صنعا :سعودی عرب کے حدیدہ پر فضائی حملے، حوثیوں کا سخت ردِعمل

صنعا (رائٹرز، الجزیرہ، اناطولیہ) سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن کے حوثیوں کے زیرِ قبضہ حدیدہ گورنریٹ میں حوثی فوجی تنصیبات پر فضائی حملے کیے ہیں، جس کے بعد حوثیوں نے جوابی کارروائی اور مزید کشیدگی سے خبردار کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحاد کا کہنا ہے کہ حملوں میں حوثیوں کے ایسے فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا جو تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔

حوثی سے وابستہ المسیرة ٹی وی کے مطابق سعودی حملوں میں حدیدہ شہر میں سرکاری ٹیلی کمیونیکیشن ادارے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ مغربی ساحل کے قریب واقع کمران جزیرے پر بھی حملے کیے گئے۔

حوثیوں کی وزارتِ خارجہ نے حملوں کو مزید کشیدگی کا باعث قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کارروائی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

دوسری جانب سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے حدیدہ بندرگاہ کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حدیدہ، راس عیسیٰ اور الصلیف سمیت تمام یمنی بندرگاہیں بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہیں اور تجارتی جہاز وہاں پہنچ رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں حالیہ دنوں میں اس وقت اضافہ ہوا جب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا اور سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ سعودی عرب نے اس کے بعد حوثیوں کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع ہونے کے امکانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی کے دوران سامنے آیا، جبکہ حدیدہ بندرگاہ شمالی یمن کے لیے خوراک، ایندھن اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔

تازہ سعودی حملوں اور حوثیوں کی جوابی دھمکیوں کے بعد بحیرۂ احمر اور باب المندب میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جس سے خطے میں تجارتی جہاز رانی بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔