پنجاب کی بیوروکریسی ، محکمانہ امور یا پھر اسے سول سیکریٹیریٹ کی رپورٹنگ کا نام دیں ،میں نے اس محاذ پر اپنی عملی صحافت کے اوائل میں ہی کام شروع کر دیا تھا،جن محکموں سے مجھے بہت دلچسپی تھی اور ہے ،ان میں جیل خانہ جات بھی ایک ہے ، نوے کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں ہی جیلوں کے متعلقہ امور پر مجھے کافی دسترس حاصل ہو چکی تھی،جیل خانہ جات کے اس وقت کے آئی جی چیمہ صاحب سے لے کر موجودہ آئی جی سالک جلال تک سب سے پیشہ وارانہ کام سے بڑھ کر قریبی تعلق کا رشتہ استوار رہتا ہے ،اسی طرح باقی تمام جیل افسروں سے بھی علیک سلیک رہتی ہے ،بہت سوں کو میں اچھی طرح جانتا ہوں اور کچھ مجھے بھی پہچانتے ہیں،موجودہ آئی جی جیل کے ساتھ اٹک جیل کے سپر نڈنڈنٹ نے جو ہاتھ کرنے کی کوشش کی اس پر ہنسی ہی آتی ہے ، وہ جیل سپرنڈنڈنٹ ہو کر بھی بہت نا سمجھ نکلا ،کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتا ہے ،وہ اس سالک جلال کو نہیں جانتا جس کو میں جانتا ہوں ،لوگ مجھے بھی شاہ کا مصاحب سمجھ کر ٹریپ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ہمیں بھی اتراتے پھرنے کی عادت تو ہے مگر ،،غالب برا نہ مان جو واعظ برا کہے ،، اور بعدازاں ،،کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی،، کہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں،مگر سالک جلال تو ایسا بندہ ہے نہ اسکی شہرت ایسی کہ کوئی اسے اس طرح لفافہ دینے کی کوشش کرے ،وہ تو جیلوں کے نخلستان میں بھی پیاسا رہا اور اب چند ماہ بعد ریٹائر ہو رہا ہے ،وہ تو یہ شعر کہنے میں حق بجانب ہے،
عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومن
آخری عمر میں کیا خاک مسلماں ہوںگے
پنجاب کی جیلوں میں کرپشن کوئی نئی بات نہیں، قیدیوں سے ملاقات، بہتر سہولت، ہسپتال، بیرک کی تبدیلی،بار بار فون کی اجازت، گھر سے سامان منگوانے سے لے کر رہائی کے معاملات تک، مختلف ادوار میں جیلوں کے اندر پیسے کے لین دین کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، لیکن کرپشن کی بھی ایک حد ہوتی ہے، ایک احتیاط ہوتی ہے اور شاید ایک ’’پیشہ ورانہ سمجھ‘‘ بھی، اٹک جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے حالیہ واقعہ نے تو یوں محسوس کرایا جیسے کسی نے واقعی ’’آ بیل مجھے مار‘‘ کا محاورہ زندہ کر دیا ہو, اطلاعات کے مطابق اٹک جیل کے سپرنٹنڈنٹ عمران بھرتھ آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال کی رہائش گاہ پر دو لاکھ روپے لے کر پہنچے اور یہ رقم رشوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، آئی جی نے رقم لینے کے بجائے معاملہ سیکرٹری داخلہ پنجاب کو رپورٹ کر دیا ، جس کے بعد ڈی جی اینٹی کرپشن کی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ کو گرفتار کر لیا ۔
اب ذرا اس واقعے کی عجیب و غریب نوعیت پر غور کیجیے، رشوت دینے والا کوئی ماتحت وارڈر نہیں بلکہ ایک جیل کا سپرنٹنڈنٹ ہے اور جسے رشوت دینے کی کوشش کی گئی وہ پنجاب کی جیلوں کا سربراہ ہے، مزید حیرت اس لیے بھی ہوتی ہے کہ میاں سالک جلال نے جولائی 2026 میں آئی جی جیل خانہ جات کا منصب سنبھالا اور محکمہ جیل خانہ جات کی اپنی ویب سائٹ پر ان کے پیغام میں احتساب، شفافیت، پیشہ ورانہ قیادت اور قیدیوں کی بحالی کو بنیادی ترجیحات قرار دیا گیا ہے۔
یہ صرف دو لاکھ روپے کا معاملہ نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ایک سپرنڈنڈنت جیل کو آخر یہ اعتماد کہاں سے ملا کہ وہ اپنے ہی محکمے کے سربراہ کی رہائش گاہ پر جا کر رشوت پیش کرے ؟ کیا اسے یہ توقع تھی کہ رقم قبول کر لی جائے گی؟ کیا اسے کسی نے یہ یقین دلایا تھا کہ ’’سب چلتا ہے‘‘؟ کیا یہ ایک نیک نام آئی جی کو بدنام کرنے کی کوشش تھی؟ جیلوں میں کرپشن کی بڑی بڑی غضب کہانیاں سامنے آتی ہیں، جیل کی چار دیواری کے اندر موجود انسان عام شہری سے کہیں زیادہ بے بس ہوتا ہے، ایک آزاد شخص کسی دفتر میں رشوت مانگنے والے اہلکار کو انکار کرسکتا ہے، افسرِ بالا سے شکایت کرسکتا ہے، میڈیا یا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے،لیکن ایک قیدی؟ اس کے پاس اختیارات محدود ہوتے ہیں، معلومات محدود ہوتی ہیں اور اکثر اوقات اس کی سب سے بڑی ضرورت ہی اس کی کمزوری بن جاتی ہے،جیلوں میں کرپشن کا ایک بڑا مسئلہ یہی ہے کہ معمول کی سہولت بھی بعض اوقات ’’احسان‘‘ بنا دی جاتی ہے، ملاقات کے لیے آسانی، گھر والوں سے اضافی ملاقات، طبی سہولت، بیرک یا جگہ کی تبدیلی، ضروری سامان کی فراہمی، کاغذات یا درخواست کی کارروائی، حتیٰ کہ بعض اوقات عدالت سے ملنے والے ریلیف کے بعد رہائی کے انتظامات تک، اگر کسی مرحلے پر غیر قانونی رقم طلب کی جائے تو قیدی اور اس کے خاندان کے پاس انکار کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔
ماضی میں پنجاب کی جیلوں سے متعلق ایسی شکایات پر کارروائیاں بھی ہوتی رہی ہیں اور ہو بھی رہی ہیں،حال ہی میں گوجرانوالہ جیل کے ایک سپرنٹنڈنٹ سمیت متعدد جیل افسروں اور اہلکاروں کے خلاف ترقیاتی منصوبے میں مبینہ رشوت اور فنڈز میں خوردبرد کا مقدمہ درج ہونے کی خبر بھی سامنے آئی ہے،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف قیدیوں سے چند ہزار یا چند لاکھ روپے وصول کرنے تک محدود نہیں اور جیل کے ترقیاتی منصوبے، خریداری، ٹھیکے، سپلائی اور انتظامی اختیارات بھی کرپشن کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔جیل میں موجود شخص ریاست کے مکمل کنٹرول میں ہوتا ہے، اس لیے جیل افسر کے پاس اختیار اور قیدی کے پاس ضرورت ہوتی ہے، جب اختیار اور ضرورت کے درمیان پیسے کا پل بن جائے تو ظلم صرف مالی نہیں رہتا، انسانی بھی بن جاتا ہے،کسی غریب قیدی کے گھر والے اگر اس سے ملنے کے لیے کئی گھنٹے سفر کرکے آئیں اور انہیں کسی غیر ضروری رکاوٹ کا سامنا ہو، تو وہ اکثر اپنے پیارے سے ملاقات کے لیے بھی پیسے دینے پر مجبور ہو سکتے ہیں، کسی بیمار قیدی کو بروقت طبی سہولت نہ ملے اور خاندان یہ سمجھے کہ پیسے دینے سے کام جلدی ہوجائے گا تو وہاں بھی استحصال کا دروازہ کھل جاتا ہے،یہی وجہ ہے کہ جیلوں میں کرپشن کو عام سرکاری دفاتر کی کرپشن سے مختلف سمجھنے کی ضرورت ہے، یہاں رشوت صرف سرکاری خزانے کو نقصان نہیں پہنچاتی، بلکہ ایک ایسے شخص کی مجبوری سے بھی فائدہ اٹھاتی ہے جو پہلے ہی آزادی سے محروم ہے۔
جیلوں کے موجودہ آئی جی میاں سالک جلال ایک سخت گیر ،ایماندار اور اصول پسند افسر ہیں،ان کا اب اصل امتحان ہے، ایک طرف یہ واقعہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کارروائی قانون کے مطابق مکمل ہو اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے کہ سپرنڈنڈنت بھرتھ ،کس کس افسر کے ساتھ تعینات رہا؟وہ اب جس رینج میں تعینات تھا وہاں کرپشن کے حالات کیا ہیں؟ اچھی بات یہ ہے کہ حالیہ معاملے میں آئی جی نے رقم قبول کرنے کے بجائے اعلیٰ حکام کو اطلاع دی، یہی وہ طرزِ عمل ہے جس سے ادارے میں ایک واضح پیغام جاتا ہے کہ رشوت کی پیشکش بھی ناقابلِ قبول ہے، تا ہم ایک افسر کی دیانت داری سے زیادہ اہم پورے نظام کا ایسا ہونا ہے جس میں رشوت پیش کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔

