حزب اللہ نے لبنان کے امریکا سے براہِ راست مذاکرات کو مسترد کر دیا

بیروت(لبنانی میڈیا، بین الاقوامی خبر رساں ادارے)مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے لبنانی حکومت کے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں شرکت کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل ملک کی خودمختاری کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اسرائیلی مفادات کو تقویت دے سکتا ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن میں موجود لبنانی وفد پر ایسے امریکی مطالبات تسلیم کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے جو لبنان کی خودمختاری کو محدود کرتے ہیں اور ملک کو ان ریاستوں کے قریب لے جا رہے ہیں جو اسرائیل کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

حزب اللہ نے ان مذاکرات کی بنیاد کو “غلط اور ناقص” قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ عمل قومی مفادات کے تحفظ کے بجائے دباؤ قبول کرنے اور سیاسی سمجھوتے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

بیان کے مطابق ان مذاکرات میں حکومتی شرکت لبنانی مزاحمتی گروہوں کی زمینی کوششوں اور عوامی قربانیوں کو کمزور کر سکتی ہے، جبکہ تنظیم نے زور دیا کہ حکومت کو ان عوامل کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر لبنانی سرزمین سے مکمل اور غیر مشروط انخلا کیلئے دباؤ ڈالنا چاہیے۔

مزید کہا گیا کہ اس نوعیت کی سفارتی پیش رفت لبنان کے استحکام، آزادی اور خودمختاری کیلئےخطرات بڑھا سکتی ہے اور اسے خطے میں موجود امریکی و اسرائیلی پالیسی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ قرار دیا جا سکتا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیوں اور مذاکراتی عمل میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کو مزید واضح کر رہے ہیں۔