میثاق مکّہ اور پاکستان!

کوئی کافر ہی ہوگا جو میثاق مکّہ اور پاکستان کے عروج پر خوش نہیں ہوگا ،کوئی ملک دشمن ہی ہوگا جو صدیوں بعد ترکوں اور عربوں کو ملانے والے پاکستان کو داد نہ دے گا ،کوئی متعصّب ہی ہوگا جو 79 سال کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے فخریہ داخلے پر تالی نہ بجائے گا ،کوئی دشمن ہی ہوگا جو یہ تسلیم نہ کرے کہ فیلڈ مارشل نے چیف آف آرمی اسٹاف بنتے ہی مڈل ایسٹ سینٹرک (مشرق وسطیٰ پر مرکوز) جو پالیسی بنائی تھی وہ ثمر آور ثابت ہوئی ہے، وہ اندھا ہی ہو گا جو یہ نہ مانے کہ پاکستان جنوبی ایشیا کے پنجرے سے نکل کر عالمی دنیا اور بالخصوص عالم عرب میں اپنا ڈنکہ بجا رہا ہے، کوئی بہرہ ہی ہوگا جو عالم اسلام کی دو طاقتور ترین فوجوں پاکستان اور ترکی کی الحرمین شریفین کی حفاظت کیلئے تیاری کی گونج نہ سن سکے، کوئی ذہنی معذور ہی ہوگا جو عالم اسلام کے 3زیرک ترین سیاستدانوں ایم بی ایس، طیّب اردوان اور شہباز شریف کی سہ طرفہ سربراہی ملاقات کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دے۔ وہ پاکستانی اور مسلمان لازماً گونگا ہی ہوگا جو صدیوں سے موجود اسلامی اتحادکی عملی شکل کو دیکھ کرازرہِ تشکر الحمدللہ نہیں پڑھتا۔وہ لازمی لنگڑا ہوگا جسے پاکستان کی سفارتی اور دفاعی چال کی خبر نہیں ملی۔ ہروہ شخص جسے عالم اسلام کی خیر، انسانیت کی فلاح و بقا اور پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب سے محبت و عقیدت ہے وہ لازماً شاداں و فرحاں ہوگا۔

دنیا کے نامور تاریخ دان اور جغرافیہ دان متفق ہیں کہ جغرافیہ اقوام کی تقدیر میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے، اکثر اوقات ملک جغرافیے کے قیدی بن جاتے ہیں وہ اپنے خطّے کی دشمنیوں اور پڑوسیوں کی تنگ نظری سے لڑائی اور مقابلے کے چکر میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ برطانیہ جب تک اپنے جغرافیے کا قیدی رہا تو پڑوسی فرانس سے ہر وقت مقابلہ رہتا تھا، سو سالہ اس لڑائی کا ہر سال میچ پڑتا تھا برطانیہ اپنے جغرافیے کی قید سے نکلا تو دنیا کی عظیم سلطنتِ عظمیٰ برطانیہ بن گیا ، دوسری طرف فرانس صرف علاقائی طاقت کے طور پر موجود رہا ۔ پاکستان بھی اپنے جغرافیے کا قیدی بنا ہوا ہے ، اسےخودسے کئی گنا بڑے ملک بھارت کے معاندانہ رویے کا مسلسل سامنا رہا ہے اور پاکستان کو اپنے دفاع کیلئے ہر وقت تیار رہنا پڑتا ہے۔ اگر پاک بھارت جنگوں اور جھڑپوں کا شمار کیا جائے تو وہ بھی برطانیہ اور فرانس کے مابین لڑائیوں سے کم نہیں ہونگی۔ ہمارا دوسرا پڑوسی افغانستان ہے جو قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہمارے لئے دردِ سر رہا ہے ہم اس کے حلیف رہے تب بھی نقصان اٹھاتے رہے اور جب حریف ہیں تب بھی مسلسل نقصان اٹھا رہے ہیں ۔افغانستان کا کردار پاکستان کیلئے کیکر کے درخت کارہا ہے پاکستان کو ہمیشہ اپنےاس مسلم بھائی اور پڑوسی سے کانٹوں کا تحفہ ہی ملا ہے۔ ملک پاکستان، افغانستان اور بھارت کے درمیان چکّی کے دو پاٹوں کی طرح پِس رہا ہے، افغانستان نے وسطِ ایشیا تک پاکستان کے روایتی تجارتی راستے یعنی Silk Road کو بلاک کر رکھا ہے۔ جس طرح برطانیہ نے اپنی جغرافیائی قید سے چھٹکارا پایا توتبھی اُس کی دنیا بھر میں دھاک بیٹھی۔ لگ رہا ہے کہ پاکستان بھی جنوبی ایشیا کی جغرافیائی جیل توڑ کر مڈل ایسٹ کے مرکز میں جا کھڑا ہوا ہے۔ اس حوالے سے مڈل ایسٹ سینٹرک پالیسی بنانے، چلانے اور اسے کامیاب کرنے کا کریڈٹ بلا شبہ جنرل عاصم منیر کو جاتا ہے۔ جملہ معترضہ یہ ہے کہ ہماری انسانی، معاشی اور سفارتی قربانیاں، افغانستان کے پتھروں میں ضائع ہوتی رہیں، اب ہم پہلی بار پیٹرو ڈالر، سونے اور ہیرے کے پہاڑوں والے مڈل ایسٹ میں دبنگ اینٹری دے رہے ہیں پتھروں اورمینڈکوں کو تولنے والا بھی کنویں کا مینڈک ہی رہتے ہیں، اب ہم جنوبی ایشیا کے مینڈک نہیں بین الاقوامی فضا کے پرندے ہیں اگر اس پر فخر نہ کریں تو اور کیا کریں؟

پاکستان کیلئے نفسیاتی مسئلہ یہ بھی تھا جس طرح گھر کی مرغی دال برابر ہوتی ہے اسی طرح افغانستان اور بھارت نے پاکستان کی غیر معمولی صلاحیتوں،ایٹمی کامیابیوں اور حربی کارکردگیوں کو کبھی تسلیم نہیں کیا تھا،بھلا ہو صدر ٹرمپ کاجس نے پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کا ڈھنڈورا اس قدر زور سے پیٹا کہ ہماری مڈل ایسٹ سینٹرک پالیسی کو فائدہ ہوا ۔ ایران امریکہ ثالثی میں کتنی کامیابی ملی اور کتنی ناکامی، اس سے قطع نظر اس معاملے سے پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں سے، پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت کی بالغ النظری سے بین الاقوامی منظرپر ہماری حیثیت مستحکم ہوئی اور اب پاک، ترکیہ ،سعودی معاہدے سے ان منزل بہ منزل کامیابیوں پر مہر تصدیق ثبت ہو گئی ہے۔

میشاق مکّہ کی تاریخی، مذہبی اور سیاسی حیثیت بھی قابل غور ہے۔ سلطنت عثمانیہ سے عالم عرب کی علیحدگی کے بعد ترکی اور عربوں کا باہمی رویہ بیگانگی اور غیریّت کا تھا پاکستان کی وجہ سے 1800 ء سے شروع ہونے والی خلیج پاٹنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ ترکیہ اس وقت جدید ترین ڈرون اور جنگی طیارے بنا رہا ہے اس کی فوج بھی پاکستان کی طرح شاندار ماضی کی حامل ہے۔ اس میثاق سے برسوںقبل جمال الدین افغانی کا امت مسلمہ کے اتحاد کے بارے میں دیکھا گیا خواب پورا ہوا ہے گو افغانی، ایران کو اس اتحاد کیلئے اہم ترین سمجھتے تھے وہ تو اس میثاق میں شامل نہیں مگر یہ خواب کی تعبیر کی ابتداء ہے ہو سکتا ہے سنی اور شیعہ خلیج پاٹنےکیلئے ایران اور سنی دنیا میں بھی اشتراک کی کوئی صورت نکل آئے۔

جس طرح معترض بیوی کا خاوند روحانی قوت سےخواہ فضا میں اُڑ کر دکھا دے تب بھی بیوی یہ اعتراض کرتی ہے تم ٹیڑھا ٹیڑھا اڑ رہے تھے۔ اسی طرح پاکستان کی اڑان پر اعتراض کیا جا رہا ہے کہ اس کے بدلے میں پاکستان کو معاشی فوائد بھی ملیں گے یا نہیں؟ ناچیز کی رائے میں پاکستان کا معاشی مسئلہ شدید ہے مگر اس سفارتی، دفاعی اور اسٹرٹیجک کامیابی پر جشن اور خوشی معاشی فوائد سے مشروط نہیں ، وہ کھانے کے مینیو کی بڑی ڈش نہیں بلکہ سائیڈ یا سویٹ ڈش ہے معاہدے کی اہمیت کو سویٹ ڈش سےمشروط کرنا بھی تعصّب تصور کیا جائیگا۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ سعودی عرب سے معاہدے کے دوران کچھ زبانی باتیں پاکستانی معیشت کے بارے میں بھی طے نہ ہوئی ہوں۔ فی الحال تو خوشی کا موقع ہے اس بار 14اگست کا یوم آزادی ڈھول تاشوں کے ساتھ اور نعروں کی گونج میں منائیں۔