پاکستانی سیاست میں مقبولیت اور قبولیت کا مقابلہ

​پاکستان کی سیاست کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ دنیا کے مہذب اور جمہوریت پسند معاشروں میں سیاست کا دوسرا نام “عوامی خدمت” ہے۔ وہاں اسی سیاستدان کو پذیرائی ملتی ہے جو حقیقی معنوں میں عوام کا خدمتگار ہو۔ وہ گراس روٹ لیول (بنیادی سطح) سے سوسائٹی میں خدمت کے ذریعے اپنا مقام بناتا ہے، پھر بلدیاتی نظام کے ذریعے تربیت حاصل کرتے ہوئے صوبائی یا وفاقی ایوانوں تک پہنچتا ہے۔ وہاں سیاست کا کل دارومدار صرف اور صرف عوامی مفاد اور کارکردگی پر ہوتا ہے۔

​اس کے برعکس، ہمارے ہاں معاملہ بالکل الٹ ہے؛ یہاں جس کے سر پر ہما بیٹھ جائے وہی سیاستدان بن جاتا ہے۔ پاکستان میں سیاست عام اور مخلص آدمی کے بس کا کھیل نہیں رہی۔ یہاں سیاستدان بننے کیلئےانسان کا پہلے صاحبِ ثروت اور مالدار ہونا ضروری ہے، یا پھر اس کی پشت پر کسی طاقتور کی آشیرباد ہونی چاہیے۔ انتخابی عمل میں داخلے کیلئے سیاسی جماعتوں کو کروڑوں روپے کے فنڈز دینے کی استطاعت درکار ہوتی ہے، اور الیکشن جیتنے کیلئے20 سے 30 کروڑ روپے کا پانی کی طرح بہانا لازمی بن چکا ہے۔ جو شخص اتنا بڑا سرمایہ صرف سیاست میں داخلے کی سیڑھی چڑھنے پر لگا دے گا، وہ ایوانوں میں پہنچ کر کسی عام آدمی کی بہتری کا کیوں سوچے گا؟

​ہمارے ہاں سیاست کو مفاد عامہ کے بجائے ایک منافع بخش “سیاسی کاروبار” بنا دیا گیا ہے، جہاں اخلاقیات اور نظریات کی کوئی وقعت نہیں۔ سیاست کی منڈی میں خرید و فروخت اور وفاداریوں کی تبدیلی کو اب معیوب ہی نہیں سمجھا جاتا۔ سیاسی جماعتیں عوام کی خدمت کے بجائے اپنی “مقبولیت” کا سودا کرتی ہیں۔ جس سیاسی جماعت کے اقتدار میں آنے کی ہوا چل پڑے، اس کے ٹکٹ مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں۔ اور جب مخالف سیاسی جماعتوں کو اپنے سیاسی کاروبار میں زک پہنچتی دکھائی دیتی ہے، تو وہ مقبول جماعت کے خلاف گرینڈ الائنس بنا کر اسے گرانے کے درپے ہو جاتی ہیں۔

​پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی واقعی مقبول سیاسی جماعت نہ تو روایتی اداروں کو قابلِ قبول ہوتی ہے اور نہ ہی متحارب سیاسی قوتوں کو ہضم ہوتی ہے۔

​ذوالفقار علی بھٹو کا دور: ہمارے سامنے پیپلزپارٹی کی مثال موجود ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو بلا شبہ ایک عوامی نمائندے تھے اور قوم ان کے بیانیے پر متحد تھی، لیکن وہ نہ اندرونی طاقتوں کو قابلِ قبول تھے اور نہ ہی بین الاقوامی قوتوں کے لیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے خلاف قومی اتحاد بنایا گیا، ملک کو انتشار کی طرف دھکیلا گیا، الیکشن ملتوی ہوئے نافرمانی کی تحریک چلی پیپلزپارٹی اور قومی اتحاد میں کئی مذاکراتی دور ہوئے لیکن بے نتیجہ بالآخر ملک کو ایک طویل اور تاریک مارشل لا کے دور سے گزرنا پڑا۔ اگر اس وقت کے سیاستدان بھٹو کے خلاف مہرہ نہ بنتے، تو زیادہ سے زیادہ بھٹو اپنی آئینی مدت پوری کر کے جمہوریت کی فطری روانی کے تحت سیاسی عمل سے فارغ ہو جاتے، اور ملک مارشل لا کے عذاب سے بچ جاتا۔

​مسلم لیگ (ن) کا سفر: 11 سال کے طویل عرصے بعد جب پیپلزپارٹی کی مقبولیت کا خوف پھر ڈرانے لگا، تو اس کا توڑ کرنے کے لیے میاں نواز شریف کو سیاسی میدان میں تیار کیا گیا۔ بعد ازاں، پیپلزپارٹی کی مقبولیت کو قابو میں لانے کے لیے بینظیر بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔ یوں پیپلزپارٹی رفتہ رفتہ مقبول کے بجائے صرف ایک “قابلِ قبول” جماعت بن کر رہ گئی۔ دوسری طرف، میاں نواز شریف جب بتدریج خود ایک بڑے لیڈر بن گئے اور دو دہائیوں بعد دو تہائی اکثریت حاصل کر کے مقبولیت کی معراج کو چھونے لگے، تو وہ بھی اقتدار کے حتمی مراکز کیلئےنا قابلِ قبول ہو گئے۔ تاہم، ان کے خاندان نے جلد ہی یہ سبق سیکھ لیا کہ سیاسی بہاریں کہاں سے پھوٹتی ہیں۔ آج ان کے پاس شاید وہ عوامی مقبولیت نہیں رہی، لیکن ان کا پورا خاندان “قبولیت” کی معراج پر ہے اور اقتدار کے مزے لوٹ رہا ہے۔

​تحریک انصاف اور عمران خان: آج کل یہی مقبولیت کا خمیازہ عمران خان کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ نہ ان کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے اور نہ ہی ان کی مشکلات اور آزمائشیں ختم ہو رہی ہیں۔ وہ خود، ان کا خاندان اور ان کی پوری جماعت اس عوامی مقبولیت کی قیمت چکا رہی ہے۔ ان کی پارٹی کے چند تجربہ کار اور سیاسی باریکیوں کو سمجھنے والے رہنما انہیں بارہا یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ: “خان صاحب! ضد چھوڑیے، اب اپنے آپ کو ‘قابلِ قبول’ بنانے کی طرف آئیں، تاکہ آپ کی اپنی جان بھی بچے اور پارٹی بھی بحران سے نکلے۔” لیکن عمران خان اسے اپنے بیانیے اور اصولوں کی توہین سمجھتے ہیں، جس کے باعث ان کے چاہنے والے بھی مسلسل امتحان سے گزر رہے ہیں۔

​دوسری جانب، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر نت نئے حربوں اور تجربات سے اس “مقبولیت کے بخار” کو اتارنے کی مشقیں جاری ہیں۔ گزشتہ کچھ سالوں میں جو کچھ ہوا، اس مقبولیت اور قبولیت کی جنگ نے پوری قوم کو سولی پر لٹکایا ہوا ہے اور معاشی و سیاسی استحکام کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ یہی اگر صبر سے کام لیا جاتا عمران خان کے خلاف عدم اعتماد نہ لایا جاتا اسے حقیقی مدت پوری کرنے دی جاتی اور عوام کو کارکردگی پر اگلے الیکشن میں فیصلہ کرنے دیا جاتا تو حالات مختلف ہوتے ہم فطری پراسس کی بجائے شارٹ کٹ سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے اثرات پھر اپنا رنگ دکھاتے ہیں

​پاکستان کا بنیادی المیہ یہ ہے کہ یہاں “عوامی مقبولیت” اور ” قبولیت” دو مخالف سمتوں میں سفر کرتی ہیں۔ جب تک کوئی رہنما صرف قبولیت کے فارمولے پر عمل پیرا رہتا ہے، وہ اقتدار کے سکھ بھوگتا ہے، لیکن جیسے ہی وہ عوامی مقبولیت کے بل بوتے پر خود مختار ہونے کی کوشش کرتا ہے، اس کے خلاف تمام سیاسی اور غیر سیاسی قوتیں متحد ہو جاتی ہیں۔

​اگر تحریک انصاف نے طاقت کے مراکز کے ساتھ مل کر کوئی درمیانی اور “قابلِ قبول” راستہ نہ نکالا، تو ملک میں جمہوریت، معیشت اور عام شہری کو کئی سالوں تک اسی غیر یقینی، سیاسی کشمکش اور اضطراب کے ماحول میں جینا پڑے گا۔ پاکستان کو اس دلدل سے نکالنے کا واحد حل یہ ہے کہ تمام سیاسی قوتیں انتقام کی سیاست چھوڑ کر “میثاقِ جمہوریت” اور “میثاقِ معیشت” پر متفق ہوں، تاکہ فیصلوں کا اختیار عوامی رائے کو مل سکے۔