پیرس(بی بی سی) فرانس نے ملک بھر میں جاری طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے اسٹن گرینیڈ کے استعمال کو معطل کردیا ہے، یہ فیصلہ 15 سالہ لڑکے کا ہاتھ اڑنے کے واقعے کے بعد کیا گیا۔
فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ شمالی شہر لانس میں پیر کو پیش آنے والے واقعے کے حقائق واضح ہونے تک اسٹن گرینیڈ کا استعمال روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ واقعے کے بارے میں مظاہرین اور حکام کی جانب سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔
طلبہ کے احتجاج کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا اور 500 سے زائد اسکول مکمل یا جزوی طور پر بند رہے۔ وزیراعظم سیباسٹیان لوکورنو نے پولیس کے ردعمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو نوجوانوں سے تصادم کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔
وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں کہا کہ نوجوانوں کا غصہ بلاوجہ نہیں، حکومت طلبہ کے مطالبات کا جائزہ لے گی اور اکتوبر کے اختتام تک اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت، اساتذہ کی تعداد میں اضافے سمیت مختلف اقدامات پر تجاویز پیش کرے گی۔

وزیر تعلیم ایڈوارد گیفری نے بتایا کہ 24 اسکولوں کو آگ لگانے یا شدید توڑ پھوڑ کے باعث کئی ہفتوں تک بند رکھنا پڑے گا، جس سے تقریباً 30 ہزار طلبہ متاثر ہوں گے۔
منگل کو بہتر تعلیمی سہولیات کے مطالبے کے لیے لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلے تھے۔ بعض شہروں میں پولیس نے آنسو گیس اور پانی کی توپیں استعمال کیں۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق 488 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 43 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے فرانسیسی ریڈیو سے گفتگو میں بتایا کہ پولیس کے نگران ادارے نے مظاہروں کے دوران اہلکاروں کی جانب سے طاقت کے متناسب استعمال سے متعلق 18 تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ان کے مطابق لانس میں پیش آنے والا واقعہ وزارت داخلہ کے لیے بھی سوالات اٹھا رہا ہے۔
15 سالہ لڑکے کا ہاتھ شمالی شہر لانس میں آگسٹ بیہال ہائی اسکول کے قریب ایک نام نہاد محاصرہ شکن گرینیڈ پھٹنے سے اڑ گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ لڑکے نے گرینیڈ اٹھایا تھا جو بعد میں پھٹ گیا، جبکہ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ پولیس اہلکار کی جانب سے فائر کیے جانے کے بعد گرینیڈ براہ راست لڑکے کو لگا۔ مقامی حکام کے مطابق پولیس کو 200 سے زائد طلبہ کی جانب سے پتھر اور آتش بازی کے سامان پھینکے جانے کا سامنا تھا۔
پولیس یونین کے قومی سیکریٹری ژاں پال ناسمان نے گرینیڈ کے استعمال کی معطلی پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ جذبات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے یہ ہتھیار دستیاب نہ ہونے سے پولیس اور مظاہرین کے درمیان قریبی تصادم اور مزید زخمی ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے پیرس کے شمال مغربی علاقے سینٹ اوئن لوماں میں 14 سالہ لڑکا آنسو گیس کے گرینیڈ کی زد میں آکر زخمی ہوا تھا۔ لڑکے کے وکیل کے مطابق اس کے کئی دانت ٹوٹ گئے اور جبڑے میں فریکچر ہوا، جبکہ واقعے کے سلسلے میں ایک پولیس اہلکار پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
بدھ کو اسٹراسبرگ میں ایک اسکول کے باہر بھی 16 سالہ لڑکا ہاتھ پر شدید چوٹ کا شکار ہوا، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ آتش بازی کے گولے کو پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔
فرانسیسی استغاثہ نے بیلفور شہر میں ایک 17 سالہ طالب علم کی شکایت پر اقدام قتل کی تحقیقات بھی شروع کردی ہیں۔ طالب علم نے الزام لگایا کہ گرفتاری کی کوشش کے دوران ایک پولیس اہلکار نے اس کا سر پانی میں دبائے رکھا۔ دوسری جانب اس طالب علم پر بھی پولیس اہلکار پر حملے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ اور وزیر تعلیم نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے پرتشدد رخ اختیار کرنے کی رفتار غیر معمولی تھی۔ وزیر تعلیم نے دعویٰ کیا کہ درجنوں اسکول سربراہان اور نائب سربراہان زخمی ہوئے اور احتجاجی تحریک میں جلد ہی انتہائی پرتشدد گروہ شامل ہوگئے۔
حکام کے مطابق احتجاجی مظاہروں میں 200 سے زائد طلبہ اور 700 پولیس اہلکار متاثر ہوئے جبکہ 6 ہزار 600 سے زائد گرفتاریاں کی گئیں۔ تاہم وزیر داخلہ نے پولیس کی جانب سے تحریک کو دبانے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اہلکار صرف تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے کے ردعمل میں کارروائی کر رہے ہیں۔
فرانس میں جاری احتجاج صدر ایمانوئل میکرون کے جانشین کے انتخاب کے لیے آئندہ سال اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ میکرون نے منگل کی رات وزیراعظم سیباسٹیان لوکورنو اور دیگر اہم وزرا کے ساتھ ہنگامی اجلاس کیا۔
وزیراعظم لوکورنو نے اسکولوں کو ہدایت کی ہے کہ طلبہ کو اپنے مسائل اور مطالبات بیان کرنے کے لیے نصف دن مختص کیا جائے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے آن لائن مشاورت میں ایک ہی روز کے دوران 30 ہزار جوابات موصول ہوچکے ہیں۔
تاہم طلبہ تنظیموں نے جمعرات کو پیرس اور دیگر شہروں میں احتجاج کے چوتھے مرحلے کا اعلان کیا ہے۔ طلبہ تنظیموں کے مطابق مظاہرین کی تعداد 4 لاکھ 50 ہزار رہی، جبکہ انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدام سامنے نہیں آیا۔

