برلن(رائٹرز)جرمنی کے خفیہ ادارے کے سربراہ مارٹن یاگر نے خبردار کیا ہے کہ روس کے ساتھ جرمنی کے براہِ راست مسلح تنازع میں الجھنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
مارٹن یاگر نے جرمن پارلیمنٹ کی انٹیلی جنس نگرانی کمیٹی کی عوامی سماعت کے دوران کہا کہ روس کے ساتھ جاری محاذ آرائی نے نئی اور زیادہ خطرناک شکل اختیار کرلی ہے اور جرمنی اس وقت روس کے ساتھ مسلح تنازع میں الجھنے کے خطرے سے دوچار ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس جرمنی کے خلاف ایک ’’سایہ جنگ‘‘ جاری رکھے ہوئے ہے، روسی خفیہ ادارے انتہائی پیشہ ورانہ اور بے رحمانہ انداز میں کارروائیاں کر رہے ہیں جبکہ جرمنی کے خلاف حملوں کا خطرہ حقیقی اور موجود ہے۔
مارٹن یاگر کے مطابق روس کی جانب سے یورپی ممالک کے خلاف بڑھتی ہوئی خفیہ اور ہائبرڈ کارروائیوں نے صورتِ حال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی نے یہ محاذ آرائی شروع نہیں کی بلکہ روس اسے اس سمت دھکیل رہا ہے اور جرمنی کو روس اپنا اہم مخالف سمجھتا ہے۔
جرمن خفیہ ادارے کے سربراہ نے روسی خطرے کی مثال دیتے ہوئے لائپزگ ہوائی اڈے پر اگست میں ہونے والی حملے کی کوشش کا بھی ذکر کیا، جہاں دھماکا خیز مواد سے لدا ڈرون استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ جرمن حکام کے مطابق اس واقعے میں روسی عناصر کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
مارٹن یاگر نے تاہم کہا کہ جرمنی کو روس کی جانب سے نیٹو پر بڑے پیمانے کے روایتی حملے کے فی الحال شواہد نہیں ملے، تاہم بحیرہ بالٹک کے خطے میں محدود نوعیت کی فوجی سرگرمیوں اور اشتعال انگیزیوں کا امکان موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی کو 2029 تک انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ ممکنہ روسی کارروائیوں اور مزید اشتعال انگیزیوں کے لیے پہلے سے تیار رہنا ہوگا۔
جرمن خفیہ ادارے کے سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جرمنی اور دیگر یورپی ممالک روس کی جانب سے سائبر حملوں، تخریب کاری اور دیگر ہائبرڈ کارروائیوں کے خطرے سے خبردار کر رہے ہیں۔جرمن پارلیمنٹ کے مطابق خفیہ اداروں کے سربراہان نے روس کو اس وقت جرمنی کے لیے سب سے بڑا سلامتی کا چیلنج قرار دیا ہے۔

