کراچی( خبر ایجنسیاں) نوجوان تاجر میر رضا علی کی ہلاکت کے کیس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ کے نتائج تصاویر اور دستیاب شواہد سے مطابقت نہیں رکھتے اور وہ اس کے بعض نتائج سے اتفاق نہیں کرتیں۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا کہ عام طور پر گولی کے خروج (ایگزٹ) کا زخم دخول (انٹری) کے زخم سے بڑا ہوتا ہے، جبکہ اس رپورٹ میں اس کے برعکس صورتحال بیان کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کی رپورٹ میں درج نتائج تصاویر سے مطابقت نہیں رکھتے اور یہی سوالات ان کے ذہن میں بھی موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے تصاویر اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا جائزہ لیا ہے، تاہم دونوں میں مطابقت نظر نہیں آتی۔ ان کے مطابق نہ پولیس سرجن کے دفتر اور نہ ہی کرائم سین یونٹ نے میر رضا علی کے ہاتھوں پر گن شاٹ ریزیڈیو (بارود کے ذرات) کا معائنہ کیا تھا۔
ڈاکٹر سمعیہ سید کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے سوالات کے جواب دینے کے بجائے مزید سوالات پیدا کر دیے ہیں اور اس سے کیس مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر پولیس ٹیم کے ساتھ اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں مزید پیش رفت پر غور کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میر رضا علی کے جسم کا بالائی حصہ نسبتاً زیادہ گل سڑ چکا تھا، جبکہ نچلے حصے میں ڈی کمپوزیشن کم تھی۔ ان کے مطابق اگر لاش کا ایک حصہ جھاڑیوں میں اور دوسرا باہر ہو تو جسم کے مختلف حصوں میں گلنے سڑنے کی رفتار مختلف ہوسکتی ہے۔
پولیس سرجن نے کہا کہ جس مقام سے میر رضا علی کی لاش ملی وہاں خون نہ ہونے کے برابر تھا۔ ان کے مطابق ایسے واقعات میں اگر خون زمین میں جذب ہو جائے تو سائنسی طریقوں سے زمین کا معائنہ اور کھدائی کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ وہاں کتنا خون گرا اور جذب ہوا۔
ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ بعض نمونے حاصل کرکے شرٹ فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دی گئی ہے، جبکہ ڈی آئی جی کو شرٹ پر گن شاٹ ریزیڈیو ٹیسٹ کرانے کی بھی درخواست کی گئی ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ جسم پر موجود نشانات تشدد کے ہیں یا لاش کے گلنے سڑنے کے عمل کا نتیجہ۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق میر رضا علی کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بعض خامیاں سامنے آئی ہیں، جس سے کیس کی تفتیش متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تصاویر میں لاش کی کمر پر گولی کا نسبتاً چھوٹا نشان جبکہ سینے پر بڑا نشان دکھائی دیتا ہے۔ تصاویر میں بائیں ہاتھ کی انگلیاں ٹوٹی ہوئی گھاس کے ساتھ مٹھی کی شکل میں بند نظر آتی ہیں، جبکہ دائیں ہاتھ پر بھی بعض مشکوک نشانات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ چہرے پر ٹھوڑی کے نیچے بھی ایک زخم دکھائی دیتا ہے۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میر رضا علی کی لاش تقریباً 24 سے 36 گھنٹے پرانی تھی۔ رپورٹ میں گولی کے دخول اور خروج کے نشانات سے متعلق بھی سوالات سامنے آئے ہیں، جبکہ تصاویر میں لاش کے پھولے ہوئے جسم اور چہرے کی خراب حالت کے پیش نظر ذرائع کا کہنا ہے کہ سر کے مزید تفصیلی معائنے سے اضافی حقائق سامنے آسکتے تھے۔
واضح رہے کہ مذکورہ نکات تفتیشی ذرائع، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور پولیس سرجن کے بیانات پر مبنی ہیں، جبکہ واقعے کی حتمی نوعیت کا تعین مکمل فرانزک تجزیے اور جاری تحقیقات کے بعد ہی کیا جائے گا۔

