ریاض(رائٹرز، سعودی سول ایوی ایشن حکام) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور ابہا کے ہوائی اڈوں پر 2 روز میں ہونے والے حملوں میں 3 افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوگئے۔
سعودی جنرل اتھارٹی برائے شہری ہوا بازی کے مطابق شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ریاض پر بدھ کو ہونے والے حملے میں ایک سوڈانی شہری ہلاک اور 8 افراد زخمی ہوئے، جن میں 5 سعودی شہری، 2 مصری شہری اور ایک پاکستانی شامل ہے۔
ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر منگل کو ہونے والے حملے میں مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی 2 خواتین ہلاک جبکہ 28 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی شہریوں کے علاوہ بنگلہ دیش اور فلپائن سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔
سعودی حکام کے مطابق دونوں حملوں میں ہوائی اڈوں کی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا اور متعلقہ ادارے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یمن کے حوثی گروپ نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ اور ابہا ایئرپورٹ کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم سعودی حکام نے اپنے بیان میں حملوں کا ذمہ دار کسی گروپ کو قرار نہیں دیا۔
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ ریاض پر حملے میں استعمال ہونے والا بیلسٹک میزائل لانچ کرنے والا پلیٹ فارم تباہ کردیا گیا۔ رائٹرز کے مطابق یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی حمایت یافتہ فورسز کی کارروائی کے دوران سعودی اتحاد نے حوثیوں کے 80 سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
دریں اثنا یمن میں جاری لڑائی مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے علاوہ یمن کے شہر عدن کے ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب حوثیوں کے خلاف پیش قدمی کر رہی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق شام بھی حوثیوں کے خلاف کارروائی میں سعودی حمایت یافتہ فریق کے ساتھ تعاون کے لیے یمن میں فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔یمن میں حالیہ لڑائی کے باعث صورتحال تیزی سے سنگین ہوئی ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ ہفتوں میں 2 لاکھ سے زائد افراد ملک کے اندر بے گھر ہوچکے ہیں۔

