سپریم کورٹ نے تیزاب گردی کے مجرم کی اپیل مسترد کر دی

اسلام آباد(نامہ نگار)سپریم کورٹ نے تیزاب گردی کے مقدمے میں سزا یافتہ مجرم عبد المنان کی کم عمری کی بنیاد پر سزا میں نرمی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے، جبکہ متاثرہ لڑکی کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ وحشیانہ اور پہلے سے منصوبہ بند جرم میں کم عمری کو ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، جبکہ تیزاب گردی قتل سے بھی زیادہ ہولناک جرم ہے کیونکہ اس کے اثرات متاثرہ شخص کو پوری زندگی بھگتنا پڑتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی کہ عام شہریوں کو تیزاب کی کھلی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور اس کی خرید و فروخت کے لیے بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔

عدالت نے تمام ہائی کورٹس کو ہدایت کی کہ تیزاب گردی کے مقدمات کا ٹرائل چار ماہ کے اندر مکمل کیا جائے اور متعلقہ عدالتیں خود اس عمل کی نگرانی کریں تاکہ متاثرین کو مزید ذہنی اذیت سے بچایا جا سکے۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ تیزاب حملوں کے متاثرین کی پلاسٹک سرجری اور نفسیاتی علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے، متاثرین کی بحالی کے لیے قومی بحالی فنڈ قائم کیا جائے اور مستقل متاثرین کو معذوری کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے ساتھ سرکاری ملازمتوں میں خصوصی کوٹہ بھی دیا جائے۔