن ہے۔ لیکن یہ ویزا بھی 2031 تک نہیں پہنچاتا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر انکے پاس برطانیہ میں رہنے کا قانونی حق ختم ہوگیا تو وہ شدید آئینی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ بعض قانونی تشریحات کے مطابق نشست خالی ہوئی تو گرین پارٹی کی فہرست میں موجود اگلے امیدوار کو یہ سیٹ منتقل ہوسکتی ہے۔ جبکہ بعض قانونی ماہرین یہ غیرمعمولی امکان ظاہر کرتے ہیں کہ مینی وینن بیرونِ ملک رہ کر بھی اپنا کام کر سکتے ہیں کیونکہ سکاٹش پارلیمنٹ میں حاضری کی کوئی لازمی شرط موجود نہیں۔
دوسری جانب مینی وینن کا مؤقف ہے کہ انہوں نے قانون کے تحت الیکشن لڑا ہے۔ دراصل پچھلے سال ہی سکاٹش پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر ایکٹ میں ایک معمولی سی تبدیلی کی تھی جو برطانیہ میں قانونی طور پر مقیم کسی بھی شخص کو انتخاب لڑنے کا حق دیتی ہے اور شاید اس وقت کسی کو یہ خیال نہیں رہا کہ انٹرنیشنل سٹوڈنٹ ویزا بھی اس ملک میں رہنے کا ایک قانونی حق ہے چاہے عارضی ہی سہی۔
دوسری طرف یہ حقائق سامنے آنے کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں نے گرین پارٹی پر الزام لگایا کہ اس نے عارضی ویزے پر موجود شخص کو ٹکٹ دے کر ووٹروں کی توہین کی ہے اور اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ تاہم چونکہ برطانیہ میں قانون کی حکمرانی ہے اور اگر کوئی شخص قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سسٹم سے فائدہ اٹھا کر پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہوچکا ہے تو قانون کے رکھوالے اس کا بھی احترام کررہے ہیں۔ دیکھتے ہیں آگے جاکر کیا فیصلے ہوتے ہیں۔ اس نیوز آرٹیکل کی تیاری میں میڈیا رپورٹس، ہولی روڈ (سکاٹش پارلیمان) اور دوسرے ذرائع کی مدد لی گئی ہے۔

