اوٹاوا(کینیڈین پریس)کینیڈا کی کنزرویٹو پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ پیئر پوئیلیور نے ملک میں ڈیزل کی پیداوار بڑھا کر یومیہ 10 لاکھ بیرل کرنے اور ڈیزل پر وفاقی ٹیکس عارضی طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
پیئر پوئیلیور کے مطابق ایران اور یوکرین کی جنگوں کے باعث حالیہ مہینوں میں ایندھن خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ قدرتی وسائل کینیڈا کے مطابق منگل کو ملک بھر میں ڈیزل کی اوسط خوردہ قیمت تقریباً 2.60 ڈالر فی لیٹر تھی، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں ایک ڈالر 6 سینٹ زیادہ ہے۔

دارالعوام کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کنزرویٹو پارٹی کی توانائی سے متعلق ترجمان کیرول اینسٹی نے کہا کہ کینیڈین شہری عالمی اوسط کے مقابلے میں ڈیزل کے لیے فی لیٹر 31 سینٹ زیادہ ادا کر رہے ہیں۔
کیرول اینسٹی نے کہا کہ ایندھن کی بڑھتی قیمت کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ خوراک کی پیداوار، اشیا کی ترسیل اور گھروں کی تعمیر کی لاگت بھی بڑھتی ہے، جس کا بوجھ گھریلو بجٹ پر پڑتا ہے۔
کنزرویٹو پارٹی نے دارالعوام میں پیش کی گئی تحریک میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یکم جولائی تک ڈیزل پر وفاقی ٹیکس ختم کیا جائے، جبکہ پائپ لائنوں، ریفائنریوں، ریل اور ذخیرہ کرنے کے مراکز سمیت ڈیزل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے ٹیکس میں ریلیف دیا جائے۔
تحریک میں کینیڈا کی ڈیزل پیداوار یومیہ 10 لاکھ بیرل تک بڑھانے کا ہدف مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
تاہم کینیڈا کی ریفائنریاں پہلے ہی اپنی تقریباً مکمل صلاحیت پر کام کر رہی ہیں۔ کینیڈا کے توانائی کے نگران ادارے کی مارچ میں جاری رپورٹ کے مطابق ملک کی خام تیل کی ریفائنریاں یومیہ 16 لاکھ بیرل خام تیل استعمال کر رہی تھیں، جو مجموعی صلاحیت کا تقریباً 90 فیصد ہے۔
وزیر خزانہ فرانسوا فلپ شامپین کے ترجمان جان فراگوس نے کہا کہ حکومت ریفائنری مالکان سے مسلسل رابطے میں ہے جو موجودہ حالات کے مطابق ڈیزل کی پیداوار کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا تقریباً اتنی ہی مقدار میں ڈیزل پیدا کرتا ہے جتنی ملک میں استعمال ہوتی ہے، جس سے اندرون ملک رسد کو تحفظ حاصل ہے۔ کینیڈا اس وقت ڈیزل کا خالص برآمد کنندہ ہے اور اضافی پیداوار برآمدی منڈیوں کو فراہم کی جاتی ہے۔
کیرول اینسٹی نے مزید کہا کہ توانائی کے ذخیرے کو مضبوط بنانے کیلئے حکمت عملی کے تحت ایندھن کا ذخیرہ قائم کیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی عالمی بحران یا رسد میں رکاوٹ کی صورت میں کینیڈا کو تحفظ حاصل رہے۔
کنزرویٹو رہنما پیئر پوئیلیور نے بھی پیر کو دارالعوام کا اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر حکمت عملی کے تحت تیل کا ذخیرہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم منگل کو پیش کی گئی توانائی سے متعلق تحریک میں یہ مطالبہ شامل نہیں کیا گیا۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی اپنے رکن ممالک سے حکمت عملی کے تحت تیل کا ذخیرہ برقرار رکھنے کا تقاضا کرتی ہے، تاہم تیل کا خالص برآمد کنندہ ہونے کے باعث کینیڈا اس شرط سے مستثنیٰ ہے۔

