مانچسٹر (بی بی سی/رائٹرز)شمالی برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں یومِ کِپور کے روز ایک یہودی عبادت گاہ کے باہر چاقو زنی اور کار چڑھانے کے حملے میں 2 افراد ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے، جبکہ پولیس نے موقع پر ہی مشتبہ حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ ہیٹن پارک ہیبرو کانگریگیشن کنیسہ کے باہر پیش آیا جہاں جمعرات کی صبح 09:31 بی ایس ٹی پر ایک کار لوگوں کی طرف دوڑائی گئی اور سیکیورٹی گارڈ سمیت کئی افراد کو چاقو مارا گیا۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
گریٹر مانچسٹر پولیس نے بتایا کہ واقعے کے بعد “آپریشن پلیٹو” نافذ کر دیا گیا، جو بڑے پیمانے پر ہنگامی حالات اور دہشت گرد حملوں کے وقت اپنایا جاتا ہے۔ نارتھ ویسٹ ایمبولینس سروس نے اسے “بڑا واقعہ” قرار دیتے ہوئے بڑی تعداد میں عملہ اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ کیں۔
میئر مانچسٹر اینڈی برنہام نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ “کرمپسال کے مڈلٹن روڈ پر پیش آیا اور اب صورتحال قابو میں ہے۔” ان کے مطابق فوری خطرہ ختم ہوگیا ہے لیکن عوام کو علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ تحقیقات مکمل کی جا سکیں۔
وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “یہ حقیقت کہ یہ حملہ یومِ کپور کے موقع پر ہوا، اسے مزید ہولناک بنا دیتا ہے۔ میری دعائیں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ یورپی سربراہی اجلاس سے قبل برطانیہ واپس آئیں گے اور لندن میں ایمرجنسی کوبرا کمیٹی کی صدارت کریں گے۔
کنزرویٹو رہنما کیمی بیڈنوچ نے اس حملے کو “یہودی برادری پر ان کے سب سے مقدس دن ہونے والا شرمناک، گھناؤنا اور مکروہ حملہ” قرار دیا۔یاد رہے کہ یومِ کپور یہودی مذہبی کیلنڈر کا سب سے مقدس دن سمجھا جاتا ہے، اس روز عبادت گاہوں میں خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں اور روزہ رکھا جاتا ہے۔

