پیرس(رائٹرز)فرانس نے اپنی جوہری دفاعی صلاحیت کو جدید بنانے کے سلسلے میں آبدوز سے داغے جانے والے جدید بیلسٹک میزائل ایم 51.3 کا پہلی بار کامیاب تجربہ کیا ہے۔
فرانسیسی وزارتِ دفاع کے مطابق میزائل کو جوہری آبدوز ’’لے ویژی لان‘‘ سے برٹنی کے ساحل کے قریب داغا گیا۔ میزائل میں جوہری وار ہیڈ موجود نہیں تھا اور تجربہ فرانس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے کیا گیا۔
فرانسیسی حکام کے مطابق یہ تجربہ آبدوز کی طویل مرمتی مدت کے بعد اس کے میزائل نظام کو دوبارہ عملی طور پر جانچنے اور آپریشنل صلاحیت کی تصدیق کے لیے کیا گیا۔ میزائل کی پرواز کی نگرانی فرانسیسی دفاعی اداروں نے کی جبکہ اس کا گرنے کا مقررہ مقام شمالی بحرِ اوقیانوس میں کسی بھی ساحل سے کئی سو کلومیٹر دور تھا۔
ایم 51.3 فرانس کے ایم 51 میزائل کا تیسرا جدید ورژن ہے جو اکتوبر 2025 میں عملی استعمال کے لیے شامل کیا گیا تھا۔ فرانسیسی وزارتِ دفاع کے مطابق اس میں زیادہ فاصلے تک مار کرنے، زیادہ درستگی اور میزائل شکن دفاعی نظام کو عبور کرنے کی بہتر صلاحیت شامل ہے۔
میزائل کی درست حدِ مار خفیہ رکھی گئی ہے تاہم عوامی اندازوں کے مطابق ایم 51 خاندان کے میزائل 9 ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک مار کرسکتے ہیں، جبکہ ایم 51.3 میں اس صلاحیت کو مزید بہتر بنایا گیا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جنگی بحری جہاز سے میزائل کا تجربہ دیکھا اور بعد ازاں اس کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کی جوہری دفاعی صلاحیت کی ساکھ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد رہنے کے لیے طاقتور ہونا ضروری ہے۔
یہ تجربہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین جنگ کے باعث یورپ اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور یورپی ممالک روس کی جانب سے ممکنہ فوجی اور ہائبرڈ خطرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ روسی حکام نے فرانسیسی میزائل تجربے کو یورپ کی روس مخالف پالیسی اور عسکری تیاریوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔
فرانس یورپی یونین کا واحد جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک ہے۔ اس کی جوہری دفاعی صلاحیت آبدوزوں سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کے علاوہ جنگی طیاروں سے داغے جانے والے جوہری ہتھیاروں پر بھی مشتمل ہے۔

